کوارگندل کا جادو

112

فریحہ فضل
پام منٹگمری(Pam Montgomery) دو مشہور کتب ”Partner Earth: A Spiritual Ecology” اور ”Plant Spirit Healing: A Guide to Working with Plant Consciousness”کی مصنفہ ہیں۔ان کا کہناہے کہ پودے ہمارے اولین استاد ہیںجن کے ساتھ ابلاغ ہمیں صحت اور سکون ہی نہیں بخشتا بلکہ اعلیٰ ترین سطح پر ضمیر کی بیداری میں بھی کردار ادا کرتا ہے ۔وہ اس موضوع پر دنیا بھر میں لیکچرز بھی دیتی ہیں۔آج کل ماہرین صحت اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ فطرت سے قریب تر زندگی ہی اصل میں صحت مند زندگی ہے۔اب توایک اور قول”Nature is the best physician” یعنی ’’فطرت سب سے اچھی ڈاکٹر‘‘بہت زیادہ مقبول ہو رہا ہے۔

مجھے مندرجہ بالا دونوں اقوال زریں ایلوویرا کے اس پودے کو دیکھ کریاد آئے جو میری خالہ جان خاص طور پرگائوں سے میرے لئے لے کر آئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت سے طبی خواص کا حامل ایسا جادووئی پودا ہے جسے ہر گھر میں ضرور ہونا چاہئے۔ ذرا تجسس ہوا تو میں نے اس پر معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انٹرنیٹ کو آج کے دور میں اللہ دین کے چراغ کی حیثیت حاصل ہے۔ میں نے اس ’’چراغ‘‘کو رگڑا تو بہت سی کارآمد معلومات ملیں۔
اس پودے کی تاریخ چار ہزار سال پرانی ہے۔ ملکوتی حسن کی مالک مصری ملکہ قلوپطرہ اپنی خوبصورتی کے نکھار کے لیے ایلوویرا استعمال کرتی تھی۔ سکندراعظم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی فوج جنگوں میں زخموں کی مرہم پٹی کے لئے ایلو ویرا جیل کا استعمال کرتی تھی۔ امریکہ کو دریافت کرنے والا عظیم جہازران کولمبس جلد ی بیماریوں کے لئے ایلوویراکا مرہم لگاتا تھا۔ وہ بحری سفر کے دوران اپنے جہاز میں اس کا پودا ضرور رکھتا تھا۔چینی طب میں بھی عہد قدیم سے ایلوویرا کو مختلف دوائوں کا حصہ بنایا جاتارہا ہے۔ انڈین جرنل آف ڈرماٹالوجی کے ایک مضمون ’’In ancient Egypt‘‘میں اسے ’’لافانی پودا‘‘ کہا گیا ہے۔ ’’ہیلتھ رینجر‘‘ کے نام سے معروف مائیک ایڈمزکا کہنا ہے کہ’’میں نے غذائیت اور بیماریوں کی روک تھام کے سلسلے میں پودوں اور جڑی بوٹیوں پر سینکڑوں مقالے پڑھے اور لکھے ہیں اور میں نے ایلوویرا کوان میں سب سے زیادہ موثر پایا ہے۔‘‘
کیو(Kew)برطانیہ میں رائل بوٹانک گارڈنز(Royal Botanic Gardens)دنیا بھر میں پودوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور نباتات پر سائنسی تحقیق کے ضمن میں سینٹرآف ایکسی لینس کا درجہ رکھتا ہے ۔اس سے وابستہ محققین کے مطابق یہ پودا اگرچہ صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے مگر اس کی مقبولیت کا گراف پچھلے چند سالوں میں تیزی سے بڑھا ہے۔ ایک سٹڈی کے مطابق اس پودے میں قدرت نے 200 سے زائد ایکٹوا مائینو ایسڈز ‘وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹ رکھے ہیں۔ اس کا گودا جوجیلی کی شکل کا ہوتا ہے‘ بہت فائدہ مند چیز ہے۔

ایلوویرا کے پتے تقریباً تین سال کے عرصے میں اس قابل ہوجاتے ہیں کہ ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ اس مرحلے پر وہ دو بنیادی چیزیں جیل اور عرق فراہم کرتے ہیں۔ ’’ایلو‘‘صاف، جیلی نما مواد ہے جو پتے کے اندورنی حصے میں پایا جاتا ہے۔ خوبصورتی بڑھانے والی اکثر مصنوعات مثلا صابن، لوشنز اور کریمز وغیرہ میں اس کا استعمال کیاجاتا ہے۔ زرد رنگ کا یہ عرق پتے کے نیچے سے حاصل ہوتا ہے جو مختلف ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔
منفرد خصوصیات
ایلوویرا کی طبی خصوصیات اتنی ہیں جو مجموعی طور پر کسی ایک ادویاتی پودے (medicinal plant) میں نہیں پائی جاتیں۔ اسی وجہ سے اسے حیران کن پودا (wonder plant) بھی کہا جاتا ہے ۔
جذب کی صلاحیت:
اس پودے کی یہ خاصیت ہے کہ یہ بہت تیزی سے انسانی جلد کی تہوں میں جذب ہوجاتا ہے۔
جراثیم کش :
اس کے جیل میں تما م طرح کے جراثیم مثلاً بیکٹیریا،وائرس اور پھپھوندی کی افزائش کو روکنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔یہ مختلف الرجیزمیں استعمال ہوتا ہے اورزخموں یا جلی ہوئی جلد پر لگانے سے فوراً آرام آتا ہے۔ اس کے متواتر استعمال سے پرانے زخم بھی جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ جراثیم کش خصوصیات کی بنا پر یہ چہرے کے دانوں اور کیل‘ مہاسوں کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔

سن بلاک
ایلوویرا جیل جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے محفوظ رکھنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مضر اثرات مثلاً رنگ خراب ہونے، اور جلد پر پڑنے والے دھبوں اورجھریوں سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بہترین میک اپ ریمور کا کام بھی کرتا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہر نباتیات ڈاکٹر راحیلہ کہتی ہیں کہ اس کے گودے کا استعمال جلدکی لچک میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ سر کی جلد کے لئے بہت مفید ہے اوربالوں کو نئی زندگی دیتا ہے۔ اس کے گودے کو آنکھوں کے نیچے لگانے سے حلقے ختم ہوتے ہیں۔ یہ جسم پر جلے ہوئے نشانات کو ختم کرتا ہے۔ دوران حمل پڑنے والے نشانات ‘ یہاں تک کہ بعد از زچگی نشانات کو بھی ہلکا کر دیتا ہے۔ایلوویرا اور ناریل کا تیل ملا کر لگانے سے چہرے کو تازگی ملتی ہے۔
درد سے نجات دلانا
اگر اس کے جیل کو درد والی جگہ پر لگایا جائے تو یہ اعصاب اور پٹھوںکے کھچاؤ کو کم کر کے دردکو سکون میں بدل دیتا ہے۔
فاسد مادوں کا خاتمہ
ایلوویراجیل میں امینو ایسڈ، وٹامنز اور معدنیات کے علاوہ ایسے اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جو جسم سے فاسد اور غیر ضروری مادوںکے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے جسم فعال، توانا اور بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
مسوڑھوں اور دانتوں کی حفاظت کے لئے یہ انتہائی موثر ہے۔ اس کی قبض کشا خصوصیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کا گودا شوگر کی وجہ سے ہونے والے زخموں کو بھرنے میں بھی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ وزن کم کرنے کے لئے اگر ایلوویرا اور انگور کے رس کو ملا کر پیا جائے تو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہماری نانی جوڑوں اورکمر دردکے لئے بھی اس کا حلوہ بناتی تھی ۔
احتیاطیں
ایلوویرا کے استعمال میں کچھ احتیاطیں لازمی ہیں۔ مثال کے طور پر کوارگندل کے رس کو دوران حمل یا دوران رضاعت(بچوں کو اپنا دودھ پلانا) ہرگز استعمال مت کریں۔ کسی بھی قسم کی سرجری سے پہلے‘ دوران اورفوراً بعد اس کے استعمال سے گریز کریں۔ کسی مخصوص مقصد کے لئے استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ کر لیں‘ اس لئے کہ ضروری نہیں ہر چیز ہر فرد کے لئے فائدہ مند ہی ہو۔
قدرت نے ہم پر اپنی نعمتوں کے لازوال خزانوںکے در کھولے ہیں مگر کم ہی لوگ ان کی قدر کرتے ہیں۔ ہم مہنگی مہنگی ادویات پر تو لاکھوں لگا سکتے ہیں مگر قدرت کے اس بیش بہا خزانے سے مستفید نہیں ہوتے۔ میں نے تو گھر میں ایلوویرا کا پودا لگا لیا ہے۔ آپ بھی اسے لگائیے اور اس کے گوناں گوں فوائد سے بہرہ مند ہوئیے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of