گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم نے دیکھا پشاور

304

اسد اور نورم سے ان کے ابونے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ پہلی سہ ماہی کے امتحان میں 90 فی صد سے زیادہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو وہ انہیں گرمیوں کی چھٹیاں پشاور میں گزارنے کے لئے ان کی پھوپھی کے ہاں لے جائیں گے۔ بچوں نے اپنا کام کر دکھایا جس کے بعد وعدہ نبھانے کی باری ابو کی تھی جس کی حامی انہوں نے فوراً بھر لی۔
بچوں نے گرمیوں کے کپڑے او ر ضرورت کادیگر سامان سفری بیگ میں سلیقے سے رکھا اور ایک دن علی الصبح بذریعہ موٹروے پشاور روانہ ہو گئے۔ راستے میں ابو نے مطالعے کے لئے اسد کوایک کتابچہ دیا جس میں پشاور کے بارے میں اہم تفصیلات درج تھیں۔اس نے سوچا کہ کیوں نہ ان معلومات میں نورم کو بھی شریک کیا جائے لہٰذا وہ اسے باآواز بلند پڑھنے لگا:

”پشاور ایک قدیم شہر ہے جس کی پرانی عمارتیں ،لوگوں کے رہن سہن،کھانے پینے کے طور طریقے اور شادی وغمی کی منفرد رسمیں اسے دیگر شہروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ جب یہ شہر بنا تو اسے بیرونی حملوں سے محفوظ بنانے کے لئے اس کے گرد ایک فصیل کھینچ دی گئی تھی۔ شہر میں داخلے کے لئے مخصوص مقامات پر 16نہایت بلند دروازے بنائے گئے تھے جن میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ کے نام لاہوری دروازہ،گنج دروازہ،یکہ توت دروازہ،کوہاٹی دروازہ،سرکی دروازہ،سردچاہ دروازہ،آسیاں دروازہ اور ڈبگری دروازہ وغیرہ ہیں۔ پشاور کے اہم تاریخی مقامات میں درہ خیبر،شاہی باغ،وزیر باغ،جناح پارک، مسجدمہابت خان،پشاور جیل اور1907ءمیں قائم کردہ مشہور عجائب گھرشامل ہیں۔ یہاں کے لوگ نہایت غیور، مہمان نواز اور خوش خوراک واقع ہوئے ہیں۔“
”مجھے لفظ خوش ’خوراک‘ پر اعتراض ہے ۔ ابونے پیچھے مڑتے ہوئے کہا ۔
”اعتراض پشاوریوں پر ہے یا ان کی خوش خوراکی پر؟ نورم نے شرارتاً پوچھا۔
” پشاوریوں پر اعتراض خطرے سے خالی نہیں لہٰذا ہماری اوقات خوش خوراکی پر اعتراض تک محدود ہے …“اسد نے بھی شرارتی انداز میں لقمہ دیا۔

”خوش لباسی اچھا لباس پہننے کو کہتے ہیں۔اس وزن پر خوش خوراکی کا مطلب اچھا کھانایعنی ایسی غذا کھانا ہونا چاہئے جو صحت کے لئے اچھی ہو۔ اس کے برعکس بسیارخوری یعنی زیادہ کھانے کے لئے ’خوش خوراکی‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔زیادہ کھاناصحت کے لئے نقصان دہ ہے لہٰذا اس کے لئے’ خوش خوراکی‘ جیسا اچھالفظ استعمال نہیں ہونا چاہئے‘ ورنہ لوگوں کو خواہ مخواہ زیادہ کھانے کی ترغیب ملے گی ۔“

اسد نے ہاںکے انداز میں سر ہلایا اور وہیں سے دوبارہ پڑھنا شروع کیاجہاں سے چھوڑا تھا:
” یہاں کے مشہور پکوانوں میں چپلی کباب،سری پائے،چنا میوہ پلاو¿اور شولہ شامل ہیں ۔ قہوہ پشاور کا اہم ثقافتی مشروب ہے۔ دکان ہو یاگھر ‘یہاں لوگ اپنے مہمانوں کی اسی مشروب سے تواضع کرتے نظر آتے ہیں۔ کھانے کے بعد اس کے پینے سے خوراک جلد ہضم اور معدہ فعال ہو جاتا ہے۔ ہندکو اور پشتو پشاور کی دو بڑی علاقائی زبانیں ہیںجن کا پشاور کی تاریخ اور ثقافت پر گہرا اثر ہے۔“
”براہ مہربانی اب کوئی شخص چپلی کباب کے خلاف بات نہ کرے۔“ نورم کو یہ بہت پسند تھے اور وہ ان کے خلاف ایک لفظ نہ سننا چاہتی تھی ۔ ابو بھی دھیمے سے مسکرا دئیے۔

جیسے ہی وہ پشاور میں داخل ہوئے توشدید گرمی اور خوبصورت قلعہ بالاحصار نے انہیںنہایت تپاک سے خوش آمدید کہا۔جلدہی وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔میزبان بڑی بے چینی سے اپنے مہمانوں کے منتظر تھے۔کچھ دیر ملنے ملانے کے بعد پھوپھی نے ان کی تواضع گھرمیں خالص دودھ سے جمائے ہوئے شکر ڈلے دہی سے کی۔ان کا کہنا تھا کہ گرمی کی شدیدتپش سے بچنے کے لئے یہ تیر بہدف نسخہ ہے۔اس کے کھانے سے نہ صرف بیزاری اور سر کا بوجھل پن دور ہوجاتا ہے بلکہ طبیعت بھی بحال ہوجاتی ہے۔ اسے کھانے کے بعد سفر کی تھکن واقعتاً دور ہو گئی اور وہ بغیر سستائے گیریژن پارک جانے کے لئے تیار ہوگئے ۔
انکل ابراہیم بچوں کے پھوپھا‘ میزبان اور گائیڈ، سبھی کچھ تھے۔ انہوں نے بتایاکہ یہ پارک پشاور کا منفرد پارک ہے جہاں سیروتفریح کے شوقین خواتین و حضرات کاہروقت تانتا بندھا رہتا ہے۔یہاں نہایت مہارت سے پاکستان کا نقشہ بنایا گیاتھا جو خوبصورتی کے سامان کے علاوہ معلومات کا اہم ذریعہ بھی تھا۔ نورم اوراس کی پھوپھی زاد بہن نے ”سرکولر ویل“ نامی جھولے کی سواری اور گاڑیوں کی ریس کا لطف اٹھایاجس سے ان کی طبیعت مزید ہشاش بشاش ہو گئی۔ وہاں کچھ مور ،ہرن اور دوسرے جانور اور پرندے بھی پالے گئے تھے جو اپنی پیاری بولیوں سے سیاحوں کا دل لبھا رہے تھے۔

واپسی پر گھر آتے ہوئے وہ چوک یادگار گئے۔یہاں انہیں کچھ اتائی حضرات دیکھنے کو ملے جو غیر معروف اداروں کی طرف سے تیار کردہ ہاضمے کی پھکیاں،دانت کے درد ‘ کان کی میل سے فوری نجات اور آنکھوں کی سرخی، جلن اور چبھن دور کرنے کے لئے اکسیر قطروں کی حامل شیشیاں فروخت کر رہے تھے۔وہاں کچھ لوگ آنکھوں میں مفت قطرے بھی ڈلوا رہے تھے۔ انکل ابراہیم نے بچوں کو بتایا کہ غیر مستند اورجعلی معالجین سے پیٹ،دانت،کان اور آنکھوں کی دوا خرید کر استعمال کرنا انتہائی نقصان دہ ہے ۔مستند ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر کبھی کوئی دواستعمال نہیں کرنی چاہئے ‘ورنہ مریض کسی بڑی تکلیف میں مبتلا ہوسکتا ہے ۔

بچوں نے پشاور کا قدیم گھنٹہ گھر بازار اور تاریخی گھڑیال بھی دیکھا۔گھنٹہ گھر بازار میں بھنی ہوئی چڑیاں اور تازہ پنیر کی خریداری بھی ایک اچھا تجربہ تھاجس کے بغیر شاید یہ سفر نامکمل ہوتا۔
اگلے دن وہ انکل ابراہیم کے ساتھ پشاور کے قدیم نمک منڈی بازار میں دنبے کی کڑاہی کھانے گئے ۔ یہاں چھوٹے گوشت کی درجنوںدکانیں تھیں جن پر تکے، چانپیں اور بھنا ہوا گوشت دستیاب تھا۔ انکل نے بتایا کہ گوشت اگرچہ پروٹین اور دیگر اہم غذائی اجزاءکا اچھا ذریعہ ہے لیکن اسے زیادہ کھاناصحت بناتا نہیں بلکہ اسے خراب کرتا ہے ۔اس کے زیادہ استعمال سے شریانوں میںچکنائی کا ذخیرہ دورانِ خون میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے جس کا نتیجہ دل کی بیماریوں کی شکل میں نکلتا ہے۔ مزید براں جسم کے مختلف حصوں میں چربی کے بے ہنگم ذخیرے نہ صرف جسم کی ظاہری ہئیت کو بگاڑتے ہیں بلکہ موٹاپا بھی پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے افراد جسمانی امراض اورنفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔اس لئے مناسب مقدار میں متوازن غذااور باقاعدہ ورزش سے ہی توانا،چست اور لمبی عمرتک جوان وسڈول رہا جاسکتا ہے۔انکل چونکہ اپنی سوچ کا جیتا جاگتا عملی نمونہ تھے‘ اس لئے ان کی باتیں سیدھی دل میں اتر رہی تھیں ۔بچوں نے بھی تہیہ کرلیا کہ وہ اپنی غذا میں سبزیوں ،دالوں اور دوسری اجناس کا استعمال بڑھائیں گے تاکہ قدرت کی بخشی ہوئی صحت کی خاطر خواہ حفاظت کی جا سکے۔

اگرچہ پشاور میں گرمی بہت تھی مگر سیروتفریح کا اپنا ہی لطف تھا۔ قصہ خوانی بازار کی رونقیں اور پشاوری قلفی اور فالودے کا مزہ لاجواب تھا۔ پشاور کے بازاروں میں سیر کے دوران زیادہ تر تو یہی دیکھنے میں آیا کہ کھانے پینے کی دکانوں پراشیائے خوردونوش کومکھیوں ، مچھروںاور سڑک کی گرد سے بچانے کے لئے جالیاں اور شیشوں کے مخصوص ڈبے بنائے گئے تھے ۔تاہم بعض جگہوں مثلاً ریڑھیوں اور ٹھیلوں پر جہاں تازہ پھل، پکوڑے چپس ،چھولے اور دوسری اشیاءبرائے فروخت دستیاب تھیں‘ ایسے حفاظتی انتظامات کا فقدان تھا۔یہاں سے چیزیں خریدناپیسے خرچ کرکے بیماری خریدنے کے مترادف تھا۔ انہوں نے ایک چھولا فروش بھی دیکھا جس کے پاس گندی پلیٹیں دھونے کا مناسب انتظام بھی نہ تھا۔ وہ ایک پرانے اور گندے کپڑے سے استعمال شدہ پلیٹیں بار بار صاف کر کے ان میں چیزیں ڈال کر گاہکوں کو پیش کر رہا تھا۔ یہ رویہ اور عمل ہر لحاظ سے حفظان ِ صحت کے اصولوں کے خلاف تھا۔

جب انکل ابراہیم نے اس کی توجہ اس مضرِصحت فعل کی طرف دلائی تو نہ صرف اس نے اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کیا بلکہ آئندہ مکمل صفائی کو یقینی بنانے کا وعدہ بھی کیا۔ بظاہریہ کہنا مشکل تھا کہ وہ اس پر عمل کرے گا یا نہیںلیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا کہ وہ صحت کی خاطر نہ سہی، اپنے گاہک بچانے کے لئے اس کا خیال ضرور رکھے گا۔ اس کے اس رویے سے بچوں نے یہ سیکھا کہ اگر پیار اور شفقت سے کسی کی غلطی کی نشاندہی کی جائے تو وہ نہ صرف غور سے بات سنتا ہے بلکہ اسے سدھارنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
اچھے وقت کی بری بات یہ ہے کہ وہ زیادہ جلدی سے گزرتا ہے ۔ پشاور میں گزرا خوبصورت اور یادگار وقت بھی ایسے گزرا جس پر ”پلک جھپکتے“ کا محاورہ صادق آتا ہے ۔بچے بالآخراپنے ابو کے ساتھ اس سفر کی خوبصورت یادیں آنکھوں میں بسائے واپس اپنے گھر لوٹ آئے۔