سردیوں میں بے رونق جلد

299

گرمیوں کی نسبت سردیوں کے موسم میں ہوا میں نمی کاتناسب کم ہوجاتا ہے جس کا اثر ہماری جلد پر بھی پڑتا ہے اوروہ خشک اور بے رونق ہو جاتی ہے ۔تھوڑی سی توجہ دے کر ہم اس موسم میں بھی اپنی جلد کی خوبصورتی اور نکھار میں اضافہ کر سکتے ہیں ۔ٹھنڈے موسم کے عام مسائل پرکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہورکے پروفیسر آف ڈرماٹالوجی ڈاکٹر اعجازحسین مفید معلومات فراہم کر رہے ہیں ۔(انٹرویو:ثنا ظفر)


٭سردیوں میں لوگوں کو عموماًجلد کے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
٭٭لوگوں کو سردیوں میں بالعموم جلد کے جن مسائل کا سامنا رہتا ہے‘ ان میں چہرے اور جسم کی جلد کا خشک ہونانمایاں ہیں۔اگریہ بہت زیادہ خشک رہے تو جلد کی سوزش ہو جاتی ہے جسے چنبل(eczema) کہتے ہیں ۔ بعض اوقات جلد کے ان حصوں سے پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے ۔بچوں کی جلد زیادہ نرم ہوتی ہے اور ان کے گال سرخ ہو کرپھٹنے لگتے ہیں۔بڑوں کے پاﺅں کی ایڑیاں اور ہتھیلی کی جلدبھی پھٹنے لگتی ہے ۔اس موسم میں صرف جلد ہی نہیں بال بھی متاثر ہوتے ہیںاورخشک ہو کر ٹوٹنا شرع ہو جاتے ہیں ۔
٭جلد خشک ہونے کی کیا وجہ ہوتی ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
٭٭گرمیوں میں پسینے اور چکنائی کی وجہ سے جلد خشک نہیں ہوتی جبکہ سردیوں میں ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو جاتا ہے ۔اس وجہ سے ہوا انسانی جسم سے نمی کھینچ لیتی ہے اور لوگوں میںجلد کے خشک ہونے اور پھٹنے کی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔اس کے علاوہ وہ زیادہ گرم پانی سے نہاتے ہیں جو جلد سے ضروری چکنائی بھی ختم کر دیتا ہے ۔ بعد میں تولیے سے جلد صاف کرنے اور رگڑنے سے وہ مزید خشک ہو جاتی ہے ۔بعض صابن بھی ایسے ہو تے ہیں جو اسے خشک کرتے ہیں۔اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے صابن کا استعمال کم کیا جائے ۔بازار میں کچھ ایسے صابن بھی ملتے ہیں جن میںگلیسرین اورموئسچرائیزرز شامل ہوتے ہیں۔ان سے ہاتھ دھونے پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہلکی سی چکنائی ہاتھوں پر رہ گئی ہو ۔ان کا استعمال بھی جلد کے لیے مفید ہے۔ نہاتے وقت پانی نیم گرم ہونا چاہیے جس سے ٹھنڈ بھی محسوس نہ ہو اور وہ جلد کے لیے بھی مفید ہو ۔جب نہائیں تو تولیے کی مدد سے پانی ہلکا ساخشک کر لیں اور کوئی آئل گیلے جسم پر لگا لیں ۔اس سے بھی خشکی نہیں ہو گی۔ تولیے کا استعمال کم سے کم کریں۔
٭موئسچرائزرزاس ضمن میں کتنے فائدہ مند ہیں؟
٭٭ موئسچرائزر(moisturiser) ایسی چیز کو کہتے ہیں جو جلد میں پانی کی مقدار کوقائم رکھے ۔پہلے زمانے میں لوگ اس کے لیے آئل استعمال کیا کرتے تھے۔ مثلاً پنجاب میں سرسوں اور پہاڑی علاقوں میں خوبانی یا کسی اور چیز کا آئل اب بھی جلد پر لگایا جاتاہے ۔بازار میں مختلف موئسچرائزر دستیاب ہیں ۔آپ اپنی پسند کالوشن یا کولڈ کریم لگائیں اوراگر یہ نہ ہوں توپٹرولیم جیلی لگالیں ۔یہ بھی جلد کو نرم کرنے کے لیے مفید ہے ۔کچھ ایسے لوشن اور کریمیں بھی دستیاب ہیں جو جلد کی نوعیت کے مطابق مختلف فارمولوں پر بنائی جاتی ہیں اوران پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کی جلد (مثلاًچکنی ،خشک یا حساس)کے لیے ہیں ۔نارمل جلد کے لیے کوئی بھی کولڈ کریم فائدہ مند ہوتی ہے ۔
٭کیا گیس ہیٹر جلد کے لیے نقصان دہ ہے ؟
٭٭بعض علاقوں میں سخت سردی کی وجہ سے گیس ہیٹر کا استعمال زیادہ کیا جاتاہے ۔ عام مشاہدہ ہے کہ گیس ہیٹر کے سامنے اگر کھانے کی کوئی چیز رکھیں تو وہ خشک ہو جاتی ہے ۔اسی طرح زیادہ دیرتک ہیٹرکے سامنے رہنے سے جلد کی نمی بھی کم ہو جاتی ہے جس سے وہ خشک ہو جاتی ہے ۔اس لیے اس کا استعمال کم کریںیا اس کے اوپر یا سامنے ایک برتن میں پانی رکھ دیں تاکہ کمرے میں نمی کی مقدار کم نہ ہو۔
٭بزرگوں کے لیے یہ موسم کتنا مشکل ہوتا ہے ؟
٭٭بزرگوں کے لیے یہ موسم سخت ہوتا ہے۔ان کے لیے ضروری ہے کہ خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں اور جلد کو خشک ہونے سے بچائیں۔
٭کیا گرم کپڑے الرجی یا خارش کا باعث بن سکتے ہیں ؟
٭٭بعض لوگوں کی جلد حساس ہوتی ہے یا انہیں اون (wool)سے الرجی ہوتی ہے اور وہ اس کے بنے ہوئے کپڑوں کو برداشت نہیں کرسکتے ۔ جولوگ چنبل جیسی سوزش (Atopic dermatitis)سے متاثر ہوں،انہیں اس موسم میں جلد زیادہ خشک ہونے کی وجہ سے شدید ایگزیما بھی ہو سکتا ہے ۔انہیں چاہیے کہ اون کے کپڑوں کے نیچے کوئی کاٹن کی چیز پہنیں ۔
٭ کیا ہونٹوں کو نم رکھنے کے لیے ان پرزبان پھیرنانقصان دہ ہے؟
٭٭ جب ہونٹ خشک ہوتے ہیں تو انہیں نم رکھنے کے لیے لوگ ان پر زبان پھیرتے ہیں۔جیسے ہی ان کی یہ نمی ختم ہوتی ہے، ہونٹ پہلے سے زیادہ خشک ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ جب ان پر پپڑیاںبنتی ہیں تو وہ انہیں دانتوں یا ہاتھ کے ذریعے نوچتے رہتے ہیں جس سے زخم بن جاتے ہیں ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم چیپ سٹک(chapstick) یا کوئی بام وغیرہ استعمال کریں ۔اگر ہم روزانہ کوئی موئسچرائزر استعمال کریں تو اس سے ہونٹ نرم رہیں گے ۔
٭سرد موسم میں عموماً لوگوں کا رنگ گہرا ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔اس کی کیا وجہ ہے ؟
٭٭لوگ گرمیوں میں گرمی کی وجہ سے دھوپ میں نہیں جاتے لیکن سردیوں میں وہ نہ صرف دھوپ میں بیٹھتے ہیں بلکہ ان کا چہرہ بھی عموماًسورج کی طرف ہوتا ہے ۔اس سے ان کارنگ خراب ہو جاتاہے ۔ لوگوں میں ایک غلط خیال یہ پایا جاتا ہے کہ اس موسم کی دھوپ جلد کو نقصان نہیں پہنچاتی جبکہ ایسا نہیں ہے۔سرد یوں کی دھوپ بھی گرم موسم جتنی ہی سخت ہوتی ہے اور اتنا ہی نقصان پہنچاتی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جو خواتین و حضرات ڈرائیونگ کرتے ہیں‘ ان کے ہاتھوں کا رنگ دوسری جلد سے مختلف ہوتاہے۔اسی طرح جو آدھی آستینوں کی قمیض پہنتے ہیں ان کے بازوو¿ں کا رنگ بھی مختلف ہوتا ہے ۔ ماہرامراض جلد انہیں سن بلاک استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ سورج کی مضر شعاﺅں سے بچا جا سکے۔سن بلاک کا استعمال سردیوں میں بھی گرمیوں جتنا ہی ضروری ہے ۔ اگر دھوپ میں بیٹھنے کو دل چاہ رہاہو تو سورج کی طرف منہ نہیں بلکہ کمر کر کے اور سن بلاک لگا کر بیٹھیں۔
٭جلد کو خشکی سے بچانے کے لیے کتنے گلاس پانی پینا چاہیے؟
٭٭جلد کو موئسچرائزڈ رکھنے کے لیے پانی پینا بہت ضروری ہے ۔سرد موسم کی وجہ سے لوگوں کو پیاس کم محسوس ہوتی ہے اور وہ پانی کم پیتے ہیں ۔انہیں چاہیے کہ سات سے آٹھ گلاس پانی پئیں تاکہ جلد کو مناسب مقدار میں نمی ملتی رہے ۔اس سے ان کے گردوں پر بھی اچھا اثر پڑے گااور جلدبھی تروتازہ رہے گی ۔
٭لوگوں کو اس موسم میں اور کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟
٭٭سرد موسم میں بعض لوگوں کومختلف الرجیز ہو جاتی ہیں ۔جسم میں خون کی گردش کم ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوںکے ہاتھ اور پاﺅں کی انگلیاں پیلی پڑ جاتی ہیں ۔ٹھنڈ کی وجہ سے خون کی نالیاں تنگ پڑ جاتی ہیں ۔اس کی وجہ سے انگلیاں پہلے سفید ، پھر نیلی اور آہستہ آہستہ سرخ ہوناشروع ہو جاتی ہیں ۔جیسے ہی موسم بدلتا ہے یہ ٹھیک ہو جاتی ہیں ۔ پاﺅں چونکہ دل سے دور ہوتے ہیں اورسرد موسم میںان تک خون کی سپلائی کم ہو جاتی ہے لہٰذا یہ سرخ ہوکر سوج جاتی ہیںاور ان پرجلن یا خارش ہوتی ہے ۔اسے بوائیاں (chilblains)کہتے ہیں ۔اس کے علاوہ پاﺅں پر چھالے بھی بن جاتے ہیں ۔اس صورت میںلوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ اور پاﺅں کو ٹھنڈے پانی سے بچائیں ۔بوائیوں میں ہاتھ پاﺅں گرم ہونے کی وجہ سے نسیںپھیلتی ہیں اس وقت انہیں خارش اور سوجن کا مسئلہ زیادہ ہوتا ہے ۔ اس صورتحال کا سامنا گرم سے ٹھنڈی جگہ جانے سے بھی ہوتاہے۔جسم کو جب ٹھنڈ لگتی ہے تو اس کا اثر ہمارے ہاتھ اور پاﺅں پر بھی ہوتا ہے ۔اس کے لیے انہیں چاہیے کہ وہ دو‘ دو جرابیں اوردستانے ا ستعمال کریں ۔اسی طرح کچھ لوگوں کو ٹھنڈے پانی سے ایک خاص الرجی ہو جاتی ہے جس میں جلد پر چھپاکی دار دانے (cold urticaria)نکل آتے ہیں ۔انہیں دھپڑ بھی کہتے ہیں ۔ان کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک سردموسم بھی ہے۔اس لیے سردی سے خود کو بچا کر رکھیں ۔
٭اس موسم میں ہم بالوں کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں ؟
٭٭عموماًگرمیوں میں سر کی خشکی کا مسئلہ کم ہوتا ہے ۔سردیوں میں عام جلد کی طرح سر کی جلد بھی خشک ہو جاتی ہے۔اس کے لیے ہفتے میں ایک دفعہ آئل ضرورلگا ئیں یا ایسے شیمپو استعمال کریں جواینٹی ڈینڈرف ہوں ۔شیمپو کا زیادہ استعمال بھی ان کے لیے نقصان دہ ہے۔اس کے لیے شیمپو کی کچھ مقدار پانی میں مکس کر کے بالوں میں لگائیں۔کنڈیشنر اور آئل کااستعمال بھی ان کے لیے مفید ہے ۔اس سے بال خشک نہیں ہوں گے ۔بالوں کو بھی موئسچرائزڈ رکھناجلد جتناہی ضروری ہے ۔
٭سرد موسم میں مہاسوں کا مسئلہ کتناعام ہے؟
٭٭ خشک موسم میں بعض لوگوں کو مہاسوں کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔بعض موئسچرائزر ایسے ہوتے ہیں جن میں آئل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور وہ مہاسوں کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔آج کل ایسے موئسچرائزرز بھی دستیاب ہیں جوجلد کے مساموں کوزیاہ بند نہیں کرتے اور جلد کی نمی برقرار رکھتے ہیں۔اس لیے مہاسوں سے پریشان افراد اپنی جلد کے مطابق ان کا استعمال کریںاور اس کے ساتھ پانی بھی مناسب مقدار میں پئیں ۔
٭بچوں کی جلد کوٹھنڈ سے کیسے بچایا جا سکتا ہے ؟
٭٭بچوں کی جلد نرم اور زیادہ حساس ہوتی ہے اور ان پر سردی کا اثر بھی زیادہ ہوتاہے۔اس لیے انہیں ڈھانپ کر رکھنازیادہ ضروری ہوتاہے۔اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ اتنے بھی گرم نہ ہوں کہ ہلکی سی ٹھنڈی ہوا لگنے پر بیمار ہو جائیں ۔بڑوں کی نسبت انہیں موئسچرائزر کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ان کے گال سرخ ہو کر پھٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے لوشن ،کولڈ کریم اور گلیسرین ضرورلگائیں ۔اس سے یہ مسئلہ عام طور پر ٹھیک ہو جاتا ہے اور اگر نہ ٹھیک ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔
٭سیکنڈ ہینڈ گرم کپڑوں کو استعمال کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے ؟
٭٭ایسے کپڑوں میں جراثیم ہو تے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ انہیں ڈرائی کلین کروا لیا جائے ۔انہیں گرم پانی سے دھوکر تیز دھوپ میں سکھایا جائے تو ان میں موجود جراثیم ختم ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ جب کسی بھی نئے موسم کے کپڑے نکالیں تو انہیں دھوپ ضرور لگوائیں ۔
٭ میوہ جات جو سرد موسم کے تحفے ہیں ،جلدکے لیے کتنے مفید ہیں ؟
٭٭سرد موسم میں لوگ مچھلی اور مختلف میوہ جات کا استعمال بڑھا دیتے ہیں ۔یہ تمام چیزیں صحت کے لیے اچھی ہیں لیکن اگر کسی کو میوے کھانے سے مہاسے بڑھنے کا مسئلہ ہو تو ان کا استعمال کم کردیں ۔وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جلد کے لیے بہت مفید ہیں ۔ گاجر اور مالٹا اس موسم کی خاص سوغات ہے ۔ مالٹا سردیوں میں جلد پر پڑنے والے مضرصحت اثرات سے بچاتا ہے ۔اس کا جوس جلد کے لیے بہت فائدہ مند ہے ۔
٭برتن اور کپڑے دھونے کے بعد ہاتھوں کو موئسچرائز کرنا کتنا ضروری ہے ؟
٭٭خواتین جب برتن یا کپڑے دھوئیں تو اس کے فوراًبعد ہلکے گیلے ہاتھوں سے پیٹرولیم جیلی یا کولڈ کریم ضرور لگائیں۔ ہاتھوں کے لیے بازار میں کئی طرح کی کولڈ کریمیں دستیاب ہیں ۔پہلے پہل خواتین گھر میں ہی گلیسرین ،عرق گلاب اور لیموں کا رس ملا کر ایک مکسچر بنا لیتی تھیں ۔یہ جلد کے لیے اب بھی کارآمد ہے اور جن لوگوںکو خشک جلد کا مسئلہ ہو‘ ان کے لیے باقاعدگی سے اس کا استعمال مفید ہے ۔اگر خشک جلد کو کنٹرول نہ کیا جائے تو وہ بڑھ کر ایگزیما کی شکل اختیار کر لے گی ۔
٭کیا تمام طرح کے لوشن جلد کے لیے مفید ہیں ؟
٭٭لوشن اور موئسچرائزر میں اہم چیز گلیسرین ہے جو جلد کو خشکی سے بچاتی ہے ۔اس لیے اپنی پسند کا لوشن استعمال کریں۔ چہرے کے لیے استعمال کی جانے والی بعض کریموں میں سٹیرائیڈز ہوتے ہیں،اس لیے ان کے استعمال میں احتیاط کریں ۔ایسی کریمیں جو رنگ گورا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، ان میں مرکری(Mercury) کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے ۔یہ گردوں پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں اور چہرے کی جلد کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔اس لیے ان کے استعمال سے گریز کریں۔
٭گفتگو کو سمیٹتے ہوئے بتائیں کہ ہم اپنی جلد کی حفاظت کیسے کریں
٭٭اگر آپ اپنی جلد کو خشک اور روکھے پن سے بچانا چاہتے ہیں تواچھی اور متوازن غذا ءاستعمال کریں ،روزانہ اچھی نیند لیں،تازہ پھلوں کا جوس ،پانی اورسبزیوں کااستعمال زیادہ کریں ۔اس کے علاوہ ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

نرم وملائم جلد‘ سردیوں میں کیسے

گرمیوں کے برعکس سردیوں میں ہوا میں نمی کاتناسب کم ہوجات

یہ بتائیے کہ شعبہ امراض جلد میں کون سی بیماریوں کا علاج

    ہمارا دیس اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اس میں تمام موس

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of