وٹا من ڈیمفت بھی ‘ وافر بھی

196

اگر کسی کی ہڈیوں میں درد ہو‘ وہ کمزوری محسوس کرتا ہو اور جلد تھک جاتا ہو تو اس کی بڑی وجہ عموماً وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو، اس لئے کہ یہ کسی اور طبی مسئلے کی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لئے ماہرغذائیات کے مشورے کے بغیر سپلی منٹس استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔مزید براں روزانہ 15سے 20منٹ دھوپ میں رہنے سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے ۔شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی ماہر غذائیات زینب بی بی کی معلوماتی تحریر
sunshine-vitamin
جب میںا پنے چھ ماہ کے بچے عبداللہ سے ملنے ڈے کیئر سنٹر گئی تو اس کی آیانے پریشانی کے عالم میں مجھ سے اس کی عمر پوچھی۔ میرے بتانے پر اس نے کہا کہ اسے کسی ڈاکٹر کو چیک کروائیں‘ اس لئے کہ آج میں کافی دیر تک اسے گود میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتی رہی مگر یہ اپنی ٹانگوںپر کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا۔ میں نے ہنس کر اس کی بات ٹال دی اور واپس ہسپتال آگئی۔
شام کو گھر جانے کے بعد سونے سے پہلے میں اس کی مالش کرنے لگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ میں اس کے ابو سے باتیں بھی کررہی تھی۔ اچانک اُنہو ںنے میری توجہ اس کے پاﺅں کی بناوٹ کی طرف دلائی اور کہا کہ انہیں اس کی گولائی کم لگ رہی ہے۔ میں نے بچے کے ساتھ سوئے ہوئے باقی دونوں بچوں کی ٹانگوں سے اس کا موازنہ کیا تو مجھے بھی ان میں فرق محسوس ہوا۔ میرے ذہن میں فوراً آیا کی بات ابھری۔
اس پرذرا پریشان تو ہوئی لیکن پھر میں نے ماں کی بجائے ایک ماہرغذائیات کی حیثیت سے سوچا اور اپنے بیٹے کا باقاعدہ معائنہ کیا۔ مجھے اس کے سر کی ہڈی کے اُبھار اور ٹانگوں کی کیفیت سے لگا کہ اس میں وٹامن ڈی کی کمی ہے۔ اس کی تصدیق کے لئے اگلی صبح ٹیسٹ کرایا تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ وہ واقعتاً وٹامن ڈی کی کمی کاشکارہے۔
وٹامن ڈی‘ کمی کی علامات
ہڈیوں کی تشکیل میں کیلشیم اور فاسفورس اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ دونوں چیزیںوٹامن ڈی کی عدم موجودگی میں ہڈیوں میں جذب نہیں ہوسکتےں۔ اس لئے اس وٹامن کی کمی کے شکار افراد کی ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں اور ان میںدرد رہتا ہے۔ ایسے افراد جلد تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیںاور جسمانی کمزوری محسوس کرتے ہیں۔
یہ علامات وٹامن ڈی کی کمی کے علاوہ کسی اور وجہ سے بھی ظاہر ہوسکتی ہیں لہٰذا محض علامات کی بنیاد پر خود ہی سپلی منٹس (supplements)کا استعمال شروع کر دینا درست نہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرکے اپناوٹامن ڈی ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ جسم میں واقعتاًاس کی کمی ہے یامذکورہ بالا علامات کا سبب کچھ اور ہے۔
وٹامن ڈی کم کیوں
ہماری جلد میں قدرتی طور پر یہ صلاحیت موجودہے کہ جب سورج کی یو وی بی (Ultra Violet B) شعاعیں اس پر پڑتی ہیںتو ہماراجسم 15سے25منٹ کے اندروٹامن ڈی بنانا شروع کر دیتا ہے۔ جب جِلدکا دھوپ میں رنگ گلابی ہونے لگے تو وٹامن ڈی بنانے کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔
ہمارے ہاں لوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی کا تعلق کھانے پینے کی عادات سے زیادہ ان کے معمولات زندگی سے ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بزرگوں کا زیادہ وقت بند کمروں میں گزرتا ہے۔ ملازمت پیشہ لوگوں کا طویل دورانئے پر مشتمل وقت دفتروں میں دھوپ سے محرومی کی کیفیت میں گزرتا ہے۔ بچے بھی اب کھلے میدانوں میں فٹ بال ،گلی ڈنڈا اورکرکٹ وغیرہ کھیلنے کے عادی نہیں رہے اورفرصت پاتے ہی موبائل فون یا لیپ ٹاپ پر گیمز میں مشغول ہوجاتے ہیں۔یوں وہ دھوپ سے استفادہ کرنے کے بجائے زیادہ وقت مضرصحت شعاعوںکی زد میں رہتے ہیں۔ وٹامن ڈی کی کمی کا مسئلہ دیہات کی بجائے شہروں میں زیادہ ہے‘ اس لئے کہ دیہات میں لوگوں کو دھوپ میں رہنے کا موقع زیادہ ملتا ہے۔
وٹامن ڈی کیسے حاصل کریں
دھوپ سے کم وقت میں زیادہ فائدہ حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جسم کا بڑا حصہ بغیر کسی رکاوٹ کے دھوپ میں موجود ہو۔ مثلاً اگر ہم دھوپ کی طرف پشت کر کے بیٹھیں تو جسم زیادہ وٹامن ڈی بنائے گا اور چہرہ اور بازو وغیرہ بھی دھوپ کے مضر اثرات سے محفوظ رہیں گے۔اس طرح کرنے سے 15سے25منٹ میں ہمارے جسم میں 10,000سے25000 ”آئی یو“ وٹامن ڈی کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ آئی یو وٹا من ڈی کی پیمائش کا پیمانہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔اس سے مراد وٹامن ڈی کی وہ مقدار ہے جو مخصوص پیمانے پر حیاتیاتی اثرات پیدا کرے۔
واضح رہے کہ ہلکی دھوپ کی نسبت تیز دھوپ کے اوقات میں جسم زیادہ بہتر طور پر وٹامن ڈی بناتا ہے۔ اسی طرح گہری اور سانولی رنگت کے مقابلے میں گوری یاگندمی کی جلد زیادہ جلدی وٹامن ڈی بناسکتی ہے۔ کم وقت میں زیادہ وٹامن ڈی بنانے کے لئے جلد کا زیادہ حصہ براہ راست دھوپ میں ہونا چاہئے۔
غذا میں وٹامن ڈی کی بہت تھوڑی مقدارموجود ہوتی ہے لہٰذا ہم اس پر مکمل انحصارنہیں کرسکتے ۔تاہم کچھ غذاﺅں میں وٹامن ڈی زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ان میں سمندر سے حاصل ہونے والی خوراک ،بڑا گوشت اورانڈے کی زردی نمایاں ہیں۔
وٹامن ڈی کے سپلی منٹس
اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ وٹامن ڈی کن غذائی اجزاءکی موجودگی میں زیادہ اچھی طرح جذب ہو سکتا ہے یا کن اجزاءکی مودجودگی اس کے جذب ہونے کے عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے تو ہمیں فوڈ سپلی منٹس کے انتخاب میںآسانی ہو سکتی ہے۔
بوران خشک میوہ جات جیسے کھجور‘ بادام‘ کشمش وغیرہ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ میوہ جات وٹامن ڈی کے بہتر انہضام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وٹامن ”کے“ (ہرے پتوں والی سبزیوں کا اہم جزو) اور زنک وٹامن ڈی کے جذب ہونے کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔وٹامن ڈی کی زیادتی سے قبض‘ ہائی بلڈپریشر‘ دل کی تیز دھڑکن‘متلی‘ قے اور بے چینی جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کی زیادتی اس وٹامن کی حامل غذائیں زیادہ کھانے یا سورج کی روشنی میں زیادہ بیٹھنے سے نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ سپلی منٹس لےنے سے ہوتی ہے۔ اس لئے ماہرغذائیات یا ڈاکٹرکی رائے کے بغیرانہیں استعمال نہ کریں۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دھوپ وٹامن ڈی کا سب سے اہم ذریعہ ہے جو ہمیں مفت دستیاب ہے ۔ اس کا کوئی نعم البدل نہیں اوراگر ہم اس سے استفادہ نہ کر سکیں تو یہ ہماری بدقسمتی ہوگی۔ شیر خواربچوں اور بزرگ افراد کو وٹامن ڈی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان کے لئے دھوپ سے استفادہ مشکل ہو تو وہ ڈاکٹر کے مشورے سے سپلی منٹس استعمال کر سکتے ہیں۔

بڑھتی عمر‘ خواتین اور شیشے کی کھڑکیاں
عمرمیں اضافے کے ساتھ ساتھ جلد میں وٹامن ڈی بنانے کی صلاحیت کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔ اس لئے بزرگ افراد کو وٹامن ڈی کی کمی دور کرنے کے لئے سپلیمنٹ کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔خواتین میں سن بلاک(sunblock) کے استعمال کا رجحان زیادہ ہے ۔ ایسے میں دھوپ کی یووی بی (UVB) شعائیں ان کی جلد تک نہیں پہنچ پاتیں لہٰذا وہ وٹامن ڈی سے محروم رہتی ہےں۔
    ہمارے ہاں کمروں میں لگی شیشہ بند کھڑکیوں کے بارے میں بھی یہ تاثر عام ہے کہ ان سے چھن چھن کر کمرے میں آنے والی دھوپ کی شعائیں وٹامن ڈی بنانے کے لئے کافی ہیں ۔یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جو شعائیں وٹامن ڈی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘ وہ شیشے کی دیوار پار نہیں کر سکتیں۔