ہر گھر‘ ہر دفتر کی ضرورت۔۔۔ابتدائی طبی امداد کی تربیت

335

 حفاظتی قوانین اور قواعد وضوابط انسانی تجربات کی روشنی میںبنائے جاتے ہیں لہٰذا ان پر پوری طرح سے عمل درآمد کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے ۔فرسٹ ایڈ کے حوالے سے ضروری تربیت اورمتعلقہ سامان کی فراہمی کاانتظام کسی مہم کے موقع پر ہی نہیں‘ اصولاً ہر گھر اور دفتر میں ہونا چاہیے کیونکہ ہنگامی صورتحال کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ پیش آسکتی ہے۔خالد رحمٰن کی ایک توجہ طلب تحریر

اپنی طویل پیشہ ورانہ زندگی کے تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ 25 سالہ ملازمت میں ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ انہوں نے فرسٹ ایڈ باکس ساتھ لیے بغیرکوئی دورہ کیاہو۔

پس منظر بتاتے ہوئے بولے کہ جس محکمے سے ان کا تعلق تھا‘ اس میں پہاڑی علاقوں اور جنگلات کے دورے معمول کی بات تھی۔ ایسے کسی بھی دورے میں غیرمتوقع طورپرحادثات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس لیے محکمے کے قواعدوضوابط میں یہ بات شروع سے شامل رہی ہے کہ دوروں کے دوران فرسٹ ایڈ باکس مستقل طورپراپنے ساتھ رکھا جائے۔ اس کے لیے ضروری تربیت بھی ٹیم کے کسی نہ کسی فرد کو حاصل ہوتی ہے۔جنگلات میںاور پہاڑوں پر پیدل سفرکرتے ہوئے معمول کا سامان بھی بوجھ لگتا ہے۔ ایسے میں فرسٹ ایڈ باکس کو ساتھ لے جانا نہ صرف کافی دشوار محسوس ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے چڑھائی کے سفر میں وقت بھی کچھ زیادہ لگ جاتاہے۔

معمول کے ایک دورے کاذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا :”یہ سوچتے ہوئے کہ 25سال کے عرصے میں فرسٹ ایڈ باکس ہمیشہ ہی ساتھ رہا لیکن کبھی اس کی ضرورت پیش نہیں آئی‘ اس بارہم نے قواعد کی خلاف ورزی کرلی ۔ ٹیم کے دیگر ممبران کے ساتھ اتفاق رائے سے طے پایا کہ فرسٹ ایڈ باکس راستے میں آنے والی ایک چوکی پر چھوڑ دیاجائے اور واپسی پراسے ساتھ لے لیاجائے۔

اضافی بوجھ کم ہوجانے پر چڑھائی کا پیدل سفر واقعتاً کافی آسان ہوگیا۔ موسم بھی خوشگوار تھا۔ نہ زیادہ سردی تھی نہ گرمی‘ یوں ٹیم کے سب ممبران گپ شپ کرتے دریا کے کنارے آگے بڑھ رہے تھے۔ منزل پر پہنچنے کے بعد ضروری کام مکمل ہوئے تو واپسی کاارادہ کیا۔ اسی دوران دریا کی دوسری طرف سے پتھر کا ایک ٹکڑا اُڑتا ہواآیااورسیدھا ایک ٹیم ممبر کے سرپرجالگا۔ اس کے سر سے خون کا فوارہ سانکلا اور اگلے ہی لمحے وہ چیخ مار کر بے ہوش ہوگیا۔
معلوم ہوا کہ دریا کے دوسرے کنارے پر مقامی آبادی مکانات تعمیر کرنے کے لیے مضبوط چٹانوں کو بارود کے ذریعے اڑاکر زمین ہموار کر رہی تھی۔ پتھر کا یہ ٹکڑا اسی بارودی دھماکے کے نتیجے میں اڑتا ہوا اس سمت میں آگیا تھا۔

آبادی سے دور اس پہاڑی علاقے میں کسی قسم کی طبی امداد کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ایسے میں سب ہی کو شدت سے اس بات کااحساس ہوا کہ فرسٹ ایڈ باکس ساتھ نہ لانے کا فیصلہ کرکے وہ اپنی زندگی کی انتہائی سنگین غلطی کربیٹھے تھے۔
پوری ٹیم پریشان تھی کہ اب کیاکیا جائے۔ سر کے زخم سے بہتے ہوئے خون کو روکنا بہت ضروری تھا ورنہ متاثرہ ساتھی کی جان بھی جا سکتی تھی۔ قواعد وضوابط کی دانستہ خلاف ورزی پر محکمانہ کارروائی کا بھی اندیشہ تھا لیکن اس سے بڑا مسئلہ توایک ساتھی کی جان بچانا تھا۔ اس کی ایک ہی صورت نظر آتی تھی اور وہ یہ کہ اسے جلدازجلد فرسٹ ایڈ دی جائے۔ یہ اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک واپسی چوکی تک نہ پہنچ جایا جائے‘ اور بہرحال یہ سفر آسان نہ تھا۔
اس وقت کی اپنی کیفیت کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دل ہی دل میں کوئی معجزہ رونماہوجانے کی دعا کرتے ہوئے اپنے دو ساتھیوں کو ہدایت کی کہ بے ہوش زخمی ساتھی کو اٹھائیں اور جس قدر جلد ممکن ہو چوکی کی طرف سفر کریں۔

اور پھر معجزہ ہوگیا! معلوم نہیں کس سمت سے اچانک ایک بوڑھا آدمی سامنے آگیا۔ اس نے انہیں جنگل سے کچھ جڑی بوٹیاں لاکردیں اورہدایت کی کہ انہیں پتھر سے کچل کر زخم پر باندھ دیں تو خون رک جائے گا۔
پھر ایسا ہی ہوا! پہلے خون رسنے کی مقدار میں کمی آئی اور پھر وہ بہنا بالکل ہی بند ہوگیا۔ پوری ٹیم کی جان میں جان آئی۔ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے وہ تیزی سے چوکی تک پہنچے اور اس جڑی بوٹی کوہٹائے بغیر ہی اس پر پٹی کردی ۔ یہاں سے آگے کا سفر آسان تھا‘ اس لئے کہ اب یہ گاڑیوں پرہوناتھا۔ یوں وہ جلدہی قریب ترین ہسپتال پہنچ گئے۔ یہاں مریض کو کئی بوتل خون لگایا گیا اور کچھ ہی دنوں میں وہ صحت یاب ہوگیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حفاظتی قوانین اور قواعد وضوابط انسانی تجربات کی روشنی میںبنائے جاتے ہیں لہٰذا ان پر پوری طرح سے عمل درآمد کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ فرسٹ ایڈ کے حوالے سے ضروری تربیت اورمتعلقہ سامان کی فراہمی کاانتظام کسی مہم کے موقع پر ہی نہیں‘ اصولاً ہر گھر اور دفتر میں ہونا چاہیے کیونکہ ہنگامی صورتحال کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ پیش آسکتی ہے۔