• Home
  • امراض
  • ڈائلیسز زندگی لیتا نہیں, دیتا ہے

ڈائلیسز زندگی لیتا نہیں, دیتا ہے

304

ارشد کو گردوں کی تکلیف کافی عرصے سے تھی۔ آخرکار وہ علاج کے لئے گوجرانوالہ سے شفا انٹرنیشنل اسلام آباد آگئے۔میں (ڈاکٹر سعیدخواجہ) نے ٹیسٹوں کی رپورٹیں دیکھنے کے بعد انہیں بتایا کہ ان کے دونوں گردے ناکارہ ہو چکے ہیںلہٰذا انہیںاب ڈائلیسز کرواناپڑے گا۔وہ اس کانام سنتے ہی پریشان ہو گئے اور یہ کروانے سے صاف انکار کر دیا۔اس پر میں نے انہیں واضح لفظوں میں بتا دیا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے اور ڈائیلسز ہی اس کا حل ہے۔لیکن وہ نہ مانے اور واپس چلے گئے۔
تقریباً ایک ماہ بعد انہیں کوما کی حالت میں دوبارہ لاےا گیا۔ان کا فوراً ڈائلیسز کیا گیاجس کے بعد وہ ہوش میں آگئے وہ کہنے لگے کہ بہت سالوں کے بعد میں خود کوبہتر محسوس کر رہا ہوں۔ڈائلیسز سے انکار کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے کسی نے گاو¿ںمیں بتاےا تھا کہ اس کا عمل شروع ہوتے ہی ایک زور دار جھٹکا لگتا ہے۔اگر انسان وہ جھٹکا سہہ لے تو بچ جاتا ہے ورنہ اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میںڈائلیسزکے بارے میں کس قدر غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو اس کا نام سن ایسے گھبرا جاتے ہیں جیسے انہیں موت کا پیغام سنا دیا گیا ہو۔
جب کسی کے گردے فیل ہو جائیں تو اسے ڈائلیسز کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔یہ عمل کرنے والی مشین کو آپ مصنوعی گردہ سمجھ لیں جو قدرتی گردے کی طرح خون کو فاضل مادوں سے پاک کرتا ہے۔اگر ایسا نہ کیاجائے تومریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ عمل زندگی لیتا نہیں بلکہ دیتاہے۔
ڈائلیسز سے نہ صر ف زندگی بچتی ہے بلکہ مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔وہ جسمانی مشقت کے علاوہ ہر طرح کا کام یا ملازمت کر سکتا ہے۔ ایسے مریض بھی ہیں جو 35سال سے ڈائلیسز کروا رہے ہیں اور نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔
ڈائلیسز کی اقسام
ڈائلیسز کی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں:
٭پیریٹونیل ڈائلیسز(peritoneal dialysis)
٭ہیمو ڈائلیسز(hemo dialysis)
پیریٹونیل ڈائلیسز:
گردے کی بیماری کے آخری مراحل میں فاضل مواد اور جسم کے فالتو پانی کوپیٹ کے ذریعے نکالنے کے عمل کو پیریٹونیل ڈائلیسزکہتے ہیں۔سرجری کے ذریعے پیٹ میں ایک نالی لگا دی جاتی ہے جس کے ذریعے دن میں چار مرتبہ تقریباً دو لیٹر ڈائلیسز مائع پیٹ میں داخل کیا جاتا ہے۔اس سے زہریلا مواد ہر چھے گھنٹے بعد نکالا جاتا ہے۔یہ عمل ماہرڈاکٹر سے سیکھنے کے بعد گھر پر بھی کیا جا سکتا ہے اوریہ زیادہ تکلیف دہ بھی نہیںہے۔تاہم اس کے لےے مکمل تربیت اور صفائی کا خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انفیکشن سے بچا جا سکے۔
یہ بہت مفید تکنیک ہے لیکن بد قسمتی سے کچھ زیادہ مقبول نہیں‘ اس لئے کہ بہت کم ڈاکٹراس میں مہارت رکھتے ہیں۔ اسے نہ سیکھنے کی کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ نئی ٹیکنالوجی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں اس عمل کو قدیم جان کر نظرانداز کیا جاتا ہے ۔دوسری وجہ مادی فوائد ہیں ۔ ڈاکٹروں کو اس سے چونکہ آمدن نہیں ہوتی، اس لئے وہ اسے ترویج نہیں دیتے ۔اگر وہ لوگوں کو اس کا طریقہ سکھا دیں تو وہ گھر پرہی یہ کر لیں گے اور انہیں ہسپتال آنے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔
ہیمو ڈائلیسز:
گردے کی بیماری کے آخری مراحل میں مصنوعی مشین کے ذریعے خون سے فاضل مواد اور فالتو پانی نکالنے کے عمل کو ہیمو ڈائلیسز کہتے ہیں۔ یہ عمل دنیابھر میں مقبول ہے۔اگر معیاری جگہ سے یہ نہ کرایا جائے تو انفیکشن اور ہیپاٹائیٹس بی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں عموماً مریض کا ہفتے میں دو مرتبہ ڈائلیسز کیا جاتا ہے۔ایسے مریضوں کے مختلف ٹیسٹ کےے جاتے ہیں اوران کے وزن کو بھی جانچا جاتا ہے۔اگر مریض کو کوئی انفیکشن ہو جائے توفوراً دواو¿ں سے اسے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
دواو¿ں کا استعمال
ڈائلیسز کے مریضوں کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹر کی طرف سے تجویز کی جانے والی دوائیں ضرور استعمال کریں ۔ان میں خون کی کمی ہوجاتی ہے لہٰذا انہیں کچھ آئرن سپلیمنٹ بھی دئےے جاتے ہیں۔اسی طرح دواو¿ں کی مدد سے کیلشیم اور فاسفورس کا توازن بر قرار رکھنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔کیونکہ کیلشیم کم ہونے سے فاسفورس کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور فریکچر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اینٹی بائیوٹکس اور پین کلرز کا زیادہ استعمال گردوں کے لئے نقصان دہ ہے لہٰذا ان کے بے جا استعمال سے پر ہیز کرناچاہےے۔شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اس معاملے میں خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
خوراک
ڈائلیسز کے مریضوں کو پروٹین والی غذائیں مثلاً گوشت ، چکن اور مچھلی وغیرہ کھانے کا مشورہ دیا جاتاہے۔انہیںکیلا،مالٹا، کینو اور کھجوریں کھانے سے پرہیز کرنا چاہےے، اس لئے کہ ان میں پوٹاشیم وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ اگر اس کی مقدارزیادہ ہو جائے تو دل پربرے اثرات مرتب کرتی ہے ۔گردے زائد پوٹاشیم کو جسم سے نکال دیتے ہیں لیکن ان کے فیل ہونے کے بعد یہ کام نہیں ہو پاتا۔
اخراجات
ایک دفعہ ڈائلیسز کی فیس تقریباً 5000سے 6000 روپے ہے ۔ہفتے میں دو بارکی لاگت 10سے 12ہزار اور ایک مہینے کا خرچ 45سے 50ہزار ہے۔ ہمارے ہاں غربت عام ہے اورہر کوئی اس کے اخراجات برداشت نہیںکر سکتا۔ایسے میں لوگ سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں یا کوئی مخیر فرد ان کی مدد کر دیتا ہے۔وہ لوگ زکوٰة فنڈسے مدد لے سکتے ہیں۔ بہت پہلے حکومت نے ڈائلیسز کے مریضوں کے لےے کارڈ جاری کےے گئے تھے جن پر ان کامفت یا کم قیمت پر علاج کیا جاتا تھا۔بعد میں یہ سکیم بندہو گئی۔اگر اس طرح کی کوئی سکیم پھر شروع کی جائے تو مستحق افراد کو بہت فائدہ ہو گا۔
نارمل زندگی گزاریں
ڈائلیسز کے مریض خود کو مستقل بیمار سمجھنے لگتے ہیں۔وہ کام کاج چھوڑ دیتے ہیں اور چار پائی پکڑ لیتے ہیں۔ انہیں چاہےے کہ متحرک رہےں، ملازمت کریں،سیر و تفریح کو اپنے معمول میں شامل کریں اور فیملی کو وقت دیں۔ مریض بن کر چارپائی پر پڑ ے رہنا ان کی صحت کے لےے مضر ہے۔
صحت مند طرز زندگی اپنا کرگردے کی بیماریوں سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے ۔ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض خصوصی احتیاط کریں ، اس لئے کہ یہ گردوں کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ عام لوگوں کو چاہےے کہ اپنا وزن بڑھنے نہ دیں،چہل قدمی کو معمول میں شامل کریں اور ہر چیز اعتدال میں کھائیں ۔اگر ان کی فیملی میں شوگر، بلڈ پریشر یا گردے کی بیماری موجودہو تو اپنا معائنہ کراتے رہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x