سرد ہوائیں،پھٹی ایڑیاں پاؤں کی حفاظت کیسے کریں

59

دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ ہاتھوں اورچہرے کی جلد کا خیال تو رکھتے ہیں مگر پاؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔سردیوں کے موسم میں ایڑیوں کی جلد خشک ہو کر پھٹنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی پہلی علامت پائوں ‘ خصوصاً ایڑیوں کی جلد کا خشک اور سخت ہونا ہے جسے نظرانداز کیا جائے تو اس پر دراڑیں آجاتی ہیں۔اس سے وہ نہ صرف دیکھنے میں بدنما لگتی ہیں بلکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب چلنے سے ان میں درد ہوتا ہے اور بعض اوقات ان سے خون بھی نکلتا ہے۔اس مسئلے کا زیادہ شکار بڑی عمر کے افرادیا وہ لوگ ہوتے ہیں جو زیادہ دیر تک کھڑے ہوکر کام کرتے ہیں۔

ایڑیاں پھٹنے کی وجوہات
اس کی ایک وجہ پاؤں کی دیکھ بھال نہ کرنا ہے جس سے ان کی جلد میں لچک ختم ہو جاتی ہے۔ایسے میں جب ہم چلتے ہیں تو ان پر دباؤ زیادہ پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ایڑیاں پھٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ویسے تو یہ مسئلہ کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر لوگ سردیوں میں اس سے متاثر ہوتے ہیں جس کا سبب ٹھنڈ کے باعث جلد کا خشک ہونا ہے۔
ذیابیطس بھی اس کا سبب بنتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس مرض کے شکار افراد کو پاؤں کی دیکھ بھال کی خاص طور پر تاکید کی جاتی ہے۔انہیں چاہئے کہ اپنے پیروں کا معائنہ بلا ناغہ کریں کیونکہ کسی زخم کی صورت میں ان کو درد یا تکلیف محسوس نہیں ہوتی جسے مرض کے بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے اور اکثر اوقات نوبت پاؤں کاٹنے تک آ جاتی ہے۔اگر اس میں درد یا سوجن ہو‘ وہ سرخی مائل ہو جائے یا اس میں جلن ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ عام افراد بھی پاؤںمیںزخم یا چھالے کی صورت میں لازماً احتیاط کریں کیونکہ چھوٹا سازخم بھی بگڑ کر کسی بڑے مسئلے کا سبب بن سکتا ہے۔ زخم کو صاف رکھیں اور پٹی تبدیل کرتے رہیں تاکہ انفیکشن سے بچا جا سکے ۔

جوتے اور پاؤں
جوتا زیادہ تنگ اور کھلا نہیں بلکہ نرم اور ’’سپورٹنگ‘‘ ہونا چاہیے۔بالکل ہمواراور آسانی سے مڑجانے والا جوتا ٹھیک نہیں رہتا‘ اس لئے کہ وہ پاؤں کو سہارا دینے کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ جوتا موسم کی مناسبت سے موزوں ہونا چاہیے۔مثلاًسردیوںمیں چونکہ پاؤں کو گرم اور محفوظ رکھنا مقصد ہوتاہے لہٰذا بند جوتا بہترین ہے۔
پاؤں اور ناخنوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ جوتوں کی بھی صفائی کریں کیونکہ ان سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے۔پھپھوندی سے بچاؤ کے لیے آپ جوتوںپرپھپھوندی ختم کرنے والا سپرے بھی کرسکتے ہیں۔
ایتھلیٹ فُٹ (Athlete foot)
یہ پھپھوندی کی وجہ سے ہونے والا انفیکشن ہے جس کی علامات میں انگوٹھوں کے درمیان کی جگہ کاپھٹ جانا اوراس میں کھجلی ہونا شامل ہے۔اس سے بچنے کے لیے نہانے کے بعدپیروں اور خاص طور پر انگوٹھوںکے درمیان کی جگہوں کو اچھی طرح خشک کریں۔اس حصے پرپاؤڈر بھی چھڑکیں ۔ مزید براں نائیلون کے موزے پہننے سے گریز کریں۔اگر علامات برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
حفاظت کیسے کریں
مندرجہ ذیل ٹپس پر عمل کرکے پائوںکی حفاظت بہتر طور پر کی جا سکتی ہے:
٭انہیں اچھی طرح سے دھو ئیں۔ خاص طور پر ایڑیوں کو رگڑ کر صاف کریں تاکہ مردہ اور سخت جلد اتر جائے۔
٭پاؤں کی جلد کو خشک نہ ہونے دیں۔اس پر موئسچرائزنگ کریم ،لوشن یا پیٹرولیم جیلی لگائیں۔
٭ٹھنڈ میں ننگے پاؤں پھرنے سے اجتناب کریںکیونکہ سخت جگہ ان کی جلد کوکھردرابناتی ہے۔
٭رات کو سونے سے پہلے نیم گرم پانی میں تھوڑاسا نمک شامل کر کے اس میں پیروں کو رکھیں۔اس سے پاؤںکی میل کے ساتھ تھکاوٹ بھی دورہو گی۔

٭بہت سے لوگوں کی ملازمت یا ذریعہ معاش ایسا ہوتا ہے جس میں انہیں زیادہ دیر تک کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا ہوتا ہے۔پاؤں مسلسل لٹکائے رکھنے کی وجہ سے ان میں درد ہوتاہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ کام کے دوران تھوڑی دیر کے لیے چہل قدمی کو اپنا معمول بنائیں۔

جسم کے دیگر حصوں کی طرح پاؤں بھی بے حد اہم ہیں لیکن اکثراس بنا پر نظر انداز کردئیے جاتے ہیںکہ یہ لوگوں کی نظروں سے چھپے ہوتے ہیں۔حقیقتاًآپ کی صفائی کا اندازہ پیروں کی صفائی سے ہی لگایا جاتا ہے۔سردی کے موسم میں پاؤں کا خیال رکھیں ۔خاص طور پر ذیابیطس کے مریض اس بات کا انتظار نہ کریں کہ تکلیف ہونے پر ہی ڈاکٹر سے رابطہ کریں گے بلکہ معالج سے مشورے کرتے رہیں تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of