کان سے ہی نہیں کان کی بھی سنئے

1

السلام علیکم قارئین کرام!میں آپ سب کو’’ آرگن ٹاک‘‘ میں خوش آمدید کہتی ہوں۔کیسے ہیں آپ لوگ؟، کیا کہا کہ آواز نہیں آ رہی… ؟‘‘ بھئی ! آپ کان اِدھر لگائیں گے تو آواز آئے گی ناں ۔ اب میں آپ سے یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ اپنے کان صاف کرائیں‘ اس لئے کہ وہ تو پہلے سے صاف ستھرے نظر آ رہے ہیں۔

بھئی ! میری آخری بات پر آپ سب کے کان کیو ں کھڑے ہوگئے ہیں؟ کیا کروں‘ اس کے بغیر بات ہی کہاں بنتی ہے ۔کچھ لوگوںکے کانوں پر تو ابھی تک جوں تک نہیں رینگ رہی اور وہ میری بات سننے کی بجائے اب بھی آپس میں محوگفتگوہیں۔ چلئے! میں اب آپ کے مزید کان نہیں کھانا چاہتی اور دعوت دیتی ہوں، تالیوں کی گونج میں آج کے آرگن ٹاک شو کے مہمان جناب’’کان جی ‘‘ کو…۔ آیئے ملتے ہیں ان سے اور کرتے ہیں ان سے کچھ مزے مزے کی اور معلوماتی باتیں۔

٭السلام علیکم کان جی!کیسے ہیں آپ؟
٭٭میں بالکل ٹھیک ہوں‘ بلکہ ہم دونوں ٹھیک ہیں ۔ آپ کیسی ہیں؟
٭میں بھی ٹھیک ہوں۔سب سے پہلے اپنا تعارف تو کروائیں؟
٭٭میں‘ جیسا کہ آپ نے کہا‘ کان ہوں اور اپنے جڑواں ساتھی کے ساتھ ہر وقت آپ کی خدمت کرتارہتا ہوں۔اس وقت بھی ہماری ہی مدد سے لوگ آپ کی پیاری پیاری باتیں سن رہے ہیں۔ ہماری وجہ سے وہ تلاوت‘ نعتیں اورگیت وغیرہ سنتے ہیں۔ بچوں کی قلقاریاں‘ چڑیوں کی چہچہاہٹ‘ کوئل کی کوک ہمارے ہی دم سے آپ تک پہنچتی ہے ۔ مزے کی بات یہ کہ سننے کے علاوہ بھی ہم کچھ ایسے کام کرتے ہیں جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں گے۔

٭ اچھا، مثلاً…؟
٭ہم جسمانی توازن برقرار رکھنے میں بھی آپ کی مدد کرتے ہیں۔ ریسیپٹرز(receptors ) اعصابی نظام کے وہ خلیے ہیںجوجلد کے علاوہ ہمارے اندرونی حصے میںبھی موجود ہوتے ہیں۔ ان میں انفیکشن کی صورت میںآپ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتے اورآپ کاسر چکرانے لگتا (vertigo)ہے ۔ اس لیے جسم کے دوسرے اعضاء کی طرح ہماری مناسب دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔
٭چلئے! یہ بتائیے کہ آپ سے متعلق کون سی بیماریاں زیادہ عام ہیں؟
٭٭ہم سے متعلق جو مسائل زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، ان میں بہرہ پن،کان میں دردیا سوجن ، ریشہ ،پیپ یا خون کا آنا اور ہم میں غیرمعمولی آوازوں یا شور کا آنا شامل ہیں۔ اسی طرح ہماری کسی بیماری کی وجہ سے لقوہ بھی ہوسکتا ہے اور بیماری زیادہ بگڑنے کی صورت میں دماغ کی جھلی کی سوش ہو سکتی ہے یا اس میں پیپ بن سکتی ہے۔

٭ آپ کو شور کیوں پسند نہیں ؟
٭٭ اس لئے کہ بہرے پن کی ایک اہم وجہ زیادہ عرصہ تک شور والی جگہ پر رہنا یا کام کرنا ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ شور زدہ جگہ پر رہنے یا مسلسل تیز آواز یںسننے سے اندرونی کان کے خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ شور جتنا زیادہ ہوگا ‘بہرہ پن اتنا جلدی اور زیادہ ہوگا۔
٭ کن لوگوں میں بہرے پن کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟
٭٭ بہرے پن کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ شور کی وجہ سے اس کا شکار ہونے والوں میں زیادہ ٹریفک والے علاقے میں رہنے یا کام کرنے والے لوگ مثلاً دکاندار اور مزدور ، ریلوے سٹیشن کے قریب رہنے والے لوگ‘ ٹریفک ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار، بھاری مشینری کے ساتھ کام کرنے والے لوگ یا زیادہ شور والی گاڑیوں، ریلوے انجنوں اورآ ٹو رکشہ کے ڈرائیورحضرات،ٹیکسٹائل ملزاور پرنٹنگ پریس میں کام کرنے والا عملہ اس فہرست میں شامل ہیں۔
٭شور سے بچاؤ کے لیے آپ کچھ ٹپس ہی بتادیں۔
٭٭شور کے برے اثرات سے بچنے کا سب سے اچھا طریقہ شور کو پیدا ہونے سے روکنا ہے۔ اس کے لیے مشینری کی با قاعدہ دیکھ بھال کی جانی چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو‘کم شور والے آلات ، مشینری یا گاڑیاں استعمال کی جانی چاہئیں۔ اگرفیکٹریوں وغیرہ میں شور کو کم نہ کیا جا سکے تو پھر وہاں کام کرنے والوں کے اوقات کار اس طرح سے بنائے جائیں کہ انہیں زیادہ دیر تک وہاںنہ رہنا پڑے۔ اگر ان کا وہاںرہنا ضروری ہو تو کانوں پر کن پوش (ear muffs)یا اس طرح کی کوئی دوسری چیزپہن لیں تاکہ ہم میں شور کم جائے۔

٭یہ بتائیں کہ آپ میں میل پیدا کیوں ہوتی ہے؟
٭٭ہماری بیرونی نالی میں کچھ غدود اس کا باعث بنتے ہیں۔یہ دراصل پسینہ بنانے والے غدودوں کی ہی ایک شکل ہے جو مسلسل اپنی رطوبت خارج کر تے رہتے ہیں۔ کان کی بیرونی نالی کی جھلی کے فالتو خلیے اس رطویت کے ساتھ مل کر موم کی طرح کا مواد بنا دیتے ہیں۔ اسے ہماری میل (wax) کہتے ہیں۔ اس سے خاص قسم کی بو نکلتی ہے جس کی وجہ سے چھوٹے کیڑے ہم میں داخل نہیں ہوتے۔ یوں یہ ایک فائدہ مند چیز بھی ہے۔

٭ کیا یہ نقصان دہ نہیں ہے ؟
٭٭عام طور پر یہ میل خود بخود ہم سے باہر گرتا رہتا ہے لیکن بعض اوقات یہ ہم میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے کوئی تکلیف تو نہیں ہوتی لیکن بعض لوگوں کو اس سے کم سنائی دیتا ہے یا کبھی کبھی ہم میں درد ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں ہماری صفائی کرنا اور میل نکالنا ضروری ہوجاتا ہے لیکن تنکے یاکاٹن بڈز (cotton buds)کی مدد سے خود میل نکالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ورنہ ہم زخمی ہوسکتے ہیں یاہم میں پھپھوندی(fungus) لگ سکتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ ای این ٹی سپیشلسٹ یعنی کانوں کے ڈاکٹر کے پاس جاناچاہیے۔

٭ آپ کادرد دور کرنے کے لئے ہمیں کیاکرنا چاہیے؟
٭٭اگر ڈاکٹر تک پہنچنے میں دیر ہو تو پھر دردختم کرنے کی دوا کھائی جا سکتی ہے لیکن اسے عادت نہیں بنانا چاہئے۔ مجھ میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی چیز نہیں ڈالنی چاہئے ۔ہمیں درد ہو تو اکثرنانیاں اور دادیاں مختلف چیزیں مثلاً دودھ ، تیل میں لہسن یا گندم وغیرہ جلا کرہم میںڈالتی ہیں ۔ یہ بالکل غلط ہے اور ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مجھ میں کوئی کیڑا یا پتنگا وغیرہ چلا جائے تواس صورت میں پانی کے چند قطرے ڈال دیں۔ اس سے وہ مر جائے گا اور تکلیف ختم ہوجائے گی لیکن کچھ غیرمعمولی محسوس ہو تو ڈاکٹر کو ضرور دکھانا چاہیے۔

٭اگرآپ میں کوئی چیز پھنس جائے تو…؟
٭٭بعض اوقات بچے ہم میں چھلی کا دانہ، سکہ یا کھلونا پستول کی گولی وغیرہ پھنسا لیتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ اسے خود نکالنے کی کوشش نہ کریں ورنہ وہ مزید آگے چلی جائے گی۔ آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں، وہ مخصوص اوزارکی مدد سے اسے باآسانی نکال لے گا۔
٭ آپ کی صفائی اور دیکھ بھال کیسے کرنی چاہیے؟
٭٭عمومی طور پرہمیں صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی‘ اس لئے کہ قدرت خود ہمارا خیال رکھتی ہے۔ تاہم اگر مجھے تکلیف ہو اور اس کی وجہ مجھ میں میل، ریشہ یا کوئی دیگر شے ہو تو میری صفائی ضرور کروائیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص آلہ سماعت استعمال کرتا ہے تو وہ وقتاً فوقتاً ڈاکٹر سے اس کی صفائی کرائے۔مجھ میں تنکا، سوئی یا بالوں کی پن وغیرہ مت ماریں ورنہ میرا پردہ پھٹ سکتا ہے اور آپ سننے سے محروم ہو سکتے ہیں۔مجھے درد کی صورت میںخود علاجی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آپ کا علاج میرے لیے تکلیف کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

٭بہت بہت شکریہ کان جی کہ آپ نے اتنی اچھی گفتگوکی۔آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔
قارئین کرام! امید ہے کہ آپ کوبھی اپنے کان کا انٹرویو پسند آیا ہوگا اورآپ کو اس سے کافی معلومات ملی ہوںگی۔ اگلے پروگرام میں ہم ’’معدے ‘‘ کے ساتھ حاضر ہوںگے۔ اگر آپ کو بھی اپنے معدے سے کچھ پوچھنا ہو تو اپنے سوالات بذریعہ خط، فون، ای میل یا فیس بک ہمیں لکھ بھیجئے۔ یہ بھی بتائیے گا کہ آپ کو یہ سلسلہ کیسا لگا اور اسے مزید کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of