’’محبت‘‘

309

ایک محبت کافی ہے
باقی عمر اضافی ہے
(انتخاب:ندیم اختر ‘کراچی)
کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں
ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
(انتخاب:فیصل شیخ‘اسلام آباد)
کافر ہوئے بْتوں کی محبت میں میر جی
مسجد میں آج آئے تھے قشقہ دیے ہوئے
(انتخاب:طارق محمود‘راولپنڈی)
یقینِ مْحکم عملِ پَیہم محبت فاتحِ عالَم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
(انتخاب:صائمہ‘مظفرآباد)
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے یوں ہے
(انتخاب:اظہرمحمود‘ملتان)
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گْزار کے
(انتخاب:عدیل خان‘مردان)
درد ہی خود ہے، خود دوا ہے عشق
شیخ کیا جانے تْو، کہ کیا ہے عشق
(انتخاب:سجادعباسی‘مری)
ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز!
ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھا
(انتخاب:عمران خان‘راولپنڈی)
کبھی عشق پہ تھکتے ہی نہ تھے بولنے سے
اب اسی ذکر پہ اخبار اٹھا لیتے ہیں
(انتخاب:عبیداللہ‘ایبٹ آباد)
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
(شاعر:جون ایلیا، انتخاب:رانا طارق‘فیصل آباد)
قلم سے لکھ نہیں سکتا میں زخمی دل کے افسانے
مجھے تم سے محبت ہے تیرے دل کی خدا جانے
(انتخاب:شفقت اعوان‘ایبٹ آباد)
ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میر
کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو
(انتخاب:قیصرشاہ‘راولپنڈی)
آیا تھا ساتھ لے کے محبت کی آفتیں
جائے گا جان لے کے زمانہ شباب کا
(انتخاب:روبینہ قریشی‘کوٹلی)
اذیت مصیبت ملامت بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
(انتخاب:صائمہ افتخار‘راولاکوٹ)
اس نے آنچل سے نکالی مری گم گشتہ بیاض
اور چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا
(انتخاب:اکبر خان‘پشاور)
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آجاتا ہے، سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے
(انتخاب:دلدارخان‘چارسدہ)
محبت اب نہیں ہو گیِ یہ کچھ دن بعد میں ہو گی
گزر جا ئیں گے جب یہ دن، یہ اْن کی یا د میں ہو گی
(انتخاب:راحت کیانی‘چکوال)
تجھ کو چاہا، تیری دہلیز پہ سجدہ نہ کیا
وہ مرا عشق تھا، یہ میری خود داری ہے
(انتخاب:نورین عباسی‘مری)

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

13فروری1911ء نقش فریادی، د ست صبا، نسخہ ہائے وفا، زندان نا