پریشانی سے بچنے کے لئے آپ کیا کرتے ہیں ؟

126

”آپ کیا کہتے ہےں؟ ‘ ‘ کے عنوان سے کالم آپ کا ہے اور آپ کےلئے ہے ۔اس میں ان موضوعات پر بات کی جاتی ہے جن کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ کی صحت سے ہوتا ہے۔ ا س مشق کا مقصد آپ کی توجہ زندگی کے اُن پہلوﺅں کی طرف دلانا ہے جن کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتاہے۔ادارہ ہر ماہ ایک موضوع کا انتخاب کرتا ہے جس پر آپ اپنی رائے ٹےلی فون، ای میل‘خط ےا فیس بک کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔ اس ماہ”ذہنی انتشاریا پریشانی سے بچنے کے لئے آپ کیا کرتے ہیں ‘کے موضوع پر چند خواتین و حضرات کی رائے آپ تک پہنچائی جارہی ہے۔ اگلے شمارے کے لئے”پیٹ میں درد ہو تو آپ کیا کرتے ہیں؟“کے حوالے سے اپنی آراءشفانےوز کو بھےج سکتے ہےں۔
________________________________________________________________________________________________________
دانش خان کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ ذہنی انتشار یا پریشانی میں مبتلا ہوں تو کیا کرتے ہیں۔ ان کا جواب کچھ اس طرح سے تھا:
” میرے خیال میں جب بھی کسی شخص کو پریشانی کا سامنا ہو تو اس سے چھٹکارا پانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعا مانگے۔ یقین مانیں کہ جب اس شخص کی آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں تو اس کی تمام پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس معاملے میں میرا چلن بھی یہی ہے۔ بعض اوقات کسی دوست کودل کا حال بتا دیتا ہوں۔ اس سے بھی میر ی پریشانی کم ہو جاتی ہے۔“
منڈی بہاوالدین کی صدف پروین اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہتی ہیں:
”ایسی کیفیت میں پریشان ہونے کی بجائے حوصلے اور صبر سے کام لیتے ہوئے پریشانی کی نوعیت کے مطابق اس کا حل تلاش کرتی ہوں ۔ اس سے میرے اکثر مسئلے حل ہو جاتے ہیں اور مےں ذہنی انتشار سے بچ جاتی ہوں۔“
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی فریدہ درانی کہتی ہیں:
” میں ایک بوڑھی اور بیوہ عورت ہوں اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہوں۔ اسی وجہ سے اب ذہنی ٹینشن بھی رہتی ہے۔ ڈاکٹر مجھے کہتے ہیں کہ میری اکثر بیماریوں کا سبب بھی یہی ہے۔ میں کیا کروں؟ گھریلو حالات اور معاشی مسائل سکون سے زندگی بسرنہیں کرنے دیتے۔ میں ذہنی دباﺅ کم کرنے کے لئے دو ا لیتی ہوں اور پانی زیادہ پیتی ہوں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات کھلی فضاءمیں کچھ دیر کے لئے آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاتی ہوں۔ اس سے اپنی حالت کافی بہتر محسوس ہوتی ہے۔“
کراچی کی آمنہ وسیم کہتی ہیں:
”میں جب ذہنی انتشار کا شکار ہوتی ہوں تو خود کو کسی کام میں مصروف کر لیتی ہوں یا پھر سو جاتی ہوں۔ جب نیند سے اٹھتی ہوں تواس کے اثرات کم ہو چکے ہوتے ہیں۔ تازہ دم ہونے کے بعد اس قابل بھی ہو جاتی ہوں کہ اپنی پریشانی کاکوئی حل نکال سکوں۔“
گجرات کے ہارون افضل ا س بارے میں اپنے تاثرات کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں:
” پریشانی میں ہر شخص خود کو اپنے طریقے سے پرسکون کرنے کی کو شش کرتا ہے۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ خاموش ہو کر خود کو ریلکس کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بعض اوقات لانگ ڈرائیو یا واک پر نکل جاتا ہوں۔ اس سے بھی خود کو کافی بہتر محسوس کرتا ہوں۔“
اٹک کی اسمارہ یاسر کہتی ہیں :
” میں جب بھی پریشان ہوتی ہوں تو یوگا کرتی ہوں یا اپنے بیٹے کے ساتھ باتیں کرنے لگتی ہوں۔ اس سے میرا دھیان کچھ وقت کے لئے بٹ جاتا ہے اوراس دوران میں ذہنی انتشار کی اصل وجہ پر غور کرتی ہوں۔ میں ہمیشہ اس قول کو یاد رکھتی ہوں کہ پریشانی میں گھبراہٹ سے اصل پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔“
اسلام آباد سے شازیہ ہاشمی کہتی ہیں :
”ذہنی انتشار سے بچنے کا آسان حل خود کے ساتھ وقت گزانا ہے۔جو لوگ خود کو وقت نہیں دیتے‘ وہ عموماً الجھے رہتے ہیں۔ میں ضرور روزانہ اپنے لئے وقت نکالتی ہوں لہٰذاذہنی انتشار کا شکار کم ہوتی ہوں۔“
ٹینشن‘ نپٹیں کیسے؟
جب آپ کو ٹینشن محسوس ہو تو گہرے سانس لیں اور اس دوران اپنی توجہ پیش آمدہ صورت حال کی بجائے سانس کی آمدو رفت پر دیں۔ اس کا ایک سٹینڈرڈ اصول ہے کہ آپ سانس اندر لیتے ہوئے پانچ تک گنیں، سانس روکیں اور پانچ تک گنیں اور سانس باہر نکالنے پر پانچ دفعہ گنیں۔ 15سیکنڈ کا یہ چکر آپ کے دل کی دھڑکن، سانس کی رفتار اور پسینہ نارمل کردے گا۔ تناﺅ زیادہ ہو تو یہ علامات زیادہ سامنے آتی ہیں اور علامات زیادہ ہوں تو تناﺅ زیادہ ہوتا ہے۔ اس مشق سے نہ صرف ٹینشن پید۱ کرنے والی چیز یا عامل سے توجہ ہٹ جاتی ہے بلکہ اس کی علامات بھی بہتر ہوجاتی ہیں۔
( ڈاکٹر نازیہ عزیز ‘ ماہرنفسیات ‘شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد)