ڈائٹ پلان ناکام کیوں

14

آج کل لوگوں کی خاصی بڑی تعداد اپنے وزن اور خوراک کے حوالے سے غلط یا صحیح‘ فکرمند رہتی ہے اور انہیں مناسب حد میں رکھنے کے لئے مناسب حد تک تگ و دو بھی کرتی ہے۔ اس کے لئے بعض لوگ ڈائیٹ پلان بناتے، بنواتے اور پھر اسے ناقابل عمل قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینکتے نظر آتے ہیں۔ لوگوںکی زبانی اس طرح کے جملے اکثر سننے میں آتے ہیں کہ ’’بہت کوشش کرکے دیکھ لی لیکن بڑھا ہواوزن کسی طور کم نہیں ہوتا۔‘‘

برطانیہ میں ’’ایلپرو ‘‘ نامی کمپنی کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ اپنے لئے خوراک اور ورزش کا چارٹ بناتے ہیں‘ ان میں سے ہر پانچ میں سے دو افراد پہلے ہی ہفتے میں اسے چھوڑ دیتے ہیں‘ ایک فرد ایک مہینے تک اس پر چل پاتا ہے جبکہ باقی متفرق دورانیوں کے لئے اس پر عمل کر پاتے ہیں۔یوں یہ معمول اکتا دینے والا اور ناکام ثابت ہوتا ہے اور لوگ جلد ہی پہلی ڈگر پر واپس آ جاتے ہیں۔

آئیے ان عوامل پر غور کرتے ہیں جو ڈائیٹ پلان کی ناکامی کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ اس مشکل سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔
ڈائٹنگ… غلط تصور‘ غلط عمل
بد قسمتی سے ہمارے ہاں ڈائٹنگ کی اصطلاح محض بھوک برداشت کرنے کے لئے ہی استعمال ہوتی ہے۔اس میں بالعموم کسی ماہر غذائیات کے مشورے کے بغیرمحض سنی سنائی باتوں کے مطابق پلان تیار کر لیا جاتا ہے جو مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتا۔

اس ناکامی کا پہلا سبب تو یہ ہے کہ اچانک یو ٹرن مشکل ہوتا ہے یعنی ہم یک لخت دو روٹیوں سے ایک سیب پر نہیں آ سکتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایسی ڈائٹنگ‘ موڈ کے غیرمعمولی اتار چڑھائو، سردرد، ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ، چڑچڑے پن اور بدہضمی کا سبب بن جاتی ہے لہٰذا لوگ اسے جلد ہی ترک کر دیتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے لئے بھوکا رہنے کی نہیں بلکہ متوازن مقدار میں متوازن اور صحت بخش خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ’’نہ تو بہت کم، نہ ہی بہت زیادہ‘‘ کی حکمت عملی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ کے لئے موزوں ترین خوراک کیا ہو‘ اس کا فیصلہ ماہرغذائیات پر چھوڑنا زیادہ بہتر ہے۔

بے وقت کی بھوک
کھانے کی طلب ان اوقات میں زیادہ ہوتی ہے جب آپ فارغ ہوتے ہیں۔ رات کے وقت جب سو نے لگے ہوں‘ فریج کی طرف بھاگنا اور کچھ بھی اٹھا کر کھانے لگنا یا ٹی وی دیکھتے ہوئے چپس کے پیکٹ ڈھونڈنا اس کی چند مثالیں ہیں۔ اس عادت سے چھٹکارے کے لئے خود کو کسی اورسرگرمی میں مصروف رکھنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔بے وقت کی بھوک مٹانے کے لئے کم کیلوریز والے کھانوں مثلاً ًسوپ، جو کا دلیہ اور میو ہ جات وغیرہ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

سماجی دبائو قبول مت کریں
’’ہمیں وزن کم کرنے کی ضرورت نہیں، ہم ایسے ہی ٹھیک لگتے ہیں۔‘‘ یا’’ زیادہ نخرے نہ کرو اور یہ ڈش کھائو۔‘‘ایسے جملے دعوتوں‘ تقریبات یا تہواروں میں اکثرسننے کو ملتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں غیرصحت بخش کھانے سے انکار کرنے والا سب کی نظروں میں مذاق بن جاتا ہے۔ یوں فرد خود کو یہ کہہ کر مطمئن کرلیتا ہے کہ آج کھا لیتاہوں‘ بعد میں ڈائٹ والے معمول پر واپس چلا جائوں گا، لیکن عموماً اس پر لوٹنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔

ہمارا عمومی مشاہدہ ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی خاص کھانے سے الرجی ہو تو وہ سماجی دبائو کو خاطر میں لائے بغیراسے کھانے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ اس طرح کے دبائو سے نپٹنا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ ہم کوئی چیز کھائیں،نہ کھائیں یا کم کھائیں، اس سے کسی کو فرق نہیں پڑے گا۔ اس لئے اپنی فکر خود کرنی چاہیے اور بے احتیاطی ہو جائے توپھر کسی فعال سرگرمی مثلاًکرکٹ وغیرہ میں لازماً شریک ہونا چاہئے۔

پریشانیوں کا کردار
پریشانی کی صورت میں کبھی بھوک اڑ جاتی ہے تو کبھی زیادہ بھی لگنے لگتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ذہنی دبائو کی صورت میں بھوک کنٹرول کرنے والے ہارمونز بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح ایسی کیفیات میں لوگوں کے کھانے پینے کی روٹین خراب ہو جاتی ہے اورجب ایک دفعہ اس میں خلل آجائے تو دوبارہ اس پر لوٹنا مشکل ہو جاتاہے۔ ایسے افراد کو نفسیاتی کونسلنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہیں چاہئے کہ اپنے آس پاس زیادہ کیلوریز والی اور پروسیسڈ فوڈ نہ رکھیں۔ اس کی بجائے وہاں کھانے کی ایسی چیزیں رکھیں جنہیں کھانے سے پیٹ بھی بھرا ہوا محسوس ہو اور وزن بھی نہ بڑھے۔

وزن کی سوئی ایک جگہ رک جانا
وزن کم کرنے کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب لوگوں کاوزن ایک جگہ پر رک جاتا ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود وہ مزید کم نہیں ہوتا۔ ڈائیٹ پلان پر مسلسل عمل اور اس کے صحت مند اثرات سے لطف اندوز ہونے کے لئے کاوشوں میں ہم آہنگی اورفرد کا جذباتی طور پر مستحکم ہونا بے حد ضروری ہے۔ جس طرح وزن دو چار دنوں میں نہیں بڑھ جاتا‘ اسی طرح اس کو کم کرنے کا بھی کوئی جادوئی طریقہ موجود نہیں۔ وزن کابتدریج کم ہوناہی بہتر ہے۔

اگر آپ اپنا وزن مناسب حد میں رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا پائیدار حل صحت مند طرززندگی اختیار کرنا ہے۔ اس طرح کے لائف سٹائل میں کھانوں اور جسمانی سرگرمیوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ہمیںوہی کھانے کھانے چاہئیںجو نہ صرف صحت بخش ہوں بلکہ ہماری روزانہ کی جسمانی سرگرمیوں کے مطابق بھی ہوں۔سرگرمیوں میں کمی بیشی کے مطابق کھانوں میں بھی ردوبدل ہوسکتاہے۔

اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پسند کو اچانک بدلنا مشکل ہوتا ہے۔ جب آپ کا دل کسی لذیذ چیز کو اور زیادہ مقدار میں کھانے کو چاہے تو خود کو یاد دلائیں کہ اس ذائقے کا مزہ‘چست نظر آنے کے مزے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یوں بڑے فائدے کے لئے چھوٹی قربانی دینا آپ کے لئے آسان ہو جائے گا۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of