عشق ومحبت کے تالے

167

    پچھلے دنوں ایک مضمون کے سلسلے میں ریسرچ کے دوران جب میں بروکلین ہلز(Brooklyn Hills)کے بارے میں پڑھ رہا تھا تو میری توجہ وہاں کے ایک پُل کی طرف مبذول ہوگئی جس پر ہر وقت ان گنت تالے لگے نظرآتے ہیں۔یہ ”love locks“ یعنی ”محبت کے تالے“ کہلاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک پردو عدد نام لکھے ہوتے ہیں جن میں سے ایک مردانہ جبکہ دوسرا زنانہ ہوتا ہے ۔
اس دلچسپ اور ہردلعزیز رسم کا پس منظر یہ ہے کہ جب مرد اور عورت ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں تو وہ ایک تالے پر دونوں کے نام لکھ کر ”بروکلین برِج“کا رُخ کرتے ہیں۔ وہ اسے پل کی کسی موزوں جگہ پر لگا کر چابی نیچے بہتے ہوئے دریا میں پھینک دیتے ہیں تاکہ اسے دوبارہ کبھی نہ کھولا جا سکے۔ اس مشق کا مقصد اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ ان کا تعلق دائمی ہے اور وہ زندگی بھر ایک ساتھ رہیں گے ۔
یہ تالے نہ صرف بھدے لگتے ہیں بلکہ ان کابھاری وزن پل کے لئے خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اس لئے نیویارک سمیت کئی دیگر شہروں میں انہیں لگانا غیر قانونی قراردے دیاگیا ہے۔ اس پابندی کے باوجود لوگ چوری چھپے وہاں تالا لگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ انتظامیہ انہیں کاٹ کر ہٹاتی رہتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔یہ رسم روس اور کئی دیگر ممالک میں بھی خاصی مقبول ہے جہاں مخصوص عمارتوں اور پلوں پر مردانہ اور زنانہ ناموں کے حامل تالے اکثر نظر آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان جوڑوں کی محبت شادیوں میں بدلتی ہے اور شادیوں کے بعد وہ مرتے دم تک ساتھ رہتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کبھی ایسا ہوجاتا ہے اورکبھی ایسا نہیں بھی ہوتا۔کبھی یہ تعلق شادی تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتا ہے‘ کبھی شادی تو ہو جاتی ہے لیکن کچھ ہی عرصے بعد نوبت طلاق تک آجاتی ہے اور کبھی شوہراور بیوی‘ شادی شدہ زندگی گزارتے ہوئے بھی دوسروں کی طرف راغب نظر آتے ہیں۔
شاعروںکے لئے عشق و محبت ہمیشہ سے ایک مرغوب موضوع رہاہے اور بلاشبہ دنیا کی بہترین شاعری‘ خواہ کسی بھی زبان میں ہو‘ اسی موضوع پرکی گئی ہے۔ مرزا غالب کے دو شعر پیش خدمت ہیں:
عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
اور
عشق پر زور نہیں ، ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور ب±جھائے نہ بنے
ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات دو افرادپہلی ہی ملاقات میں ایک دوسرے کی محبت میں اس حد تک گرفتار ہو جاتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ایک دفعہ میرا ایک دوست لندن سے ریل گاڑی میں سوار ہوا اور90 میل دور کونٹری شہر کے سٹیشن پر اتر گیا۔ ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل اس سفر کے دوران اسے ایک لڑکی ملی جو اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ آسٹریلیا سے انگلستان سیاحت کیلئے آئی تھی۔ میرا دوست کونٹری پہنچنے سے پہلے ہی اس کے عشق میں گرفتار ہو چکا تھا اور یہ ”آگ“دونوں طرف لگ چکی تھی۔
لڑکی نے سٹیشن پر ہی اپنے ساتھیوں کو خیرباد کہا اور میرے دوست کے ساتھ آگئی۔ اس کے ساتھیوں میں اس کا بوائے فرینڈ بھی شامل تھا لیکن اس نے اسے بھی چھوڑ دیا۔ نتیجہ جھٹ منگنی اورپٹ بیاہ کی صورت میں نکلا یعنی اگلے ہفتے ان دونوں کی شادی ہو چکی تھی۔ان کی شادی اور ازدواجی زندگی بہت کامیاب رہی اور وہ دونوں اس دوران تین خوبصورت بچوں کے والدین بھی بن گئے۔
اگرسائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو عشق و محبت کے معاملے میں بنیادی ہاتھ ہارمونز کا ہوتاہے۔ جب عہد شباب آتا ہے تو ہمارے جسموں میں کچھ ایسے کیمیائی مادے پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو جنس مخالف کی طرف ہماری کشش میں بے پناہ اضافہ کر دیتے ہیں ۔ سائنسدانوں نے اپنی تحقیقات کے لئے جب اعدادوشمار جمع کئے تو انہیں معلوم ہوا کہ جنسی کشش نوجوان ذہنوں کو اس حد تک متاثر کرتی ہے کہ ان کی قابل ذکر تعداد جاگتے لمحوں کے دوران اس کے بارے میں ہر 14 سے20سکینڈ بعد کچھ نہ کچھ سوچتے ہیں۔ بعض اس کی تسکین کے لئے مخصوص کتابیں پڑھتے ہیں جبکہ کچھ فلمیں وغیرہ دیکھتے ہیں۔
جنسی کشش کا باعث بننے والے کیمیائی مادوں کو فیرا مونز(pheromones) کہا جاتا ہے جن کی بھینی بھینی مہک لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی ہے۔ انہیں سونگھنے کیلئے ہماری ناکوں میں ایک اعصابی جمگھٹا(nerve plexuses) ہوتا ہے۔یہ جمگھٹا مویشیوں‘ چوہوں‘ سانپوں اور چھپکلیوںکی ناکوں میں انسانوں کی نسبت خاصا بڑا ہوتا ہے۔
اگرہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں توہمیں جانوروں اور پودوں میں بھی اس نظام کی مثالیں نظر آئیں گی ۔پھول‘ رنگوں کی خوبصورتی کے علاوہ اپنی خوشبوﺅں کی مدد سے کیڑے مکوڑوں اور شہد کی مکھیوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ”رات کی رانی“ نامی پودے پر پھول رات کو کھلتے ہیں لہٰذا انہیں خوبصورتی کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی لیکن ان کی خوشبو اتنی تیز ہوتی ہے کہ دور دور تک اور بہت تیزی سے پھیل جاتی ہے۔ پھولوں پر جب مکھیاں اور دوسرے کیڑے مکوڑے بیٹھتے ہیں تو انہیں ایک خاص مٹھاس سے نوازا جاتا ہے۔ ان مکھیوں کی وجہ سے پودوں کی افزائش نسل کا سلسلہ آگے چلتا ہے۔
جب مادہ جانوربچے جننے کے لئے تیار ہوتے ہیں تو اس کے اعلان کے طور پر ان کے جسم میں موجود جنسی غدود کچھ رطوبتیں بناتے ہیں۔ ان کی نسل کے نر جانور اس خوشبو کو دور دراز سے سونگھ کراس مادہ کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔اسی طرح اختلاط کیلئے تیار پتنگوں (تتلیوں سے ملتے جلتے مکوڑوں) کی مادہ کے جسم سے کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں۔ اگر ہوا کے جھونکے اس مادہ کی سمت سے آرہے ہوں توان کے نر کئی میل دورسے انہیں سونگھ کر اس تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی حال جنگلی اور پالتو جانوروں کا ہے۔
مشک ایک بہت خوشبودار عطر کا نام ہے جو ایک خاص قسم کے نر ہرن کے غدود سے نکلی ہوئی رطوبت سے بنتا ہے۔ اس کی خوشبو اتنی تیز اور دیرپا ہوتی ہے کہ اس کے متعلق یہ محاورہ بن گیا کہ ”عشق اور مُشک چھپائے نہیں چھپ سکتے۔“یہ ہرن نہ صرف اپنی نسل کی ماداﺅں کو اپنی طرف مائل کرنے کیلئے مشک کا استعمال کرتے ہیں بلکہ ان غدود سے تھوڑی تھوڑی مقدار میں جو مشک جگہ جگہ گرتا ہے‘ وہ باقی نر ہرنوں کیلئے پیغام ہوتا ہے کہ یہ ان کیلئے علاقہ غیرہے لہٰذاوہ وہاں سے دور رہیں۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ جب آپ عشق کی کوئی داستان سنیں تو یہ بات ضرور ذہن میں لائیں کہ اس میں ان فیرامونز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ کیمیائی اجزاءان غدود نے پیدا کئے جوآغاز شباب سے پہلے خاموش بیٹھے رہے اور جوانی آتے ہی آتش فشاں کی طرف پھٹ پڑے۔اس وقت جذبات میں ہیجان ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلوغت میں نیا نیا قدم رکھنے والے بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی زندگی کے بارے میں انتہائی غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔ اسی لئے مذہبی تعلیمات یہ ہیں کہ جب کوئی لڑکا یا لڑکی بالغ ہو جائیں تو ان کی شادی میں غیرضروری تاخیر نہ کی جائے۔
دونوں صنفوں میں کشش کایہ نظام‘ قدرت کے ایک بڑے نظام کا حصہ ہے جس کا مقصدنسل انسانی کی بقا اور کارخانہ قدرت کو قائم رکھنا ہے۔اس تناظر میں قدرت کا منشاءیہی ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاںایک مربوط نظام کے تحت ہی ایک دوسرے سے تعلقات قائم کریں تاکہ خاندانی نظام کو تحفظ مل سکے۔ پردے اور غیرضروری اختلاط وغیرہ سے روکنے کے مذہبی احکام کا مقصدبھی بظاہر یہی نظر آتا ہے۔