صحت کی ذمہ داری اور ہمارے رویئے

صحت کی ذمہ داری اور ہمارے رویئے

145

    صحت جتنا اہم معاملہ ہے اتنا ہی اس کے حوالے سے ہمارے اجتماعی اور انفرادی رویئے لاتعلقی کا مظہر ہیں۔ انفرادی رویوں پر ہم اس صفحے اور میگزین میں متعدد بار بات کر چکے ہیں۔ ان رویوں میں نمایاں پرہیز سے لاپروائی، علاج میں تاخیر، بیماری کی صورت میں غیر مستند طریقہ ہائے علاج سے رجوع اور اسی قبیل کے دیگر رجحانات شامل ہیں جو صحت کے مزید بگاڑ اور علاج کے غیر مو¿ثر ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ نتیجے میں مریض کی حالت بگڑتی جاتی ہے اور مریض کے ساتھ ساتھ اس کے خاندان کے لئے بھی جذباتی اور مالی تکالیف بڑھتی جاتی ہیں۔
ہم نے اس میگزین میں اجتماعی رویوں پر بھی بات کی ہے۔ تاہم صحت جیسا اہم معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر تواتر سے گفتگو کی جائے اور اس کے مختلف پہلوو¿ں کو سامنے لایا جائے تاکہ معاشرے میں آگہی کو فروغ ملے۔ شفا نیوز کا اجرا بھی اسی سوچ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ صحت کے حوالے سے عمومی آگہی کے فروغ کے ساتھ ساتھ رویوں میں تبدیلی کے لئے میڈیا کی قوت کو استعمال کیا جائے۔
اجتماعی اور انفرادی ”صحت دشمن“ مشترک رویوں میں سب سے نمایاں اپنی صحت کی ذمہ داری خود نہ لینا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صحت کی حفاظت یقینی بنانا سب سے پہلے ایک فرد کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اور اس کے بعد ان عوامل پر قابو پانا جو صحت کے لئے ضرر رساں ہیں، خاندانوں اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
ایک بالغ فرد بنیادی طور پر خود اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنی صحت کی ذمہ داری اٹھائے۔ ایسے کاموں سے بچے جو اس کی صحت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ پرہیز ہے۔ اور اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر صحت بخش سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی وہ انفرادی رویہ ہے جو ایک فرد کی اپنی صحت کی ذمہ داری اٹھانے کا حصہ ہے۔
اسی طرح اجتماعی حوالے سے خاندان اور معاشرے پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ برآ ہونا افراد کی صحت کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے۔ ان
ذمہ داریوں میں کچھ بالواسطہ اور کچھ بلاواسطہ ہیں۔ اپنے ماحول کی صفائی (جس میں گھروں اور گلی محلوں کی صفائی دونوں شامل ہیں) ایک براہ راست عامل ہے جس کی اچھی یا بری صورت لوگوں کی صحت پر اچھے یا برے انداز میں اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے اس ضمن میں ہمارے رویئے زیادہ قابل ستائش نہیں اور جہاں اچھی میونسپل خدمات میسر نہیں وہاں صفائی کی صورت حال دگرگوں نظر آتی ہے۔
اجتماعی حوالے سے کچھ کاموں کا صحت کی بہتری سے اگرچہ براہ راست تعلق ہے لیکن عام طور پر ہم یہ کام اس سوچ سے نہیں کرتے۔ ان میں سے ایک بھوک کا خاتمہ ہے۔ باعث اطمینان بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے درکار حساسیت پائی جاتی ہے اور بہت سے افراد اور ادارے بے گھر یا بے وسیلہ لوگوں کے لئے خوراک کا انتظام کرتے ہیں۔ تاہم بہت کم کو اس کا ادراک ہوتا ہے کہ اس اقدام کا براہ راست تعلق اچھی صحت کے ساتھ ہے۔ وہ اسے صرف ثواب کی غرض سے کیا جانے والا کام سمجھتے ہیں۔ ثواب کی غرض سے بھوکے کو کھانا کھلانا بہت احسن کام ہے جس کی مذہبی تعلیمات میں بہت تاکید کی گئی ہے۔ بات کرنے کا مقصد اس سوچ کو واضح کرنا ہے کہ صحت کی حفاظت ہماری ترجیحات میں بہت پیچھے ہے اس لئے اس اہم کام کو کرتے ہوئے اکثر افراد کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کا یہ اقدام کتنا صحت دوست ہے۔
اگر ہم سیاسی مباحث میں کبھی صحت کا ذکر سنتے ہیں تو اس کا فوکس علاج کی ناکافی یا غیر معیاری سہولیات تک محدود رہتا ہے۔ یعنی اس کا ایک لامحالہ نتیجہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی
خرابی صحت حکومت یا ریاست کی ناکامی ہے۔ درست بات شاید یہ ہو گی کہ بیمار لوگوں کے لئے علاج کی ناکافی اور غیر معیاری سہولیات کا ذمہ دار تو حکومت یا ریاست کو ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن
صحت مند لوگوں کے بیمار پڑنے کی ذمہ داری افراد، خاندان اور معاشرے پر بھی اتنی ہی عائد ہوتی ہے۔ اس سوچ میں تبدیلی ہماری اجتماعی صحت کی صورت حال میں تبدیلی کا نکتہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور رہنما رائے عامہ کی تعمیر کا ایک بہت مو¿ثر عامل ہیں۔ اسی طرح ذرائع ابلاغ بھی رائے عامہ کی تشکیل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنما منبر و مسجد کے
پلیٹ فارم کو استعمال کر کے سوچ کی تبدیلی کے اس عمل میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ یہ کام اب شروع ہو جانا چاہئے۔