چکن گونیا چکن نہیں، مچھرذمہ دار

175

پاکستان میں ہر کچھ عرصے کے بعد ایک نئی بیماری سامنے آکر لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔ ڈینگی اور کانگووائرس کے بعد اب ’چکن گونیا ‘ کی باری ہے جس نے کراچی میں نمودار ہو کر وہاں کے ہی نہیں‘ ملک بھر کے لوگوں میں شدید تشویس پیدا کی ہے ۔زیر نظر انٹرویو میں ماہر متعدی امراض ڈاکٹر الطاف احمد اس مرض کی نوعیت‘ پھیلنے کے ذرائع اور بچاو¿کی تدابیر پر اہم معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ آپ ایم ایم آئی ڈی ایس پی(Microbiology & Infectious Diseases Society of Pakistan )کے سابق صدرہیں اور اس وقت انڈس ہسپتال کراچی میں اپنے شعبے کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔(انٹر ویو: محمدزاہد ایوبی)


٭’چکن گونیا‘ نامی مرض کی وجہ سے چند ماہ پہلے کراچی میں بالخصوص اور ملک کے دیگر حصوں میں بالعموم خاصا خوف و ہراس پھیلا۔ شفانیوز کے قارئین کو بتائیے کہ یہ مرض اصل میں ہے کیا؟
٭٭چکن گونیا (Chikungunya)کے لفظ میں چونکہ لفظ ”چکن“ آتا ہے، اس لئے کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ یہ مرض چکن کی وجہ سے ہوتا ہے‘ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ یہ وائرس سے ہونے والی بیماری ہے جو مچھروں کے ذریعے لگتی اور پھیلتی ہے۔ اس مرض کا آغاز1950ءمیں افریقہ سے ہوا جو بعد میں انڈیااور جنوب مشرقی ایشیاءمیں بھی پھیل گیا۔ پاکستان میں یہ مرض پہلے موجود نہیں تھا یا آپ یوں کہہ لیں کہ اس کی شناخت نہیں ہوپائی، اس لئے کہ ہمارے پاس اس کی تشخیصی سہولیات بہت محدود ہیں ۔ اس سال کراچی میں اس کے مریض خاصی بڑی تعداد میں سامنے آئے اور یہ صحیح ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں میںخاصی تشویش پیدا ہوئی۔
٭کیا یہ ایک جان لیوا مرض ہے؟
٭٭بہت چھوٹے بچوں‘ ضعیف العمر لوگوں یا ایسے مریضوں کے لئے یہ مرض جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے جن میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت انتہائی کمزور ہو۔ تاہم عام حالات میں یہ مرض جان لیوا ہرگز نہیں۔ اس مرض کی دو بڑی علامات ہیں جن میں سے ایک جوڑوں میں شدید درد ہونا اور دوسری بخار ہے۔ جوڑوں میں درد بعض اوقات اتنا شدید ہوتا ہے کہ فرد کے لئے کھڑا ہونا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ڈینگی بخار میں بعض اوقات خون بہتا ہے لیکن اس کے برعکس اس مرض میں ایسا نہیں ہوتا۔
٭اگر یہ مرض جان لیوا نہیں تو پھر اس سے اتنا خوف کیوں پھیلا؟
٭٭یہ ایک نیا وائرس تھااور جب کوئی بیماری نئی ہوتو اس کے بارے میں تشویش پیدا ہونا فطری بات ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو اچانک جوڑوں میں درد اور اس کے ساتھ شدید بخار بھی ہو جائے تو وہ پریشان تو ہوگا۔ اس مرض کا نام بھی عجیب سا تھا جس نے لوگوں کو ڈرا دیا۔ اس کا ایک اور سبب یہ تھا کہ لوگوں کو پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ یہ مرض کیسے لگتا اورپھیلتا ہے۔ این آئی ایچ (National Institute of Health)اسلام آباد نے اس پر بڑا اچھا کام کیا۔ اس نے کراچی میں اپنی ٹیم بھیجی، نمونے اکٹھے کئے اور ان کا ٹیسٹ کیا تو مرض سامنے آگیا۔ جب اصل مرض سامنے آگیا تو اس کا وہ خوف بھی نہ رہاجس کا شروع میں لوگ شکار ہوئے تھے۔
٭کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دانستگی یا نادانستگی میں میڈیا نے بھی اس کا غیرضروری خوف پیدا کیا؟
٭٭نہیں‘ میں ایسا نہیں سمجھتا۔ شروع میں جب اس مرض کا کچھ پتا ہی نہ چل رہا تھا تو یقیناً یہ ایک بڑی خبر تھی اور میڈیا نے اسے صحیح طور پر اجاگر کیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو شاید کوئی اس طرف دھیان ہی نہ دیتا۔ میڈیا کی بدولت یہ مسئلہ ابھر کر سامنے آیا جس سے لوگوں کو فائدہ ہوا۔
٭یہ بتائیے کہ اس مرض کا علاج کیا ہے؟
٭٭ اس مرض کا فی الحال کوئی علاج نہیں اور جو علاج اس وقت ہسپتالوں میں ہو رہا ہے‘ وہ محض اس کی علامتوں کو ختم کرنے یعنی جوڑوںکے درد اور بخار وغیرہ کی دوائیں دینے تک محدود ہے۔ اگر کسی کو یہ مرض ہو جائے تو اسے چاہئے کہ پانی زیادہ سے زیادہ پئے‘ اس لئے کہ بعض اوقات اس سے بھی وائرس خارج ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
٭ڈینگی بخار کی صورت میں ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ پیناڈول لے لینی چاہئے لیکن اسپرین بالکل نہیں لینا چاہئے ۔ کیا یہ احتیاط چکن گونیامیں بھی کرنی چاہئے ؟
٭٭نہیں‘اس میں اس طرح کی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی۔
٭یہ بتائیے کہ کیا یہ مرض ہر طرح کے مچھر سے پھیلتا ہے یا کوئی مخصوص مچھر اس کا سبب بنتا ہے؟
٭٭یہ مرض ایڈیس ایجیپٹائی(Aedes aegypti) اور ”ایڈیس ایلبوپکٹس(Aedes albopictus) نامی مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وہی سفیددھاریوں والے مچھر ہیں جو ڈینگی بخار کا سبب بنتے ہیں۔
٭پہلے یہ مرض یہاں موجود نہیں تھا۔ اب ایسا کیا ہوا کہ اسے یہاں قدم جمانے کا موقع مل گیا؟
٭٭ وائرس کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ جو فرد‘ جانور یا خوردبینی جاندار وائرس کو لئے پھررہا ہو اوراسے آگے منتقل کر سکتا ہو‘ تکنیکی زبان میں اسے ویکٹر(vector) کہا جاتا ہے۔ متعدی بیماری پھیلنے کے لئے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں اس مرض کا ویکٹر موجود تھا لہٰذا اسے پھیلنے کا موقع مل گیا۔ دنیا بھر میں لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک شہر سے دوسرے شہر تک سفر کرتے ہیں۔ یقیناً یہاں بھی کچھ لوگ ایسے آئے ہوں گے جن کے جسموں میں یہ وائرس موجود تھا۔ہمارے ہاں اکثر شہروں میں صفائی ستھرائی کا انتظام زیادہ اچھا نہیں لہٰذا یہاںمچھروں کو پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ وائرس جب ایک دفعہ کسی ملک میں پہنچ جائے تو پھر اتنی آسانی سے نہیں جاتا۔
٭چکن گونیااورڈینگی کا باعث بننے والا مچھر تو صاف پانی پر بیٹھتا ہے۔ کیااس تناظر میں صفائی ستھرائی کی بات غیرمتعلق نہیں ہو جاتی؟
٭٭آپ کی بات درست ہے کہ یہ صاف پانی کا مچھر ہے لیکن گندا پانی بھی جب کھڑا ہوتا ہے تو اس کی اوپر والی تہہ صاف ہی ہوتی ہے جس پر یہ مچھر پل بڑھ سکتا ہے۔ اس لئے ہمیں آلودہ پانی کے علاوہ گھروں میں صاف پانی کو بھی ڈھکے بغیر نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس مرض سے بچاﺅ کے لئے ضروری ہے کہ گرمیوں میں رات کو سوتے وقت مچھردانیاں استعمال کریں یا جسم کے کھلے حصوں پر مچھربھگاﺅ لوشن استعمال کریں‘ پورے بازوﺅں والے کپڑے پہنیں اور گھروں کے اندر اور باہر پانی جمع نہ ہونے دیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ مچھر مار سپرے کو موثر بنائے۔
٭کیا گھروں میں کمروں کے دروازوں اور کھڑکیوں پر جالیاں لگوانا بھی مفید ہے؟
٭٭ گھروں میں جالیاں لگوانی چاہئیں لیکن بعض لوگوں کو اس سے الجھن ہوتی ہے ‘ اس لئے کہ وہ مچھروں کے ساتھ ساتھ ہوا کو بھی اندر آنے سے روکتی ہیں۔ اس پر خرچ بھی آتا ہے جو لوگوں کو اضافی بوجھ لگتا ہے لہٰذا وہ اس سے اجتناب کرتے ہیں۔ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں گردوغبار بہت ہوتا ہے جس کی وجہ سے جالیوں کے سوراخ بند ہوجاتے ہیں۔ میں نے کہیں پڑھا کہ افریقہ میں ایسی جالیاں بھی ملتی ہیں جو پردوںکی شکل میں دروازوں اور کھڑکیوں پر لٹکا دی جاتی ہیں۔ ان پردوں پر مچھربھگاﺅ ادویات لگی ہوتی ہیں لہٰذا مچھر ان کے قریب آتے ہی مر جاتے ہےں۔یہ ادویات دو سے تین سال تک موثر رہتی ہیں ۔پاکستان میں بھی ایسی مچھردانیاں بِک رہی ہوتی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیاجاتا ہے کہ ان پر مچھر مار سپرے کیا گیاہے۔ اب معلوم نہیں کہ وہ کتنی موثر ہیں۔ سری لنکا میں ٹیلی ویژن بنانے والی ایک کمپنی ہر ٹی وی سیٹ کے ساتھ ایسی ڈیوائس دیتی ہے جس سے مخصوص لہریں نکل کر مچھروں کو مار دیتی ہیں۔ ہمیں بھی اس سلسلے میں ریسرچ اور اختراعات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔
٭ہمارے ہاں ہر کچھ عرصے بعد کوئی نیامرض سر اٹھا لیتا ہے۔ کوئی ایک ایسی بات بتائیے جس پر عمل کر کے ہم زیادہ تر بیماریوں سے بچ سکیں۔
٭٭ہمیںچاہئے کہ انفیکشن کنٹرول پراپنی توجہ مرکوز کریں۔ہمیں ہسپتالوں اور کمیونٹی“ دونوں سطحوں پراس کی روک تھام کی کوششیں کرنا ہوں گی۔ اس سلسلے میں میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس موضوع پر خبریں چلائی جائیں اور ٹاک شوز منعقد کئے جائیں۔ یہاں بہت سی نرسوں حتیٰ کہ ڈاکٹروں کو بھی اس سے متعلق معلومات نہیں ہیں۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ متعدی امراض پرایک انسٹی ٹیوٹ یا کالج بنائے جس میں نرسوں اور ڈاکٹروں کی تربیت کا انتظام کیا جائے ۔میں گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان نرسنگ کونسل سے کہہ رہا ہوں کہ اس پر کوئی ڈپلومہ شروع کریں لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ اگر ہم نرسوں کو ایجوکیٹ نہیں کریں گے تو وہ انفیکشن کوموثر طور پر نہیں روک پائیں گی اورنہ ہی اس اہم پیغام کوآگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر پائیں گی۔
٭کچھ خبروں کے مطابق راولپنڈی اوراسلام آباد میں بھی ایک شخص میں اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہاں اس مرض کو روکنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟
٭٭اس کا حامل وائرس کسی طرح یہاں پہنچ گیاہوگا۔ہمیں اس وائرس کو ہر سطح پر روکنا ہوگا۔ ابھی کچھ عرصہ قبل میں دبئی گیا تو متحدہ عرب امارات کے جہاز میں ایک ایئر ہوسٹس کو دیکھا جو پورے جہاز میں سپرے کررہی تھی تاکہ دیگر ممالک سے جراثیم ان کے ملک میں داخل نہ ہونے پائیں ۔ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ جب کوئی بیماری اچانک سر اٹھاتی ہے تو ساری حکومتی مشینری حرکت میں آجاتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر کام کریں تاکہ ہمیں اچانک پریشان کن صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صدیوں پرانی کہاوت ’پرہیز علاج سے بہتر‘ آج بھی ہمارا رہنما اصول ہونا چاہئے اور اسے ہماری حکمت عملی میں نمایاں جگہ دینی چاہئے۔ اگر دیگر صوبوں اور شہروں میں یہ مرض نہیں پھیلا تو ان کی حکومت اور انتظامیہ کو چاہئے کہ اس موقع کو غنیمت جانیں اور ایسے اقدامات کریں جن سے یہ بیماری ان تک نہ پہنچ سکے۔ پرہیز پر ہم جتنی توجہ دیں گے‘ ہمارے حق میں اتنا ہی بہتر ہوگا۔
٭پنجاب کی سطح پر ڈینگی کو تعلیمی نصاب میں بھی شامل کیا گیاہے۔ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
٭٭ صحت سے متعلق معلومات کو نصاب کا حصہ بنانا احسن اقدام ہے لیکن ہر نئی بیماری کو اس میں شامل کرنا مشکل ہوگا۔ اس لئے صرف جامع اوردیرپا چیزوں کو ہی اس مقصدکے لئے منتخب کرنا چاہئے۔ایجوکیشن بورڈ اور ہیلتھ ڈپارٹمنٹ آپس میں مل بیٹھیں اور دیکھیں کہ کون سی ایسی چیزیں ہیں جنہیں اس میں شامل کرنا مفید ہوگا ۔فلپائن میں ”ہاتھ دھونے“ کے باب کوتعلیمی نصاب میں شامل کیا گیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔پیٹ سمیت بہت سی بیماریاں اس میں بداحتیاطی سے پھیلتی ہیں لہٰذا اسے شامل کرنابہت فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اس موضوع پر بچوں کو کچھ بتایا جائے تو وہ غور سے سنتے ہیں اور پھر اس کا اثر تادیر ان کے ذہنوں پر رہتا ہے۔
٭کہا جاتا ہے کہ اگر ایک دفعہ ڈینگی ہوجائے تو اگلی دفعہ اس سے تحفظ مل جاتا ہے۔ کیا چکن گونیا کی صورت میں بھی ایسا ہی ہے؟
٭٭ یہ بات درست ہے‘ اس لئے کہ ایک دفعہ یہ مرض ہوجائے تو متعلقہ فرد کے جسم میں اس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہوجاتی ہیں جو اگلی دفعہ اسے اس مرض کے حملے سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
٭آخرمیں آپ قارئین یا دیگر متعلقہ افراد کو کیاپیغام دینا چاہیں گے؟
٭٭میں یہ کہنا چاہوں گا کہ چکن گونیا یا دیگر متعدی بیماریوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ آج اگر یہ بیماری آئی ہے جو جان لیوا نہیں تو کل خدانخواستہ کوئی ایسی بیماری آ سکتی ہے جو جان لیوا بھی ہو۔ ایبولا کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ اگر اس کے ایک یادو کیس یہاں آ گئے اور مرض پھیل گیا تو ہم کیاکریں گے۔ ہمارے پاس نہ ڈائگناسٹک سنٹرز ہےں، نہ ٹریننگ ہے اور نہ ہی ریسرچ کا کوئی موثر نظام ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں متعدی امراض اور انفیکشن کنٹرول (centres for communicable diseases and infection control) کے مراکز قائم ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ متعدی امراض کی شرح اچھی خاصی ہے‘ اس لئے ان کی روک تھام کے لئے وفاقی سطح پر ایک ادارہ قائم ہونا چاہئے جس کی تمام صوبوں میں شاخیں ہوں۔ اگر اسے نظرانداز کیا گیا تو خدانخواستہ کسی وقت ان امراض سے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts