قانون کا اندھاپن

222

پانچ بچوں کے والدین میاں بیوی بمشکل اپنے آنسو ضبط کرپارہے تھے۔وہ ڈرائنگ روم میں اداس بیٹھے تھے اور ان کے اردگرد ان کے بچوں کے کھلونے بے ترتیب بکھرے پڑے تھے۔
ان کے دو بڑے بیٹوںکی عمریں بالترتیب پانچ اور دوبرس‘ چھوٹے بیٹے کی محض تین ماہ جبکہ بیٹیوں کی عمریں 8 اور10سال تھیں۔ ایک روز دونوں بیٹے کمرے میں بیٹھے ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے جبکہ ان کاچھوٹا بھائی بھی پاس ہی بیٹھا کھیل رہاتھا۔بیٹیوں کے سکول سے آنے کا وقت ہو گیا تھا لیکن وہ ابھی تک نہیں آئی تھیں لہٰذا سبھی اہل خانہ ان کا انتظارکررہے تھے۔ بس تو نہ آئی البتہ دونامعلوم سیا ہ رنگ کی گاڑیاں اچانک ان کے دروازے پرآکررُکیں۔ ان میں سے ایک تیز رفتاری سے گھر کے پچھلے حصے کی جانب چلی گئی جبکہ دوسری سے ایک خاتون برآمد ہوئی جس نے گھر کے مین گیٹ پر دستک دی۔ دروازہ کھولنے پر خاتون نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ بچوں کی بہبود کے محکمے سے تعلق رکھتی ہیں ۔اس نے انہیں سرکاری حکمنامہ دکھاتے ہوئے کہا کہ دونوں چھوٹے لڑکے اس کے حوالے کردیے جائیں۔ اسی کی زبانی معلوم ہوا کہ ان کی دونوں بیٹیوں کو بھی تحویل میں لے لیا گیاہے۔
اگلی صبح پھر دو کاریں ان کے گھر کے دروازے پرموجودتھیں۔ والدین کو خیال گزرا کہ شاید ان کے بچے انہیں واپس ملنے والے ہیں لیکن یہ ان کی خوش فہمی تھی۔ وہ تو ان کے سب سے چھوٹے تین ماہ کے بچے کو بھی اپنی تحویل میں لینے آئے تھے۔ ماں باپ کو بتایاگیا کہ بچوں سے ان کی ملاقات بہت جلد کرادی جائے گی۔ یہ ”بہت جلد“کئی دنوں کے بعدآیا جب ان کی ملاقات اپنے بچوں سے ممکن ہوپائی۔ جب وہ بچوں سے ملنے پہنچے تو اہلکاروں نے انہیں بتایا کہ ملاقات کامقصد ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ قائم کرناہے تاکہ بچوں کوہمیشہ کے لیے ان سے الگ کردیاجائے۔
” بچوںکو ہم سے الگ کر کے کہاں لے جایا جائے گا؟“ حیران و پریشان والدین نے استفسار کیا جس پر انہیں بتایا گیا کہ بچوں کو ’عارضی والدین‘ کے سپرد کردیاجائے گا۔ اور پھرایسا ہی ہوا۔ پانچوں بہن بھائیوں کو تین مختلف عارضی والدین کے حوالے کردیا گیا ۔ بچے چونکہ تین مختلف گھروں میں تھے لہٰذا والدین اگر ان سے ملنا چاہتے توباری باری ہی ان سے ملاجاسکتاتھا اور اس کا اہتمام بھی سرکاری اہلکاروں کی نگرانی میںہی ممکن تھا۔ ہر ملاقات کے انتظا راورپھر آمدورفت میں کئی گھنٹے لگ جاتے۔
والدین کو بچوں سے اور بچوں کو ان کے حقیقی والدین سے ا س طرح علیحدہ کرنے کاسبب والدین پریہ الزام تھا کہ وہ بچوں کوجسمانی سزادیتے ہیں جو ملکی (ناروے) قانون کی خلاف ورزی تھا۔ماں نے تسلیم کیاکہ وہ کبھی کبھار بچوں کی پٹائی کردیتی ہے لیکن ایسا نہیں کہ وہ ہر غلطی پرانہیں جسمانی سزادیتی ہو۔ اس کے بقول ’جب ہمارے بچوں کاطبی معائنہ کیاگیا تو ان کے جسموں پر تشدد کاکوئی نشان نہ ملا۔ اس اعتبار سے وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھے۔‘ اسے احساس نہیں تھا کہ بچوں کو سزا سے متعلق قانون اتنا سخت ہے۔
صحت مند معاشرے کی تعمیرکے تناظر میں بچوں کی تربیت چند اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ ان کی پرورش کا ذمہ داربنیادی طور پر چونکہ خاندان ہی ہوتاہے‘ اس لئے اس حوالے سے جاری مباحث میں ایک اہم موضوع یہ ہے کہ کیاوالدین بچوں کو جسمانی سزا دینے کا حق رکھتے ہیں یانہیں؟
مغربی دنیا کے بیشتر ملکوں میں اس کی اجازت نہیں اور اس حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں جن پرسختی سے عمل بھی ہوتا ہے۔ دیگر ملکوں میں اگرچہ اس پر اتفاق موجود ہے کہ جسمانی سزا کوئی اچھی چیز نہیں اور کسی سخت ضرب سے تو لازماً ہی رکنا چاہےے۔ تاہم وہاں یہ رائے بھی موجود ہے کہ بچوں کو غلط اور صحیح طرزعمل سکھانے کےلئے سرزنش کی گنجائش بھی رہنی چاہےے۔ مذکورہ بالاواقعے کے بعد ناروے میں بہت سے لوگوں نے والدین سے اظہاریکجہتی اور ایسے قانون پرتنقید کرتے ہوئے بڑے بڑے مظاہرے بھی کیے ہیں۔
اصولی گفتگو کرنا ہو تو ہر دوجانب سے مضبوط دلائل موجود ہیں اور شاید یہ مسئلہ کبھی یک طرفہ طورپر حل نہ ہوسکے ۔تاہم عملی سطح پردیکھیں تو کوئی بھی انتہاپسندانہ طرزعمل انسانوں کے لیے مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافے کاسبب ہی بنتا ہے۔قانون کو جب ”اندھا“ کہا جاتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے پرائے‘ چھوٹے بڑے یا امیر غریب کا فرق کئے بغیر حرکت میں آتا ہے۔ مذکورہ بالا واقعے میں قانون اس اعتبار سے بھی اندھامحسوس ہوتاہے کہ اس نے محبت کرنے والے حقیقی ماں باپ کو بچوں سے اور 3 ماہ سے 10سال کے معصوم بچوں کو ایک دوسرے سے ہی نہیں ‘ اپنے حقیقی ماں باپ سے بھی جدا کردیاگیا۔ عارضی ماں باپ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں ، بچوں کو جس فطری اورجذباتی تعلق کی ضرورت ہوتی ہے ‘وہ کبھی فراہم نہیں کرسکتے۔