شہداور اس کی مکھی

349

شہد کی مکھیوں کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایاگیا ہے کہ ان کے پیٹوں سے جو لعاب نکلتا ہے اس میں بیماروں کے لئے شفاءہے۔ اس لعاب سے مراد گاڑھا اورشیرے کی طرح میٹھا شہد ہے جس میں مختلف پھولوں کی مہک قدرتی طور پررچی بسی ہوتی ہے۔ شہد کی ایک مخصوص خوشبو ہوتی ہے جو اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ جب اسے تیار کیاگیا تو اس وقت قرب و جوار میں کون کون سے پھول جو بن پر تھے ۔پھول اپنی خوشبو اور رنگارنگ پتیوں کے ذریعے شہد کی مکھیوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیںاور مہمانداری کے طور پر انہیں اپنامیٹھا رس (nector)بھی پیش کرتے ہیں۔ پھولوں کی طرف سے اس فیاضی کا بنیادی مقصد اپنی بارآوری (fertilization) میں ان کی مدد حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ پھولوں کے رس کو چھتے تک لے جانے کے لئے ان کی ٹانگوں کے درمیان دوعددچھوٹی چھوٹی ٹوکریاں موجود ہوتی ہےں ۔ مکھیاں ایک ہی چکر میں پھولوں کے زردانے (pollen grains) اور رس‘ دونوں کو ان ٹوکریوں میں بھر کراپنے چھتے میں لے جاتی ہیں۔
عہدقدیم کے اہل روم شہد کو زخموں کے علاج کے لئے بطور مرہم استعمال کرتے تھے۔ خوراک کا گلنا سڑنا دراصل بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے۔شہد میں چونکہ دافع جراثیم (anti bacterial) صلاحیت پائی جاتی ہے لہٰذا بیکٹیریا اس میں نشوونما نہیں پاسکتے۔یہی وجہ ہے کہ دیگر غذاﺅں کے برعکس شہد ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود خراب نہیں ہوتااور نہ ہی اس کا ذائقہ بدلتا ہے۔مصر کے قدیم مقبروں سے ایسا شہد بھی ملا ہے جسے آج سے دو یا تین ہزار برس پہلے مُردوں کے ساتھ دفن کیا گیا تھا ۔اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود دریافت کے وقت وہ قابل استعمال تھا ۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ سکندر اعظم کا جب انتقال ہوا تو وہ اپنے وطن سے بہت دور تھا لہٰذا اس کی نعش کو شہد میں رکھ کر مصرکے شہر سکندریہ (Alexandria) لایاگیا ۔لمبے سفر کے باوجود اس کی نعش شہد کی وجہ سے گلنے سڑنے سے محفوظ رہی۔ قدیم زمانے کے مصری باشندے دیوتاﺅں کی خوشنودی کے لئے بڑی مقدار میں شہد کو دریا میں اُنڈیل دیاکرتے تھے ۔
شہد کی مکھیاں آزاد رہتی ہیں اور اپنی پسند کی جگہ پر شہد بناتی ہیں لیکن آج کل انسان انہیں اپنی نگرانی میں بھی پالتے ہیں۔ آثارقدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل کا آغاز 700سال قبل مسیح میں ہوا۔ جب شراب بنانے کا طریقہ ایجاد ہوا تو شہد کی مدد سے میٹھی شراب ) (mead بنانے کا بھی آغاز ہوا۔شادی کے بعد نوبیاہتا جوڑے ” ہنی مون“ مناتے ہیں ۔ اس اصطلاح میں لفظ ” ہنی “یعنی شہد کے استعمال کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ یورپ کے بعض قدیم قبیلوں اور علاقوں میں یہ رواج تھا کہ جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی تو اس کا والد اپنی بیٹی اور داماد کے لئے ایک ماہ تک(یعنی چاند کی اگلی تاریخ تک) شہد سے بنی ہوئی شراب روزانہ بھیجتا تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قدیم انسانوں نے غذا میں مٹھاس پیدا کرنے کے لئے سب سے پہلے شہد ہی کا استعمال شروع کیا، ا س لئے کہ گڑ اور چینی بہت بعدمیں ایجاد ہوئے ۔
شہد کی مکھیاں گرمیوں میں اپنے پردوں کو پنکھوں کی طرح تیزی سے ہلا کر ہوا پیداکرتی ہیں تاکہ چھتے میں درجہ حرارت بڑھنے نہ پائے ۔ چھتے میں تین قسم کی مکھیاں ملتی ہیں۔ان میں سے پہلی” مزدور مکھیاں“ ہیں جو پھولوں کا رس چوس کر اس سے شہد بناتی ہیں۔اگرچہ مزدور مکھیاں مادہ ہوتی ہیں لیکن بیضہ دانیاں نہ ہونے کی وجہ سے وہ بانجھ ہوتی ہیں۔ صرف ”ملکہ مکھی “ہی انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جو سائز میں باقی مکھیوں سے دُگنی بڑی ہوتی ہے۔ انڈوں سے نکلنے کے بعد اس کی ابتدائی حالت یعنی ”لاروا“ کو ”شاہی جیلی“ جیسی خاص غذاکھلائی جاتی ہے جسے تیار کرنے کے لئے شہد کی مکھیوں کے گلے میں خاص غدود ہوتے ہیں۔جس طرح ایک نیام میں دوتلواریں نہیں سماسکتیں ‘اسی طرح ہر چھتے میں صرف ایک ہی ملکہ مکھی رہتی ہے۔ جنم لینے کے بعد جب یہ بالغ ہوتی ہے تو ملکہ بننے کی دعویدار تمام حریف مکھیوں کو ماردیتی ہے۔ مزدورمکھیاں جب دیکھتی ہیں کہ اُن کی ملکہ چھتے سے فرار ہو کرکہیں اور چلی گئی یا مرنے والی ہے تو عام لاروﺅں پر شاہی جیلی بند کردیتی ہیں اوراس غذا کو تندرست دکھائی دینے والے چند لاروﺅں کے لئے مخصوص کر دیا جاتا ہے۔ ملکہ مکھی کی عمر دوسال کے لگ بھگ ہوتی ہے جبکہ مزدور مکھیاں اوسطاً چھ ہفتے زندہ رہتی ہیں۔ نرمکھیاں یعنی ڈرونز (drones) مزدور مکھیوں سے قدرے بڑے لیکن ملکہ سے چھوٹے ہوتے ہیں اوراُن کی آنکھیں مزدور مکھیوں سے دُگنی ہوتی ہیں۔ان کے ذمے ملکہ مکھی سے اختلاط کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا اور ملکہ ان میں سے چند ایک کے ساتھ زندگی میں ایک دفعہ اس طرح کا تعلق قائم کرتی ہے۔اس کے بعد چونکہ اُن کی ضرورت باقی نہیں رہتی لہٰذا انہیں ماردیاجاتا ہے یا چھتے سے بھگا دیاجاتا ہے ۔چھتوں میں موم اور خاص طرح کی گوند بھی پائی جاتی ہے۔ قدرت نے مکھیوں کے گلے میں مخصوص غدود(glands)پیدا کئے ہیں جن سے خاص طرح کا موم خارج ہوتا ہے ۔ اس سے چھتے میں بہت ہی خوبصورت ”چھ طرفہ“خانے بنتے ہیں جوحیرت انگیز حد تک یکساں (symmetrical) ہوتے ہیں ۔انہی خانوں میں مکھیاں پلتی ہیں اور شاہی جیلی یا شہد پایاجاتا ہے ۔چونکہ ملکہ مکھی سائز میں بڑی ہوتی ہے لہٰذا اُس کا خانہ بھی دیگر مکھیوں کے خانوں سے بڑا ہوتا ہے۔ گوند درختوں وغیرہ سے اکٹھا کیا جاتا ہے جس کی مددسے چھتے کے خانوں کو سِیل کیا جاتا ہے ۔
شہد کو چوری ہونے سے بچانے کے لئے ہر چھتے کی مکھیاں خاص قسم کی مہک پیدا کرتی ہیں جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو پہچان لیتی ہیں۔ جن حشرات الارض کو چھتے میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے‘ وہ اردگرد منڈلاتے رہتے ہیں ۔ اس ماحول میں رہنے سے مخصوص مہک ان میں بھی رچ بس جاتی ہے۔ یوں انہیں بھی چوری چھپے چھتے میں داخل ہونے کا موقع مل جاتاہے لیکن اندر داخل ہوتے ہی اُنہیں پہچان لیاجاتا ہے۔ اس پر مکھیاں بپھر کر چور کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ ان میں سے کئی مکھیاں اس کے اردگرد گیند کی شکل میں جمع ہوجاتی ہیں اور اپنے جسم کے تمام پٹھوں کو پوری قوت سے حرکت میں لاتی ہیں۔ اس سے اُن کے جسم کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے لگتا ہے اور چورکے جسم کا درجہ حرارت 117ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ یوں وہ ’پک“ کر مر جاتا ہے اور اسے ڈسنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
شہد میںاگرچہ شفا ہے لیکن اس کا استعمال امراض کے مطابق کرنا ضروری ہے ۔اس تناظر میں ذیابیطس کے ماہر ڈاکٹر مریضوں کو اس سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں ۔