فیض احمد فیض

306

13فروری1911ء نقش فریادی، د ست صبا، نسخہ ہائے وفا، زندان نامہ، دست تہہ سنگ، سروادی سینااور میرے دل میرے مسافرسمیت درجنوں نادر و نایاب شعری مجموعوں کے خالق فیض احمد فیض کا یوم پیدائش ہے ۔اس سے اگلا دن دنیا بھر میں یوم محبت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ان کی محبت میں انہیں اس ماہ کا شاعر منتخب کیا گیا ہے ۔ آپ 20ویں صدی کے اْن خوش قسمت شعرا ء میں سے ہیں جنہیں زندگی ہی میں بے پنا ہ شہرت و مقبولیت اور عظمت و محبت ملی۔ اس عظیم شاعر کو عظیم فلسفی شاعر کے ساتھ کئی طرح کی نسبتیں ہیں۔ مثال کے طور پر وہ شاعر مشرق کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔وہ علامہ اقبال کے استاد مولوی میر حسن ہی کے شاگرد بھی تھے اور انقلابی شاعری ان کی سب سے بڑی وجہ شہرت ہے ۔ اگر اقبال نومبر میں پیدا ہوئے تونومبر ہی میں فیض اس دنیا سے 1984ء میں رخصت ہوئے ۔بعض لوگوں کے نزدیک فیض گزشتہ دو سو سالوں میں غالب اور اقبال کے بعد اردو ادب کے سب سے عظیم شاعر ہیں۔ ان کے ادبی مجموعوں کا انگریزی ، فارسی، روسی ، جرمن اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں
یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے
کوئی لمحہ صبح وصال کا کوئی شام ہجر کی مدتیں
جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل میں کیا
نہ کسی عدو کی عداوتیں نہ کسی صنم کی مروتیں
چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر میں
یہ مزار اہل صفا کے ہیں یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں
مری جان آج کا غم نہ کر کہ نہ جانے کاتب وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا
جو نفس تھا خارِ گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئے
وہ نشاط آئہ سحر گئی‘ وہ وقار دست دعا گیا
نہ وہ رنگ فصل بہار کا نہ روش وہ ابر بہار کی
جس ادا سے یار تھے آشنا وہ مزاج باد صبا گیا
جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی
سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و صفا گیا
ابھی بادبان کو تہ رکھو ابھی مضطرب ہے رخ ہوا
کسی راستے میں ہے منتظر وہ سکوں جو آ کے چلا گیا
(فیض احمد فیض)

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ
سایہ چشم میں حیراں رخ روشن کا جمال
سرخی لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ
بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب
شیشہ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ
چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے
دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ
اک سخن اور کہ پھر رنگ تکلم تیرا
حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ

یاد کا پھر کوئی دروازہ کھلا آخر شب
یاد کا پھر کوئی دروازہ کھلا آخر شب
دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب
صبح پھوٹی تو وہ پہلو سے اٹھا آخر شب
وہ جو اک عمر سے آیا نہ گیا آخر شب
چاند سے ماند ستاروں نے کہا آخر شب
کون کرتا ہے وفا عہد وفا آخر شب
لمس جانانہ لیے مستی پیمانہ لیے
حمد باری کو اٹھے دست دعا آخر شب
گھر جو ویراں تھا سر شام وہ کیسے کیسے
فرقت یار نے آباد کیا آخر شب
جس ادا سے کوئی آیا تھا کبھی اول شب
’’ اسی انداز سے چل باد صبا آخر شب‘‘


نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے
نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری
نہ تیری مدح ہے ممکن مرے خیالوں سے
تْو روشنی کا پیمبر ہے اور مری تاریخ
بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے
ترا پیام محبت تھا اور میرے یہاں
دل و دماغ ہیں پْر نفرتوں کے جالوں سے
یہ افتخار ہے تیرا کہ میرے عرش مقام
تو ہمکلام رہا ہے زمین والوں سے
مگر یہ مفتی و واعظ یہ محتسب یہ فقیہہ
جو معتبر ہیں فقط مصلحت کی چالوں سے
خدا کے نام کو بیچیں مگر خدا نہ کرے
اثر پذیر ہوں خلقِ خدا کے نالوں سے
نہ میری آنکھ میں کاجل نہ مْشکبْو ہے لباس
کہ میرے دل کا ہے رشتہ خراب حالوں سے
ہے تْرش رو مری باتوں سے صاحبِ منبر
خطیبِ شہر ہے برہم مرے سوالوں سے
مرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا
میں کیسے صلح کروں قتل کرنے والوں سے
میں بے بساط سا شاعر ہوں پر کرم تیرا
کہ باشرف ہوں قبا و کلاہ والوں سے
(احمد فراز)
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
(پروین شاکر)

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

ایک محبت کافی ہے باقی عمر اضافی ہے (انتخاب:ندیم اختر ‘