کھجور

0

کھجور عرب ممالک کے علاوہ امریکہ‘ شمالی افریقہ اور ایشیائی ممالک میں بھی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ کیلی فورنیا کی کھجور ذائقے میں لاجواب ہے۔ بھارت میں راجستھان اور مہاراشٹر جبکہ پاکستان میں خیرپور‘ ملتان اور ڈیرہ غازی خان کی کھجور بہت مشہورہے۔

کھجور ‘ صحت پر اثرات
توانائی بڑھائے
ماہرین صحت کھجورسے روزہ افطار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں‘ اس لئے کہ تمام دن بھوکا اور پیاسا رہنے کے بعد یہ جسم کو فوری طور پر شوگر مہیا کرتی ہے۔کولا مشروبات یاانرجی ڈرنکس وغیرہ کے مقابلے میں یہ زیادہ بہتر ہے ‘ اس لئے کہ توانائی کا ذخیرہ ہونے کے علاوہ اس میں دیگر صحت بخش اجزاء بھی پائے جاتے ہیں۔جسمانی کمزوری اور خون کی کمی کے حامل افراد کے لئے اس کا استعمال مفید ہے۔اس میں پایاجانے والا فولک ایسڈ‘فولاد اور وٹامن بی کمپلیکس خون کے خلیوں کی نشوونما کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ۔وہ بچے جو صبح ناشتہ نہیں کرپاتے‘ انہیں چاہئے کہ تین سے پانچ کھجوریں کھا کر دودھ کا گلاس پی لیں۔یہ مکمل اور قوت بخش ناشتہ ہے۔

خواتین کے لئے ایک نعمت
کھجور میں قدرتی طور پر ایسے اجزاء پائے جاتے ہیںجو زچگی کے دوران زیادہ خون بہنے سے روکتے ہیں۔ بچوں کو اپنا دودھ پلانے والی خواتین اگر اپنی غذامیں کھجور اور دودھ شامل کرلیں تو نہ صرف خود صحت مند رہیں گی بلکہ ان کا دودھ بھی زیادہ آئے گا اور ان کا بچہ بھی اچھی صحت پائے گا۔ زچگی کے بعد خون کی کمی اورکمزوری جیسے مسائل روزانہ کھجور کھانے سے حل ہوجاتے ہیں۔روایتی علاج میں حاملہ خواتین کو زچگی سے پہلے چند چھوارے دودھ میں پکا کر دئیے جاتے ہیں تاکہ اس دوران انہیں تکلیف کم ہو اور ان کی توانائی بڑھ جائے۔

بہتر دماغی کارکردگی
کھجورمیںپایاجانے والا وٹامن بی 6 جسم میں دوہارمون (serotoninاورNorepinephrine) کی رطوبت کے اخراج میں مدد دیتا ہے جو موڈ کو بہتر بنانے،ذہنی دباؤ میں کمی اور زخم کے جلد مندمل کرنے میںمدد دیتے ہیں ۔
صحت مند دل
کھجورمیںموجودپوٹاشیم جسم میں برے کولیسٹرول (LDL) کی سطح کو کم کرنے اور بند شریانوں کو کھولنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کا استعمال بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے مفیدہے‘البتہ اپنے اندر پوٹاشیم کی موجودگی کے سبب گردے کے مریض اس کا استعمال کم کریں۔ اس میں شوگر کی زیادہ مقدار ہوتی ہے لہٰذا ذیابیطس کے مریض بھی انہیں کم مقدار میں کھائیں۔
نظام انہضام کی فعالیت
آج کل کی خوراک میں ریشہ دار غذائوں کا استعمال بہت کم ہوتا ہے ۔گھروں میں استعمال ہونے والا میدہ یا سفید آٹالوگوںکو دائمی قبض کے عارضے میں مبتلا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔اس سے محفوظ رہنے کے لئے کھجور کا استعمال مفید ہے ۔ ایک برطانوی جریدے (British Journal of Nutrition) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر سات کھجوریں 21دن تک کھائی جائیں تو نظام انہضام کی بے قاعدگی کو دورکیاجاسکتا ہے۔

کھائیں مگر احتیاط سے
٭ ذیابیطس کے وہ مریض جن کا شوگر لیول دوا اور ورزش سے قابو میں رہتا ہو‘ وہ دن میں دو سے تین کھجوریں کھاسکتے ہیں‘ البتہ جن کی شوگر کنٹرول میں نہ ہو وہ اپنے معالج کے مشورے کے بغیرکھجوریں مت کھائیں۔

کھجور سے روزہ افطار ‘جسم پر اثرات
ماہرین صحت کے مطابق کھجور سے روزہ افطار کرنے سے انسانی جسم پر مندرجہ ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں:
٭کھجور سے روزہ افطار کرنے سے بھوک کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے زیادہ کھانا کھانے کی طلب نہیں ہوتی ۔ اس کی بجائے اگر تلے ہوئے اور چٹ پٹے کھانوں‘پانی اور بازاری اشیاء سے پیٹ بھر لیا جائے تو بدہضمی ، پیٹ درد اور بوجھل طبیعت کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔اس کے باعث نہ صرف رمضان کی عبادات خصوصاً تراویح متاثر ہوتی ہیں بلکہ روزمرہ کی سرگرمیاں بخوبی انجام دینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

٭کھجور میں موجود شوگر دماغ اور عصبی خلیات(nerve cells) کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے ۔
٭کھجور خالی معدے میں پہنچ کر ایسی رطوبت خارج کرتی ہے جس سے معدہ آنے والی غذا کے لئے خود کو تیار کر لیتا ہے ۔
٭ کھجور جسم میں فائبر کی مقدار کو پورا کرتی ہے جس سے روزہ دار کو قبض کی شکایت نہیں ہوتی۔
٭کھجور میں پائے جانے والے معدنیات ہڈیوں کو تقویت بخشنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
٭ کھجور زود ہضم ہے اور معدے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالتی۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of