پودوں سے الرجی

254

پودوں کی موجودگی نہ صرف کسی جگہ کو خوبصورت اور وہاں کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہے بلکہ انسانی مزاج اور ذہنی و جسمانی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ان کی اسی اہمیت کے پیش نظر شفانیوز میں ایک مستقل سلسلہ مضامین شروع کیا گیا ہے جس میں امور باغبانی کے ماہر (Horticulturist) نوید اقبال گھروں میں پودے اگانے اور ان کی دیکھ بھال سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس ماہ ان سے گھروں میں موجود الرجی پیدا کرنے والے پودوں کے موضوع پرگفتگو ہوئی جسےصباحت نسیم نے قلمبند کیاہے
جولائی کے اختتام اور اگست کے آغازپر موسم کچھ عجیب طرح سے کروٹ لیتا ہے ۔ ایک طرف تیز چبھتی ہوئی دھوپ ہمیں پریشان کئے ہوتی ہے تو دوسری طرف حبس ایسا کہ پسینہ خشک ہونے میں ہی نہیں آتا۔ ایسے میں جب بارش ہوتی ہے تو موسم بہتر ہو جاتا ہے اور جہاں انسانوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں‘ وہاں چرند پرندکی بھی جان میں جان آتی ہے۔ جب پودوں پر بارش کی شکل میں پانی کی بوندیں پڑتی ہےں تو وہ بھی تروتازہ ہو جاتے ہیں اور ہر طرف ہریالی پھیل جاتی ہے۔
ہریالی ہر ایک کو اچھی لگتی ہے لیکن کچھ لوگوں کو اس سے الرجی بھی ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی ناک میں ورم اور سوجن، ناک اور آنکھوں سے پانی بہنے، چھینکیں آنے، ناک بند ہوجانے اور ناک میں کھجلی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولن الرجی اتنی زیادہ ہے کہ اس کے مہینوں میں ایک مکعب مربع میٹرفضامیںپولن کی تعداد 30,000تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کو الرجی کے تناظر میں دنیا کا دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے ۔
اسلام آباد میں پولن الرجی زیادہ ہونے کا سبب یہاں لگائے گئے کچھ درخت ہیں جن کے پولن وزن میں ہلکے اور مقدار میں بہت زیادہ ہوتے ہےں ۔یہ درخت بہت بلند و بالا ہیں لہٰذا کیڑے مکوڑے اور شہد کی مکھیاں اتنی اونچائی پر جاکر ان کا پولن حاصل نہیں کرپاتیں۔ ایسے میں پولن کے پھیلاو¿میں اہم کردار ہواادا کرتی ہے جو انہیں پوری فضاءمیں بکھیر دیتی ہے۔ جب لوگ اس فضاءمیں سانس لیتے ہیں تو یہ پولن ان کے جسموں میں داخل ہوکر الرجی کا باعث بنتے ہیں۔یہ بہت سایہ دار اور جلدی پھلنے پھولنے والے درخت ہیں جن کے بیج آسٹریلیا سے لاکر جہازوںکے ذریعے اسلام آباد میں بکھیرے گئے ۔یہ خودرو درخت ہیں لہٰذا اب انہیں ختم کرنا بہت مشکل ہے۔
ان درختوں کے علاوہ کچھ ایسے پودے بھی ہیں جو خوبصورتی میں اضافے کے لئے گھروں کے باغیچوں میں بہت شوق سے لگائے جاتے ہیں لیکن وہ الرجی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح کچھ پودے الرجی کا باعث نہیں بنتے لیکن انہیں غلط طور پراس کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے ۔ان پودوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
پھولدار پودے
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پھولدار پودے الرجی کا سبب بنتے ہیں‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پولن وزن میں بھاری ہوتے ہےں اور آسانی سے فضاءمیں بکھر کر معلق نہیں رہ سکتا۔ ان کے پولن کو دوسرے پودوں تک پھیلانے میں شہد کی مکھیاں اور دیگر حشرات الارض اہم کردار ادا کرتے ہیں‘ اس لئے ان کی وجہ سے الرجی کم ہوتی ہے۔ البتہ ان پودوں کے پھولوں کو ناک کے قریب لے جا کر سونگھا جائے تو وہ الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لئے جن لوگوں کو پولن الرجی ہو‘ وہ ان سے ذرا سے دور رہیں اور اگرانہیں سونگھنا ہو توکم از کم 10سنٹی میٹر کا فاصلہ ضرور رکھیں۔
جنگلی جھاڑیاں
گھروں کے باغیچوں میں شوق سے لگائے جانے والے بعض پودوں مثلاً گلاب،گیندا، گل داو¿دی اورگل نرگس کا شمار گھروں میں لگائی جانے والی جنگلی جھاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ یہ باغیچوں کو خوبصورتی بخشنے کے ساتھ ساتھ گھروں کو خوشبودار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں‘ تاہم سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو چاہئے کہ انہیں گھر میں لگانے سے اجتناب کریں۔
پھلدار درخت
پھلدار درختوں کے پولن بھی وزنی ہوتے ہےں اور انہیں بھی شہد کی مکھیاں اور کیڑے ہی پھیلاتے ہیں۔ ان کے پولن کی پیداوار بھی کم ہوتی ہے لہٰذا ان سے الرجی ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔
سبزیاں
بیل دار سبزیوں کے گروپ کو کیوکربِٹس (cucurbits) کہاجاتا ہے۔اگر ان کی تعداد زیادہ ہو گی تو ان پر پھول بھی زیادہ لگیں گے اور نتیجتاً پولن بھی زیادہ ہوں گے۔اس حصے میں کام کرنے والوں کو الرجی کی شکایت ہو سکتی ہے لہٰذا اس دوران ماسک وغیرہ ضرور استعمال کریں۔
جنگلی گھاس
یہ گھروں میں عام لگائی جانے والی گھاس ہے جس پر پھول لگتے ہیں۔ ان پھولوں میں سے پولن کے ساتھ باریک ٹشوز بھی نمودار ہوتے ہیں جو الرجی کا باعث بنتے ہیں۔ اس کا علاج یہی ہے کہ برسات آنے سے پہلے اس گھاس کی کٹائی کر دیں تاکہ ان پر پھول نہ اگ سکیں۔ایسے میں ان سے الرجی نہیں ہو گی۔
 الرجی سے بچاو‘ مگر کیسے
٭اگر آپ کو پولن الرجی کی شکاےت ہو تو بہار اور برسات کے موسم مےں پھولوں اور پودوں والی جگہ سے دور رہےں اور اس موسم مےں فلٹر والا ماسک ضرور استعمال کرےں۔
٭رات کو سونے سے اےک گھنٹہ پہلے ناک کو اچھی طرح سے دھو ئےں ۔
٭ دوران سفرالرجی کی ادوےات اپنے ساتھ رکھےں۔
٭اگر پولن الرجی کے موسم میں آپ کی آ ّنکھوں سے پانی آتا ہو توکانٹیکٹ لےنز کی بجائے دھوپ کا چشمہ استعمال کرےں۔
٭پولن الرجی کے دوران چھینکیں آئیں تو گیلے رومال سے اپنا منہ اور ناک اچھی طرح صاف کر لیں تاکہ تکلیف دینے والے پولن رومال سے لگ جائیں۔
٭باغیچے میں جاتے وقت فلٹر ماسک اور دستانوں کااستعمال لازماًکریں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تعارف میں ایک ” نور“

پودوں کی موجودگی نہ صرف کسی جگہ کو خوبصورت اور وہاں کے م