ننھے بچے‘ تنہا نہ چھوڑیں

128

ننھے بچوں میں تجسس کا مادہ زیادہ ہوتا ہے ۔ وہ ہرنئی شے کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور اسے اپنے طورپر سمجھنے ، جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بچوںکامتحرک ہونا اورنئے نئے تجربات کرنا جہاں والدین کے لیے خوشی کا سبب بنتا ہے‘ وہیںیہ بچوں کے لئے خطرات کو بھی بڑھا دیتاہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ چھوٹے بچوں کو کبھی تنہااورنگرانی کے بغیر نہ چھوڑا جائے ۔ مزید براں یہ بھی ضروری ہے کہ ہنگامی صورت حال سے نپٹنے کی تربیت کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے ۔خالد رحمٰن کی ایک توجہ طلب تحریر
بڑے بھائی کی عمرچھ سال اور چھوٹے کی محض دوسال تھی۔ دونوں بچے اپنی نانی کے پاس تھے۔
گھر میں کسی چیز کی فوری ضرورت پیش آئی تو نانی ان ننھے بچوں کو کھیلتا چھوڑ کر قریبی مارکیٹ چلی گئیں۔ ان کاخیال تھا کہ انہیں وہاں محض چند منٹ ہی لگیں گے اور وہ جلد ہی واپس آجائیں گی۔تاہم کوئی حادثہ ہونا ہوتواس کے لئے چند منٹ کیا‘ چند سیکنڈ بھی کافی ہوتے ہیں۔یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
چھوٹا بچہ کھیلتے کھیلتے گھر کے باغیچے میں چلاگیا اوراچانک وہاں موجود سوئمنگ پول میں منہ کے بل گرگیا۔
چھوٹے بچے کی زندگی اوراس کی موت کے درمیان بس لمحوں کافاصلہ باقی تھا کہ نانی گھر واپس پہنچ گئیں۔انہوں نے اپنے ناتواں جسم کے ساتھ اپنے چھ سالہ نواسے کی مدد سے اس کے چھوٹے بھائی کو جب سوئمنگ پول سے باہر نکالا تو وہ سانسیں نہیں لے رہا تھا۔
وہ پریشان تھیں کہ اب کیاکیاجائے‘ اس لئے کہ بچہ تو تھا ہی کم سن اور نانی کے پاس ایسی صورت حال کامقابلہ کرنے کے لیے کوئی تربےت نہ تھی۔
شہر ی علاقے سے دور ہونے کی وجہ سے قرب وجوار میں بھی کوئی طبی سہولت موجو د نہ تھی۔ ایک اور مشکل یہ تھی کہ یہ خاندان دوسرے ملک سے حال ہی میں یہاں منتقل ہوا تھا چنانچہ نانی کو مقامی زبان میںگفتگو پر مہارت نہ تھی۔اس کے باوجود خدا کو جب کسی کی زندگی بچانا ہو تو وہ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کر ہی دیتا ہے۔
چھ سال کی عمر میں پختگی اور حواس پر قابو پانے کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن حیرت انگیز طور پربچے نے اپنے حواس بحال رکھے اور ٹیلی فون کے ذریعے ایمرجنسی میڈیکل سروس سے رابطہ کرلیا۔ بچے کو فون پر سمجھایاگیا کہ وہ کس طرح اپنے چھوٹے بھائی کو ابتدائی طبی امداد دے سکتا ہے۔ اسے بتایا گیا کہ وہ اس کا سینہ مَلے اور اس کے منہ سے اسے سانس دینے کی کوشش کرے۔ بچے نے ایسا ہی کیا اور طبی کارکنوں کے پہنچنے سے پہلے ہی چھوٹے بچے کی سانسیں بحال ہوگئیں۔ مزید علاج کے لیے اسے قریبی شہر کے بڑے طبی مرکز لے جایاگیا۔
مدد کرنے والے طبی اہلکار کا کہنا تھا کہ پریشانی کے باوجود بچے نے غیرمعمولی ذہانت اور سکون کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ہدایات پر عمل کیا۔
حادثات اگرچہ انسانی غلطی کی بدولت ہی ہوتے ہیں جن پر قابو پاکر ان کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے لیکن ان سے مکمل طور پر بچنا شاید ممکن نہیں۔ یوںیہ انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں تاہم ہر حادثہ اپنے اندر بہت سے اسباق لیے ہوتا ہے۔
بچے فطری طورپر متحرک طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ہرنئی شے کی جانب متوجہ ہوتے اور اسے اپنے طورپر سمجھنے، جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرکوئی بچہ اس سے مختلف ہو اور اپنے اردگرد کے ماحول اوراشیاءمیں دلچسپی نہ لے تو والدین اور بڑے بجا طور پر اضطراب محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک جانب بچوںکامتحرک ہونا اورنئے نئے تجربات کرنا والدین کے لیے خوشی کا سبب بنتا ہے تو دوسری جانب ان کی یہی خوبی بڑوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ چھوٹے اور ناسمجھ بچوں کو کبھی تنہااورنگرانی کے بغیر نہ چھوڑیں۔ یہ بہت زیادہ ضروری ہے کہ وہ ہر وقت کسی بڑے کی ذمہ داری اور نظروں میں رہیں۔
دور حاضر میں سکڑتے اور بعض صورتوں میں بکھرتے خاندانوں اورمعاشی جدوجہد میں پیہم مصروفیت کے باعث بہت سے والدین کے لئے اس ہدایت پرعمل میں بہت سی حقیقی مشکلات پید ا ہوگئی ہیں۔ ان کاحل ہر معاشرے کے افراد اپنے اپنے انداز میں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم تمام تر احتیاطوں کے باوجود حادثات کو خارج از امکان قرار نہیںدیا جا سکتا۔ ایسے میں ہنگامی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں ایمرجنسی طبی مراکز اور وہاںکارکنوں اور سہولتوں کی موجودگی بہت ضروری ہے۔
مذکورہ بالاواقعے سے یہ پہلو بھی نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے کہ ابتدائی طبی امداد کی تربیت کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔