والدین کیا کریں ،ضدی بچے

28

شادی شدہ افراد کی زندگیوں میں سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ ان کے ہاں بچے کی پیدائش کاہوتا ہے‘تاہم خوشی کا یہ احساس اپنے ساتھ بہت سی ذمہ داریاں بھی لاتا ہے ۔یہ ذمہ داریاں انہیں خوراک ‘ لباس اور چھت جیسی مادی ضروریات فراہم کرنے تک محدود نہیںبلکہ اس دائرے میں بچے کی نفسیاتی اور جذباتی ضروریات بھی آتی ہیں۔اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو کئی منفی عادات بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایسا ہی ایک مسئلہ اور عادت بچوں کا ضدی پن یا ان کے رویے کی خرابی ہے۔ زیرنظر مضمون میں اسی پر روشنی ڈالی جائے گی ۔

بچے ضدی کیوں
بچوں میں ایک خاص عمر(دوسے تین سال) تک ضدی پن کا ہونافطری عمل ہے لیکن وہ اس عمر کے بعد بھی بار بار غصہ کرنے لگیں، بڑوں کی بات نہ مانیں‘ہر بات کا جواب بدتمیزی سے دینے لگیں، دوسروے بچوں کو مارنے لگیں ‘ گالم گلوچ کریں، غیر ضروری سوالات کریں یا اپنی غلطی دوسروں پر ڈال دیں تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایسے میں والدین سمجھ جائیں کہ ان کا بچہ رویے میں بگاڑ کا اظہار کر رہا ہے۔

بچے کے ضدی ہونے کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں جن میں والدین کے ذاتی مسائل، بچے کی ذاتی خصوصیات اور گھر یا اردگرد کا مخصوص ماحول نمایاں ہیں۔ بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اسے پیار‘ عز ت اور والدین کی طرف سے وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر والدین خود کسی ذہنی الجھن مثلاً ڈپریشن، آپس کے تعلقات میں کھچائو یا معاشی مسائل وغیرہ کا شکار ہوں تو وہ اپنے بچوں کو کوالٹی ٹائم نہیں دے پاتے ۔’’کوالٹی ٹائم‘‘ نہ دینے سے مراد یہ ہے کہ ان کا وقت دینابھی بچوں کے کسی کام کا نہیں ہوتا‘ اس لئے کہ اس میں انہیں تسکین نہیں ملتی۔ دوسری طرف بعض اوقات والدین توجہ تو بھرپور دیتے ہیں اور ان سے پیارمحبت بھی کرتے ہیں لیکن اس میں توازن قائم نہیں کر پاتے۔ کچھ جگہوں پر والدین کی طرف سے سخت لہجہ یا اصولوں پر سختی سے کاربند ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر والدین اس کا خیال نہیں رکھتے تو بھی بچہ ان کی بات ماننا چھوڑ دیتا ہے۔

مشترکہ یا پھیلے ہوئے خاندان مشرق کی بڑی خوبصورت روایت ہے جس پر بجا طور پر فخر بھی کیا جاتا ہے لیکن بسا اوقات یہ مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ اگر ساری فیملی ایک ساتھ رہتی ہے اور اس میں والدین کچھ کہتے ہیں ،دادا، دادی اور چچا و غیرہ کچھ اوربات ‘تو بھی بچہ اپنے والدین کی بات ماننا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ یہ رویہ فیملی کے دوسرے بچوں سے بھی سیکھ لیتا ہے جن کے ساتھ وہ کھیلتا ہے۔ بعض بچوں میں ذہنی مسائل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ضدی ہو جاتے ہیں۔ ان میں بچے کا ذہنی لحاظ سے کمزور ہونے کے علاوہ اس پر جسمانی، جذباتی یا جنسی تشدد نمایاں ہیں۔

بچوں کی تربیت کا غلط انداز
جب بچہ اس طرح کے کردار کا اظہار کرتاہے تو والدین کی پریشانی میں اضافہ ہونے لگتا ہے ۔ اب وہ اسے سدھارنے کی کوشش میں غلط طریقے استعما ل کرتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگڑتاجاتا ہے۔ ان میں سے کچھ انداز مندرجہ ذیل ہیں:

بہت زیادہ سوال جواب : بعض والدین بچے سے سوالات بہت کرتے ہیں۔ مثلاً کسی غلطی کی صورت میں بچے سے سوال کرنا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ بچے کے پاس اس کا یا تو جواب نہیں ہوتا یا ایسا نہیں ہوتا جو والدین کو مطمئن کر سکے ۔مثال کے طور پر بچے نے اپنی بہن کو مارا اوروالدین سوالات شروع کر دیں کہ اس نے کیوں مارا یا ایسا کیوں کیا؟ اب بچہ اس کا کیا جواب دے۔
لمبی بحث میں پڑ جانا: بعض والدین بچے کو سمجھا تے ہوئے لمبی بحث میں پڑ جاتے ہیں۔ اس میں بچہ اپنی بات سے نہیں ہٹتا اور والدین اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں۔ اس کا نہ صرف کسی فریق کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ بچے چڑ جاتے ہیں اور ضدی پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
والدین کا التجائیہ انداز: کچھ والدین اپنے آپ کو اتنا بے بس محسوس کرتے ہیں کہ وہ التجائیہ انداز اختیار کر لیتے ہیں تاکہ بچہ ان کی بات مانے۔ان کے جذبات کا شاید وقتی طور پر کچھ اثر ہو مگر بچہ بھی آخر بچہ ہے۔ وہ بعد میں اپنی وہی عاداتیں جاری رکھتا ہے۔

والدین کاچیخنا، چلانا: بعض والدین بچوں کو بڑوں جیسا سمجھتے ہیں اورغلطی پر انہیں سمجھانے کی بجائے انہیں سخت جسمانی سزا دیتے یا سب کے سامنے انہیں ڈانٹتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔اس سے ؓبچے کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور وہ مزیدضدی ہو جاتا ہے۔

تربیت کیسے کی جائے
بچوں کی تربیت میں مندرجہ ذیل باتوں کو اہمیت دیں:
٭والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل مثلاً غصے پر قابو نہ رہنا، ڈپریشن اور آپس کے تعلقات کی خرابی وغیرہ پر سنجیدگی سے کا م کریں۔ اس کے لیے کونسلنگ کروائیں یا کسی بھی اور طریقے سے انہیں بیٹھ کر آپس میں حل کریں۔ اپنے معاشی مسائل اور بچوں کی تربیت کو الگ رکھیں ۔
٭ بچے کی ضد پرچیخیں چلائیں نہیں اور نہ اسے سخت جسمانی سزا دیں بلکہ اس سے جو کچھ کہنا چاہتے ہیں‘ کم اور واضح الفاظ میں کہیں۔
٭ آپ جو بات کہنا چاہتے ہیں اس لہجے میں کہیں کہ وہ آپ کی بات کو سنجیدہ لے۔بچے کی توجہ حاصل کر کے ان سے بات کریں۔اگروہ آپ کی طرف متوجہ نہیں تو اسے کندھے سے پکڑ کراپنی طرف متوجہ کریں تاکہ وہ آپ کی بات غور سے سنے جو کہ بہت ضروری ہے۔

٭ اگر بچہ آگے سے بحث کرے تو اس کے ساتھ نہ الجھیں بلکہ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بات منوانے کی کوشش کریں۔
٭اگر بچہ آپ کی بات مان جائے تو اس کی تعریف کریں اوراسے پچھلی غلطیاں یاد نہ دلائیں ۔اگر ہو سکے تو اس مخصوص کا م کی تعریف سب کے سامنے یا اس کے والد/والدہ کے سامنے بھی کریں جس سے بچے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ اگلی بار بھی آپ کی بات مانے گا۔
٭ اگر بچہ بات نہ مانے تو ایک حد میں رہتے ہوئے اس پر سختی کریں تاکہ اسے آپ کا ڈر ہو ۔مثال کے طور پراگر وہ ٹیلی وژ ن کی آواز کم نہیں کر رہا تو کچھ وقت کے لیے ٹی وی بند کر دیا جائے ،گیند کوشیشے پربار بار مار رہا ہے اور منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتا تواس سے گیند ایک دن کے لیے واپس لے لیا جائے۔
٭ بچے ہمیشہ والدین کے اصولوں کو پر کھتے ہیں ۔ جو چیز بچوں کو سمجھائیں‘ ہمیشہ اس پر خود بھی عمل کریں۔
٭بچے جب آپ کے اصولوں کو آزمائیں تو ہمیشہ ان پر قائم رہیں اور اس کی تھوڑی بہت قیمت ادا کرنے پر تیار رہیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں کہ اگر بچے نے پارک میں دوسرے بچوں کو مارا توآپ واپس آ جائیں گے۔ اگربچہ وہاں جا کر کسی کو مارتا ہے اورآپ اسے واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ زمین پر لیٹ جاتا ہے اور اونچی آواز میں روتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اب نہیں کرے گا۔ یہ والدین کی آزمائش ہے کہ جو انہوں نے کہا تھا‘ اس پر عمل کرتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح بچے ہمیشہ والدین کا عزم ٹیسٹ کرتے ہیں۔ اگر آپ مضبوط ہیں تو وہ اس پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں ورنہ وہ اپنا رویہ جاری رکھتے ہیں۔بچے کو یہ محسوس مت ہونے دیں کہ ان کی ضد کرنے پر والدین ان کی ہر بات مان لیتے ہیں۔
٭ ایک وقت میں ایک رویے پر کام کریں۔ ہر وقت اس لہجے میں رہنا ضروری نہیں۔ بچے سے پیارو محبت بھی کریں‘اس کی جائز ضروریات کا خیال رکھیں۔اس کے ساتھ اس کی بھرپور تربیت کا خیال رکھیں۔
٭بچے کوآداب سکھانے کے لیے رات کو سونے سے پہلے نبیؐ اکرم اور دیگر ہستیوں کے واقعات سنانے کو معمول بنائیں اور عمل کرنے کو بھی کہیں ۔

تربیت ایک کٹھن مرحلہ ہے لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی ذہنی اورجسمانی صحت کا خیال رکھیں۔ ماں اور باپ اس سلسلے میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور گھر کے دیگر افراد کو بھی اس میں شامل کریں۔ ان باتوں پر عمل کرکے ضدی بچوں کے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of