چکا چوند میں چھپی تاریکی

211

شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کے انکشافات بہت سوں کے لیے حیرت کا باعث تھے۔
ٹی وی پروگرام میں میزبانی کے فرائض انجام دینے کے علاوہ وہ ایک نہیں کئی مشہور ڈرامہ سیریلز میںکام کرچکی تھیں۔ مزیدبرآں انہیں بڑی اسکرین پر کام کرنے کا بھی موقع ملا تھا۔یوں ان کے پاس شہرت، دولت اور عزت کی بظاہر کوئی کمی نہیں تھی تاہم اپنے انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اس ساری چمک دمک کے باوجود وہ اندرونی طورپر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں اور طویل عرصے تک ایک نفسیاتی مرض بائی پولر ڈِس آرڈر(bipolar disorder) میں مبتلارہیں۔اس بیماری میں مبتلا لوگ ذہنی طورپرغیرمعمولی اتارچڑھاﺅ کا شکار ہوتے ہیں۔ کبھی انہیں شدید ڈپریشن کا دورہ پڑتا ہے تو کبھی اس کے برعکس بالکل جنونی ساانداز اختیار کرلیتے ہیں۔ اس طرح دونوں انتہاﺅں پر رہنے کی وجہ سے ان کی زندگی اور روزمرہ کی سرگرمیاں متاثرہوتی ہےں۔

خاتون کے بقول ان کی اس کیفیت کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب انہوں نے خودکشی کا ارادہ کر لیا۔
پھر وہ صحت یاب کیسے ہوئیں؟سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بیرون ملک علاج کے طویل مراحل سے گزریں جس کے دوران انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات بھی ترک کیے رکھیں:
”اس دوران مجھے کونسلنگ کے ساتھ ساتھ مراقبہ (meditation) کرنے، گہرائی میں جاکر اپنی شخصیت کا تجزیہ (soul searching)کرنے اور یوں خوداحتسابی کا بھی موقع ملا۔ اس سارے عمل نے مجھے اپنے آپ کو پہچاننے میں مدد دی۔ اب میں اپنے آپ کو بہتر طورپر سمجھتی ہوں اور جانتی ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کہاں پہنچنا ہے؟“
زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو‘ اتار چڑھاﺅ آتے ہی رہتے ہیں لیکن شوبز کی دنیا میں جہاں ہر طرف روشنیوں کی چکاچوند ہوتی ہے‘ بہت سے تاریک پہلو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ تاہم کبھی کبھار سامنے آنے والا ایک آدھ واقعہ اس دنیاکے بہت سے ایسے پہلوﺅں کو نمایاں کردیتا ہے۔ شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ خواتین وحضرات نے حال ہی میں ‘Me Too’ کے عنوان سے جن تجربات کا اظہار کیا ہے‘ ان سے بھی اس صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے۔
ڈپریشن‘ جنونی کیفیت میں مبتلا ہونے اور خودکشی تک کا ارادہ کرنے والی یہ واحد اداکارہ نہیں بلکہ ایسے کئی واقعا ت وقتاً فوقتاً ذرائع ابلاغ کی زینت بنے جن کے مطابق شوبز سے تعلق رکھنے والے نمایاں اور کامیاب ترین افراد نے بھی ذہنی دباﺅ سے تنگ آکرخودکشی کی یا اس کا ارادہ کیا ۔ مذکورہ بالاخاتون کو وقت پر راہنمائی مل گئی اور یوں وہ اپنے ارادے سے باز آگئیں ۔

اپنے تجربات کی روشنی میں انہوں نے ڈپریشن میں مبتلا لوگوں کے لیے، خواہ وہ کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں، کئی مفید مشورے بھی دیے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ذہنی دباﺅ اور اس سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس بارے میں کسی سے مدد لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرناچاہیے۔ بہت سے لوگ نفسیاتی امراض کی صورت میں سائیکاٹرسٹ کے پاس جانے سے ہچکچاتے ہیں جس کی ایک وجہ ان کا یہ خوف ہوتاہے کہ انہیں کہیں پاگل نہ سمجھ لیا جائے ۔ان کے بقول :” میں یہ سب باتیں اس لیے کررہی ہوں کہ ہمیں ہرذہنی مرض کو پاگل پن نہیں سمجھنا چاہیے۔“دوسری جانب مریض کے لواحقین کے لیے مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بروقت توجہ اور سب سے بڑھ کر قریبی عزیزوں کی جانب سے محبت اور اس کابھرپور اظہار علاج کے عمل میں غیرمعمولی طورپراثرانداز ہوتا ہے۔
آج کی دنیا میں لوگوںکی بڑی تعداد ذہنی دباﺅ کے ماحول میں زندگی گزاررہی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی شخص‘ حتیٰ کہ بچے بھی ”بائی پولر ڈس آرڈر“ کا شکار ہوسکتے ہےں۔ اپنے تجربات کی روشنی میں والدین کو مشورہ دیتے ہوئے خاتون کا کہنا ہے کہ بچوں سے ہر صورت میں اعلیٰ ترین کارکردگی اوربہترین طرزعمل کی خواہش اور توقع درست نہیں ہے۔ انہیں چاہئے کہ بچوں کو ایمانداری اورسچائی کی تربیت دینے کے ساتھ ان کی یہ تربیت بھی کریں کہ وہ اپنے آپ کو”جو ہیں،جیسے ہیں‘ ‘ کی بنیاد پر قبول کرنا سیکھیں۔