منہ کے اندر نوالے پر کارروائی

289

    اردو زبان میں ”منہ “اور ”چہرہ “ دو الگ الفاظ ہیں جو جسم کے دو مختلف اعضاءکے لئے بولے جانے چاہئیں لیکن نہ جانے کیوں چہرے کو بھی منہ کہہ دیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ہماری روزمرہ میں ہاتھ منہ دھونا‘ منہ بسورنا‘ منہ پر رونق آنا اور منہ پر کہنا جیسے محاورات عام استعمال ہوتے ہیں جن میں منہ سے مراد چہرہ لیا جاتا ہے۔ تاہم زیرنظرتحریر میں ہم جس منہ پر گفتگو کریں گے ‘ یہ وہی ہے جہاں سے خوراک ہضم ہونے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اسی سے ہم اچھے یابرے الفاظ نکالتے ہیں جو ایک طرف دلوں کو موہ لیتے اور کانوں میں رس گھولتے ہیں تو دوسری طرف نفرت کے بیج بو کر ماحول میں تلخی گھول دیتے ہیں۔
منہ کو مختلف طرح کے کام سرانجام دینے کے لئے قریبی اعضاءمثلاً ہونٹوں‘ ناک‘ گلے‘ زبان اور دانتوں کی معاونت درکار ہوتی ہے۔ ان کاموں کا آغاز مخصوص پیغامات (impulses)کی شکل میں ہوتا ہے جو دماغ کو بھیجے جاتے ہیں۔ وہ ان کا تجزیہ کرکے ان کے بارے میں ہدایات جاری کرتا ہے جس کے بعد متعلقہ اعضاءحرکت میں آ جاتے ہیں۔
ذائقہ اور سونگھنے کی حس
جب نوالہ ہمارے منہ میں داخل ہوتا ہے تو زبان پر موجود مخصوص خلئے جنہیں ذائقے والی کونپلیں (taste buds)کہا جاتا ہے‘ اس کے ذائقے کو کڑوے‘ میٹھے‘کھٹے یا تیکھے کے طور پر پہچان لیتی ہیں۔اگروہ کھائے جانے کے قابل نہ ہو تو دماغ اُسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور اس کی ہدایت کے تحت ہم اسے تھوک دیتے ہیں۔ ہم بہت زیادہ نمکین یا کڑوی چیز بھی نہیں کھا پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرکسی شخص کو کڑوی دوا کھلانی ہو تو اس کے لئے چینی یا شہد کی مدد لی جاتی ہے جس کے بعد وہ نگلے جانے کے قابل ہو جاتی ہے ۔ایک گیت کے بول ہیں”Just a spoonful of sugar helps the medicine go down”
میٹھا پن ایسا ذائقہ ہے جسے ہمارا نظام انہضام باآسانی قبول کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم شہد جیسی بہت ہی میٹھی چیز بھی کھا لیتے ہیں ۔
ناک کا تعلق سونگھنے سے ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کھانے کی لذت کا مزید اندازہ اسی کے ذریعے ہوتا ہے۔کھانوں سے اُٹھنے والے بخارات جب ناک میںداخل ہوتے ہیں تو اس کی سونگھنے کی حس ہمیں اس کی لذت یا بے لذتی کا پتہ دیتی ہے۔ چاول‘ مرغ‘ گوشت اور دالوں کے ذائقے میںمختلف مصالحوں اور پکانے کے طریقوںکا یقیناًبہت عمل دخل ہے تاہم اس کی لذت بڑھانے میں خوشبوئیں اہم کردار ادا کرتی ہیں جنہیں محسوس کرنے کا کام ناک ہی انجام دیتا ہے۔
میں نے کہیں سنا تھا کہ اگر کسی وجہ سے ہماری قوت شامہ بالکل ہی جاتی رہے تو ہم پیاز اور سیب کے ذائقے میں تمیز نہ کرپائیں گے۔ مجھے اس بات پر اس وقت تک یقین نہ آیا جب تک بیماری کے دوران میری ناک نے کام کرنا نہ چھوڑدیا۔ میںان دنوں مختلف کھانوں کے ذائقوں میں امتیاز نہ کرپاتاتھا۔ مجھے مرغی اور مچھلی کے گوشت کا ذائقہ یکساں لگتااور پیاز کا تیکھا پن بھی محسوس نہ ہوتاتھا‘ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ یہ کیفیت عارضی ثابت ہوئی۔
اگرچہ بات چیت کے لئے بظاہر منہ اور زبان ہی درکار ہوتے ہیں لیکن عام مشاہدہ ہے کہ اگر زکام کی وجہ سے ناک بند ہو تونہ صرف ہماری آواز بدل جاتی ہے بلکہ ہمیں بات کرنے میں بھی دشواری محسوس ہوتی ہے۔
 دانتوں کا کردار
دانتوں کے بارے میں اکثرقارئین کاخیال ہوگا کہ یہ صرف چبانے کے کام آتے ہیںلیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے چہرے کے خدوخال بھی بڑی حد تک انہی کے مرہون منت ہوتے ہیں۔آگے کے دانت اگر ٹیڑھے ہوں تو چہرے کی خوبصورتی کو بگاڑ دیتے ہیں۔ جو بزرگ حضرات اپنی ڈاڑھیں نکلواچکے ہوں‘ اُن کا حلیہ بدل جاتا ہے اور چہرے کا پوپلاپن نمایاں ہو جاتا ہے۔ یہ چیز چہرے کی جھریوں کے ساتھ مل کر باقاعدہ بڑھاپے کا اعلان بن جاتی ہے۔
اگردانت نکل جائیں تو اس کا ہماری آواز اور لہجے پر بھی گہرا اثرپڑتاہے۔ انہی32(بچوں میں20)دانتوں میں کئی قسم کی بیماریاں پیداہوتی ہیں جن کا علاج ڈیٹل سرجن کرتے ہیں جبکہ چہرے اور جبڑوں کے بھدے پن کو ٹھیک کرنے اور مصنوعی دانتوں کا پیوند لگانے والے کو میگزیلوفیشل سرجن (Maxillofacial Surgeon)کہاجاتا ہے۔
لعاب دہن کا کام
ہمارے منہ میںلعاب دہن یعنی تھوک پیدا کرنے کے لئے غدود (salivary glands) کے تین جوڑے (یعنی کل چھ غدود) ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو سب سے بڑے‘ گال کے اندرکان کی اگلی طرف ‘ دونچلے جبڑوں پراور دوزبان کے نیچے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گالوں کی اندرونی سطح‘تالو اور مسوڑھوں وغیرہ میں بھی چھوٹے چھوٹے غدود ہوتے ہیں جو ہمارے منہ کو مستقلاً نمدار رکھتے ہیں۔ لعاب دہن نلکے کے پانی کی مانند ہمارے دانتوں اور منہ کودھو(flush)کر صاف رکھتاہے۔
24گھنٹوں کے دوران ایک بالغ فرد کا منہ اوسطاً ڈیڑھ لٹر لعاب بناتا ہے۔کھانا کھانے کے دوران یہ زیادہ بنتا ہے جبکہ سوتے وقت اس کی مقدار خاصی کم ہوجاتی ہے جس کا سبب یہ ہے کہ اس دوران ہم تھوک نہیں نگلتے۔ سوتے میں پیدا ہونے والے لعاب کی وجہ سے ہمیں صبح کے وقت بعض اوقات اپنا تکیہ بھیگا ہوا ملتاہے۔
اس کادوسرا پہلو یہ ہے کہ لعاب کی کمی کے سبب منہ اور دانتوں کا فلش(flush) ہونا عارضی طور پر بند ہوجاتا ہے جس سے منہ میں موجود جراثیم کا راج شروع ہوجاتاہے۔ وہ ساری رات منہ میں موجود غذا کے ذرات اور جھڑے ہوئے خلیوں پر کارروائی کرتے رہتے ہیں جو بدبو کا باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صبح اُٹھنے پر ہمیں اپنی سانسیں بدبودارمحسوس ہوتی ہیںاور منہ کا خراب ذائقہ اُس وقت تک نہیں جاتا جب تک کلی کرکے ہم منہ کو کھنگال نہ لیں۔ اس بدبو سے نجات کے لئے بعض لوگ چائے کا ایک کپ بستر میں ہی پی لیتے ہیں جسے ”بیڈ ٹی“ کا نام دیا جاتاہے۔
منہ میں لقمہ ڈالتے ہی تمام غدود حرکت میں آ جاتے ہیں اور لعاب پیدا ہونے لگتا ہے ۔ چبانے کے دوران یہ لقمے کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے اور اس کے اجزاءپر عمل کرکے دماغ کو بتاتا ہے کہ اس کا ذائقہ کیساہے اوریہ کہ وہ کھانے کے قابل ہے یا نہیں۔ ضروری نہیں کہ لعاب دہن منہ میں لقمہ ڈالنے کے بعد ہی بننے لگے بلکہ کسی اچھی غذا کا خیال آنے یا لذیذ کھانے کی خوشبو سونگھنے پر ہی ہمارے منہ میںپانی بھر آتا ہے۔ ایسا خصوصاً اس وقت ہوتاہے جب ہم بھوکے ہوں ۔اس عمل میں ہمارے خیالات‘جذبات‘قوت شامہ( جو کھانے میںموجود مصالحہ جات کو محسوس کرتی ہے) اور ذائقہ سب اکٹھے کام کرتے ہیں۔
لعاب دن کا ہماری بات چیت اور آواز کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہوتاہے۔اگر ذہنی تناﺅ‘ خوف یا بعض ادویات کے استعمال کی وجہ سے ہمارا منہ اور گلا خشک ہوجائے تو ہم بات نہیں کرپاتے۔یہی وجہ ہے کہ مقرر حضرات تقریر کے دوران پانی کا ایک گلاس اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں اور گاہے بگاہے اپنے منہ اور گلے کو تر کرتے رہتے ہیں۔
نوالہ اچھی طرح جانچ پڑتال کے بعد زبان اور منہ میں موجود مزید عضلات کی مدد سے حلق کی طرف دھکیل دیاجاتاہے۔وہاں ایک بار پھر دماغ برق رفتاری سے اس کے سائز کا جائزہ لیتا اور یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کیا اس کا سائز اسے نگلنے کے لئے مناسب ہے یانہیں۔لعاب کے ذریعے اسے پھسلنے میں مدد ملتی ہے اور زبان کی پچھلی طرف پہنچتے ہی اسے نگلنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس پر ہم انشاءاللہ اگلے شمارے میں روشنی ڈالیں گے۔