مکھیوں سے نجات‘ آپ کیا کرتے ہیں ؟

210

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی فریحہ نسیم اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتی ہیں:
”میں سحری میں سالن کے ساتھ دیسی گھی کا پراٹھا کھاتی ہوں ۔ اس کے علاوہ گرمی سے بچنے کے لئے ایک پیالا شکر ڈلے دہی کا بھی خوراک میں شامل ہوتا ہے۔ “
عا ئشہ ہری پور سے سحری میں پیاس سے بچنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں:
”میں سحری میں روزہ کی حالت میں پیاس سے بچنے کے لئے دہی کا استعمال اور اس کے علاوہ جتنی پیاس لگی ہو اتنا پانی پیتی ہوں ساتھ پراٹھا سالن بھی کھاتی ہوں تاکہ دن کو بھوک سے بچا جا سکے۔ “
پشاور سے سندس خان اس حوالے سے کہتی ہیں:
”میں پیاس سے بچنے کے لئے سحری میں اکثر چپاتی ، سالن اور دودھ کی بنی ہوئی کچی لسّی پیتی ہوں ۔ “
بھمبر (آزاد جموں کشمیر) سے عبدالہادی پیاس بھگانے کے لئے ایک بہترین تدبیر بتاتے ہوئے کہتے ہیں:
”گرمیوں کے چونکہ دن لمبے ہوتے ہیں اس لئے روزہ کا دورانیہ بھی طویل ہوتا ہے۔ اس لئے میں سحری میں ایسی چیزیں کھاتا ہوں جو دیر سے ہضم ہوں ،مثلاً پراٹھا ، انڈا یا سالن اور پیاس بھگانے کے لئے میٹھی لسّی کا استعمال کرتا ہوں ۔ اس کے ساتھ چائے بھی پیتا ہوں۔ “
چکوال سے پری وش کا کہنا ہے:
”میں سحری میں دہی،پراٹھا اور سالن کھاتی ہوں آخر میں ملک شیک بھی پیتی ہوں “۔
گجر خان سے عائشہ ممتازکا بتانا ہے:
”میری سحری میں ا کثر پراٹھے کے ساتھ شہد،مکھن اور بالائی شامل ہوتی ہے ۔ چائے بھی پیتی ہوں اور پیاس سے بچنے کے لئے پانی کا استعمال بھی زیادہ کرتی ہوں۔ “
کوئٹہ سے جوہرجنید کہتے ہیں:
”میری سحری کی خوراک بہت سادہ ہوتی ہے مثلاً جو یا گندم کا دلیہ کھا لیتا ہوں ۔کیونکہ یہ دیر ہضم ہے ۔یہ مجھے پورا دن ہشاش بشاش رکھتا ہے ۔ “