گودے کی پیوندکاری

332

    انسانی جسم ایک پیچیدہ مشین کی مانند ہے جس کا ہر پرزہ اگر صحیح کام کررہا ہو تو ٹھیک ورنہ فرد مشکل میں پڑ جاتا ہے۔ہڈیوں کو جسم کا ستون کہنا چاہئے‘ اس لئے کہ ان کے اندرایک بہت ہی قیمتی اثاثہ موجود ہے جسے گودا (bone marrow)کہا جاتا ہے ۔گودے میں باریک ٹشوز پائے جاتے ہیں جوخون کے خلئے بناتے ہیں۔اس کے خام خلیوں کو سٹیم سیلز (stem cells)کہا جاتا ہے جو بالغ ہونے پر سرخ اورسفید خلیوں کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔ خون کے سرخ خلیے پورے جسم میں آکسیجن کی فراہمی کا فریضہ انجام دیتے ‘سفید خلیے جراثیم سے لڑتے اورپلیٹ لیٹس (platelets) خون کو بہنے سے روکتے ہیں ۔

پیوندکاری اور اس کی اقسام
سرطان کی مختلف بیماریوں کی وجہ سے گودا اپنا اثر کھو دیتا ہے اور پھر متاثرہ ہڈی گودے سے خالی ہونے لگتی ہے ۔اس ہڈی میں دوبارہ گودا بنانے اور اسے کام میں لانے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لئے جدید طب میں ایک طریقہ استعمال کیا جاتاہے جسے گودے کی پیوندکاری ( بون میرو ٹرانسپلانٹ)کہا جاتا ہے۔اس طریقہ علاج میں مریض کی ہڈی کے بیمار گودے کو صحت مند گودے میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔
دنیا بھر میں یہ علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جاتا ہے:

اپنے گودے کی پیوندکاری
مریض کے جسم میں اپنے ہی سٹیم سیلز کی پیوندکاری (autotransplant) ایسا طریقہ علاج ہے جس میں اس کے اپنے صحت مند سٹم سیلزکوایک خاص مشین (apheresis) کی مدد سے خون سے الگ کر دیا جاتا ہے۔یہ مشین خون میں سے پلازما،سفید خلئے اور پلیٹ لیٹس وغیرہ کو نکالتی ہے۔
سٹم سیلز کومنفی 80ڈگری سنٹی گریڈ پر فریز کر لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مریض کی ہائی ڈوز کیمو تھیراپی کی جاتی ہے جو اس کی ہڈیوں میں موجود تمام بیمار خلیوں کو جلا دیتی ہے۔جب تمام بیمار خلیے جل جاتے ہیں تومریض کے جسم کو منجمد سٹم سیلز دوملین سیلزفی کلو گرام کے حساب سے لوٹا دیئے جاتے ہیں ۔یہ طریقہ علاج عموماً لمفوما(lymphoma) اورمائیلوما (myeloma) کینسرز میں استعمال ہوتا ہے۔

دوسرے کے گودے کی پیوندکاری
ایلو ٹرانسپلانٹ(allotransplant) کی اصطلاح میں ’ ایلو‘ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی’ دوسرے ‘کے ہیں۔یہ اصطلاح ایسی پیوندکاری کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس کے لئے صحت مند مواد کسی دوسرے فرد کے جسم سے لیا گیا ہو۔یہ عمل اس صورت میں کیا جاتا ہے جب مریض کی ہڈیاں گودے سے خالی ہوجاتی ہیں ۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے لئے عطیہ دہندہ اور وصول کنندہ کا صرف بلڈ گروپ یکساں ہونا کافی ہے۔یہ درست نہیں ‘ اس لئے کہ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لئے ایچ ایل اے (human leukocyte antigen) جینز کا ملنا بھی ضروری ہوتاہے۔انسانی جسم میںان جینز کی تعداد10 ہوتی ہے ۔اگر ڈونر کے تمام جینز مریض کے جینز سے مل جائیں تو یہ بہترین جوڑ (match)ثابت ہوتا ہے ۔اس کے لئے ڈونرز عموماً بہن یا بھائی ہوتے ہیں‘ اس لئے کہ انسان کی پیدائش کے وقت ا سے پانچ جینز ماں اور پانچ باپ کی طرف سے ملتے ہیں ۔ اس میں اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ بہن یابھائی کو جینز کاایک جیسا ہی سیٹ ملا ہو۔
دوسرا طریقہ ہاف میچ (half match) کہلاتا ہے جو پاکستان میں بہت کم استعمال کیا جاتا ہے۔ شفا انٹر نیشنل ہسپتال سمیت کچھ جگہوں میں اسے استعمال میں لایاجا رہاہے ۔یہ بہت پیچیدہ اورپرخطر ٹرانسپلانٹ تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ بہتر اس لئے ہے کہ یہ آسانی سے مل جاتا ہے اور کوئی مریض مناسب” میچ“ کی عدم دستیابی کی وجہ سے جان کی بازی نہیں ہارتا۔ یہ طریقہ عموماً تھیلسیمیا(Thalassemia)‘ سِکل سیل اینیمیا(Sickle Cell Anamia) اور خون کے سرطان(Leukemia) کے علاج میں اختیار کیا جاتا ہے ۔

بچے کی ناڑ(umbilical cord)
ایک اور طریقہ علاج جو ترقی یافتہ ممالک میں تو موجود ہے مگر یہ پاکستان میں ابھی نہیں پہنچا ۔اسے بچے کی ناڑ (umbilical cord) کی پیوندکاری کہا جاتا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں بچے کی ناڑ کوایک فالتو چیز سمجھ کر ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا جاتا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اسے محفوظ کر کے کینسر کے علاج میں استعمال میں لایا جاتا ہے ۔یہ ناڑ سٹیم سیلز کا ذخیرہ رکھتی ہے جسے محفوظ کرنے کے لئے ’کارڈ بلڈ بینک ‘ قائم کئے جاتے ہیں تاکہ انہیں مناسب ڈونر کی عدم دستیابی کی صورت میں استعمال میں لاکر متاثرہ شخص کو صحت مند زندگی کی طرف لوٹایا جا سکے ۔
امریکہ میں مختلف جگہوں پر رجسڑیز قائم ہیں جن میں اجنبی لوگ اپنے سٹیم سیلز کا عطیہ کرتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی ایسے کارڈ بلڈ بنک کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کر کے ان کو نئی زندگی دی جاسکے ۔

پیچیدگیاں
مندرجہ بالا پیوندکاریوںکے بعد مریض کو چار بڑی پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں :

انفیکشن
پیوند کاری کے دوران مریض کے مدافعتی نظام کو کمزور کیا جاتا ہے تاکہ نئے ڈالے جانے والے سٹیم سیلز کو قابل قبول بنایا جا سکے۔قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے مریض کوانفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

رد کرنا
اگرچہ اس بات کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں کہ مریض کا جسم نئے سٹیم سیلز کو قبول نہ کرے مگر ایسا ہوبھی سکتا ہے ۔

مرض کا لوٹ آنا
بعض اوقات مرض بہتری کی طرف جانے کے بعد واپس پہلی حالت میں لوٹ آتا ہے ۔یہ صورت حال ڈاکٹر اور مریض‘ دونوں کے لئے پریشانی کا باعث ہوسکتی ہے ۔

فائدے کی بجائے نقصان
گودے کی پیوندکاری میں عطیہ دہندہ (ڈونر) کے سٹیم سیلز کو پیوند ((graft جبکہ مریض کو میزبان کہا جاتا ہے ۔بعض اوقات پیوند کیا جانے والا گودا میزبان کے جسم میں آنے کے بعد اسے صحت یاب کرنے کی بجائے اس کے خلاف کام کرنا شروع کردیتا ہے۔اس سے مختلف اعضاءکو فائدے کی بجائے نقصان پہنچنا شروع ہوجاتا ہے ۔