زندگی سے پیار

زندگی سے پیار

168

ٍٍویلما(فرضی نام) اور اُس کا شوہر میرے پرانے مریض تھے جو کئی برس تک میرے زیر علاج رہے۔اس کا شوہر جسے میں ’ہاریس‘ کہوں گا‘ بہت زیادہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہو کر چند برس پہلے انتقال کرچکا تھا۔وفات کے بعد اس کی صحت کا بیمہ بھی ختم ہوگیا لہٰذا اس کی بیوہ کو اپنے علاج کاخرچ خود ہی برداشت کرنا پڑتاتھا۔ خوش قسمتی سے اُس کا شوہر انتقال سے قبل ایک گھر اور کچھ بینک بیلنس بیوی کے لئے چھوڑگیا تھا۔ اپنا گھر ہونے کی وجہ سے وہ مکان کا کرایہ ادا کرنے سے بھی بچی ہوئی تھی۔اس کے پاس درمیانے سائز کی ایک گاڑی بھی تھی جسے وہ خود چلا لیتی تھی۔یوں محدود وسائل کے باوجوداس کے گھریلو اخراجات پورے ہوجاتے تھے تاہم اُسے بہت دیکھ بھال کر خرچ کرنا پڑتا تھا تاکہ اس کی جمع پونجی جلدختم نہ ہوجائے۔اس کی عمر50سال کے لگ بھگ تھی اور تقریباً30سال کی شادی شدہ زندگی کے باوجود وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھی ۔ شوہر کی موت کے بعد چند سہیلیوں کے سوا اس بھری دنیا میں اس کا کوئی نہ تھا۔
شوہر کی موت کے بعد ویلما کو کبھی کبھار پیٹ میں درد کی ٹیسوں کی شکایت ہوتی تھی ۔ اس کی بھوک بھی پہلے جیسی نہ رہی لہٰذا اس کا وزن بھی 10سے 15 پونڈ کم ہوگیا تھا۔ میرے خیال میں اس کا سبب شوہر کی موت پراس کامسلسل کڑھنا اوراُداس رہنا تھا۔شوہر کی موت کے بعد وہ طبی مشورے کے لئے بہت ہی کم میرے پاس آتی ۔بظاہر اس کا سبب یہ تھا کہ اُسے کوئی خاص تکلیف نہ تھی لیکن میری ذاتی رائے میں وہ صرف پیسے بچانے کے لئے ایسا کرتی تھی ۔میں نے ایک آدھ بار اس کی توجہ اس کے مسلسل کم ہوتے وزن کی طرف دلانے کی کوشش کی لیکن وہ بات کو ٹال گئی اورکہنے لگی :
” اچھا ہے کہ میرا فالتو وزن کم ہورہا ہے ۔ میرے کئی برس پہلے کے کپڑے مجھ پر دوبارہ فٹ آنے لگے ہیں۔ لہٰذا میں وزن کی اس کمی پر خوش ہوں اور چاہتی ہوں کہ یہ کچھ اور کم ہوجائے۔“
میںنے اس سے کہا کہ وہ ذیابیطس کے امکان اور پیٹ کی تکلیف کاسبب جاننے کے لئے کچھ ٹیسٹ کرا لے لیکن اس نے اُنہیں ٹال دیا اور بولی :”میں بالکل ٹھیک ہوں۔اگر ضرورت پڑی تومیں یہ کرالوں گی۔“ میرے پرزوراصرار پر اس نے شوگر کا ٹیسٹ کرا لیا جو نسبتاً آسان اور سستا تھا۔اس سے ثابت ہوا کہ اسے ذیابیطس نہیں تھی۔
شوہر کی موت کے تقریباً سات ماہ بعد ویلما میرے کلینک میں آئی۔اُس کے پیٹ میں سخت مروڑ اٹھ رہا تھااور قبض کی شکایت بھی تھی۔ اسے ہفتے بھر سے پاخانہ نہیں آیا تھا اورنتیجتاً اُس کا پیٹ سُوج گیاتھا۔میں نے جب اس کا معائنہ کیا تو ایسے لگا جیسے اس کی انتڑیوں میں کوئی بندش ہے۔ اس کی نوعیت معلوم کرنے کے لئے میں نے اُسے ہسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا۔وہ اس پر فوراً راضی ہوگئی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ شدیدتکلیف میں ہے ورنہ عام حالات میں وہ اس پر ہر گز تیار نہ ہوتی۔مزید ٹیسٹوں (جن کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں)سے معلوم ہواکہ اس کی انتڑیوں میں واقعی رکاوٹ تھی۔میں نے اگلے دن اس کی سرجری کا انتظام کر لیا۔
آپریشن کے دوران ہی معلوم ہوا کہ ویلما کو بڑی آنت کا کینسرتھا جو علاج میں تاخیر کی وجہ سے اندر ہی اندر پھیل کر اس کے جگر تک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔مرض چونکہ قابو سے باہر ہوچکا تھا لہٰذا بظاہر یوں لگتا تھا کہ خاتون محض چند ماہ کی مہمان ہے۔
میں بوجھل دل کے ساتھ گھر واپس لوٹا۔اگر ویلما میری تجویز کے مطابق بروقت ٹیسٹ اور علاج کرا لیتی تو اچھاتھا۔اس کی لاپرواہی اب اس کی موت کا سبب بن رہی تھی۔جب بھی میرا کوئی مستقل مریض ایسی بیماری میں مبتلا ہوتا یا مرجاتاتومجھے ایسے لگتا جیسے میرے خاندان کو کوئی فرد مرگیا ہو۔مجھے بہت دکھ ہوا لیکن اب سوائے ہاتھ ملنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔
آپریشن کے بعد ویلما کے اصرار پر میں نے اُسے ساری بات صاف صاف بتا دی۔ افسوسناک خبر کے آخر میں ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو اور دل میںسخت بے بسی کااحساس تھا۔اب وہ چاہتی تھی کہ اسے کوئی ایسی دوا ملے جسے وہ کیمو تھیراپی کے طور پر استعمال کر سکے۔یہ 1980ءکی دھائی کی بات ہے ۔میں نے اُسے کہا کہ دوائیں تو بہت ساری ہیں جن پر تجربات ہورہے ہیںلیکن وہ نہ صرف مہنگی ہیں بلکہیہ قوت مدافعت کم کرتی ہیں‘ ان سے قے وغیرہ آتی ہے اور بال بھی جھڑ جاتے ہیں۔ ان باتوں کو سن کر اُس نے کیموتھیراپی سے انکار کردیا۔ اگرچہ یہ علامات ایسی ہیں جو زندگی بچانے کے مقابلے میں کم اہم ہیں لیکن وہ جس صورت حال میں مبتلا تھی ، اس میں اسے یہ سب کچھ بتاناضروری تھا۔
آپریشن کے دوران میں نے کچھ ایسی آنتوں کو کاٹاتھا جہاں رسولیاں پڑی تھیں اور کچھ کے لئے متبادل راستہ بنایاتھا تاکہ اسے کھانا ہضم ہونے میں مددملے۔ کینسر کا کامیاب علاج تب ہی ممکن ہے جب بروقت ڈاکٹر کے پاس جا کر اپنے مرض کی پوری تفصیل بیان کی جائے۔ اسی کی مدد سے بروقت تشخیص اورموثر علاج کا راستہ کھلتا ہے۔اس کے برعکس ویلما نے مجھ سے بہت سی باتیں چھپائی تھیں۔ اُس نے مجھے یہ بھی نہ بتایا تھا کہ اس کے پاخانے میں خون آتا ہے۔ اسے اس کا خمیازہ اب بھگتنا پڑرہا تھا۔ یہ سب کچھ افسوسناک تھا لیکن اب ہم کر ہی کیا سکتے تھے۔
آپریشن کے بعد اس کی حالت قدرے بہتر ہوگئی‘ اس لئے کہ وہ رکاوٹ کسی حد تک ختم ہوچکی تھی۔اس کے پیٹ میں مروڑ ختم گئے اور کسی حد تک کھانے پینے کی صلاحیت بھی واپس لوٹ آئی۔البتہ اس کی نقاہت برقراررہی اور وزن بھی بتدریج کم ہوتارہاجس کی وجہ یہ تھی کہ سرطان اندر ہی اندر پھیل رہاتھا۔میں اس کا حوصلہ بڑھانے کے لئے علاج میں پیش رفت کے حوالے سے مبالغہ آرائی بلکہ سفید جھوٹ تک سے کام لیتا رہااور وہ اسے سچ سمجھ کر قبول کرتی رہی۔
چند ہی ہفتوں بعد کمبخت سرطان پھر پھیلنا شروع ہوگیا اور ایک بار پھر اس کی انتڑیوں میں رکاوٹ پید اہوگئی۔ایسے حالات میں آپریشن کرنا فضول تھا۔اس سے کچھ فائدہ نہ ہوتا‘ اسے خوامخواہ کی تکلیف اٹھانا پڑتی اورعلاج پر اچھا خاصا خرچ بھی آتا۔واضح رہے کہ امریکی ہسپتالوںمیں علاج کا یومیہ خرچ ہزاروں ڈالر ہوتا ہے۔میں نے اُسے تفصیل سے ہربات بتائی اوراپنی رائے بھی دی کہ اب آپریشن کا کوئی فائدہ نہیں۔ اُس نے میرے فیصلے سے اتفاق کیا ۔ اس کی ایک خاتون دوست اس کے ساتھ بہنوں کی طرح رہتی تھی اور اُسے اپنے ساتھ ہی اپنی کار میں میرے کلینک لائی تھی۔ ایسے دوستوں کو دیکھ کر دل کو ڈھارس ملتی ہے کہ اس زمانے میں بھی اچھے اور خیرخواہ لوگ موجود ہیں۔
اس کی انتڑیوں میں رکاوٹ بتدریج بڑھ کر آنت کے اندرونی حصے تکbowel obstruction))پہنچ گئی جو کسی اچنبھے کی بات نہ تھی بلکہ میں تواسی بات سے ڈررہا تھا ۔
اب حالات پہلے سے زیادہ سنگین ہونے لگے اور ویلما موت کی طرف تیزی سے کھنچ رہی تھی، اس لئے کہ اس کا کھایا پیا سب کچھ قے کی صورت میںضائع ہورہاتھا۔ اُس کا وزن اس لامتناہی ’فاقے‘ کی وجہ سے تیزی سے گھٹ رہاتھا۔ کاربز چونکہ زیادہ دن تک نہیں رہتے لہٰذاجب ہمارے جسم کو غذا نہیں ملتی(جیسا کہ قحط سالی میں دیکھنے میں آتا ہے )تو وہ اپنے اندر کی چربی اور پروٹین ( جو پٹھوں اور دیگر اعضاءمیں موجود ہوتی ہیں) کوایندھن کے طور پر استعمال کرناشروع کردیتا ہے۔ کینسرزدہ خلیے اور رسولیاں چونکہ بہت زیادہ غذا استعمال کرتی ہیں لہٰذا مریض کا وزن بہت تیزی سے کم ہونے لگتا ہے ۔
یہ بھی ایک سائنسی حقیقت ہے کہ جب ایندھن جلایا جاتا ہے تو اس سے یوریا ، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے اجسام میں روزانہ غذا کو ایندھن کے طو رپر استعمال کیا جاتا ہے لہٰذا جسم میں ہر روز500-300ملی لیٹر( تقریباً آدھا لیٹر)پانی بنتا ہے۔یہ ہماری روزمرہ کی ضرورت سے بہت کم ہے جس کی وجہ سے ہمیں پیاس لگتی ہے اورہم کم از کم ڈیڑھ لیٹر پانی پیتے ہیں ۔اگرپسینہ زیادہ بہتا ہوتوا س مقدار کو مزید بڑھانا پڑتا ہے۔
مجھے ویلما کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے پر مزید غور وخوض کرنا تھا جس کی روشنی میںہمیںکچھ اہم فیصلے کرنے تھے۔مجھے معلوم تھا کہ اُس کی بیماری مہلک ہے اور وہ چند ہی روز کی مہمان ہے۔اگر ہم کچھ نہ کرتے تو شاید پانچ دنوں میں اس کی موت واقع ہوسکتی تھی۔ اگر اُسے آئی وی ڈرپ دی جائے تو شاید دوتین ہفتے تک اس کی عمردراز ہوسکتی تھی لیکن ایسی درازی عمر کا کیا فائدہ جس میں ہروقت درد میں مبتلا رہنا پڑے ‘ فرد کھانے پینے سے قاصر رہے‘ دن میں چار سے پانچ بار اُلٹیا ں کرے اور اگر وہ کچھ کھا پی لے تو الٹیوں کی مقدار اورتعداد میں مزید اضافہ ہوجائے ۔مزید براں ڈرپ کے لئے ہسپتال جانے پر ہزاروں ڈالر خرچ ہوتے جو اس کے لئے ناقابل برداشت بوجھ تھا۔ اس کے اثاثے خاصے کم ہوگئے تھے اورمزید کم ہوتے چلے جارہے تھے۔
چونکہ اُس کا انجام صاف ظاہر تھا‘اس لئے میں نے فیصلہ اُسے ہی کرنے دیا۔کہتے ہیں کہ خدا نے ہر ذی روح کو بخل جان پر پیدا کیا ہے اورہر زندہ چیز کو زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت عزیز ہوتا ہے۔ ویلما کو بھی اپنی تکالیف اور دردوں کے باوجود اپنی زندگی بہت پیاری تھی۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈرپ کی مدد سے چند روز مزید زندہ رہنا چاہتی ہے‘ خواہ اس پر کتنا ہی خرچ کیوں نہ آئے۔ ’آئی وی ڈرپ‘ اس کے لئے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مترادف تھی ۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اُسے دو سے تین لیٹرسیلائن (saline)پہلے دن لگاﺅں گا‘ اس لئے کہ اُلٹیوں کی وجہ سے اس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی ۔اس کے بعد ہر دوسرے یا تیسر دن ایک سے دولیٹر سیلائن ضرورت کے مطابق دیتا رہوں گا۔
میرے کلینک کے قریب ہی ایک فارمیسی تھی جس کا انچارج میرا ایک دوست نیل(Neil) تھا۔اس نے مجھے مطلوبہ سامان مثلاً ڈرپ کے بیگ‘ نلکیاں اور خاص قسم کی سوئی( cannula)رعایتی قیمت پر مہیا کردیا۔ میں نے اگلے چند گھنٹوںکے دوران اُسے تین لیٹر سیلائن لگادیاجس کی وجہ سے اُس کے جسم میں طاقت کسی حد تک دوبارہ سرایت کرگئی۔میں نے کینولا کو رگ ہی میںرہنے دیا اور اُسے اگلے دن یا شاید دودن بعد مزید مائع جات دئیے ۔یہ سلسلہ اختتام ہفتہ تک جاری رہا اور میں اس کے لئے اس سے فیس نہیں لے رہا تھا۔اس کی سہیلی خاصی ذہین خاتون تھی اور کسی زمانے میں ”نرس کی مددگار“ رہ چکی تھی۔میں نے اسے ڈرپ لگانا سکھا دی لہٰذا اگلے ویک اینڈ پر اس نے ویلما کوڈرپ لگا دی ۔یہ قانونی طور پر درست نہ تھا لہٰذا میں نے اسے اچھی طرح سمجھا دیاتھا کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔اس وقت ایسا کرنا مجھے ٹھیک لگا، اس لئے کہ وہ محض چند دن کی مہمان تھی اور ہم اس کے آخری لمحات کو پرسکون بنانے کی کوشش کر رہے تھے ۔اس طرح ہم نے تین سے چارہفتے (مجھے صحیح تعداد یاد نہیں) گزار دئیے ۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب سرطان حد سے بڑھ کر پھیل گیا اور اس کی کوئی رگ ڈرپ چڑھانے کے قابل نہ رہی ۔
ایک صبح جب اس کی سہیلی خاتون نے ویلما کے کمرے کا دروازہ کھولا تو اسے ’کوما‘ میں پایا ۔ چند ہی گھنٹوں بعد اُس نے مجھے فون پر بتایا کہ ویلما کا انتقال ہوگیاہے۔ ایک لحاظ سے یہ اس کے لئے بہتر ہی تھا، اس لئے کہ اس کی تکالیف مسلسل بڑھ رہی تھیں۔
زندگی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا عطیہ اور نعمت ہے اور ہمیں انسانوں تو ایک طرف جانوروں کی زندگی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔پتہ نہیںیہ دہشت گرد لوگ کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں اور انہیں بچوں اور اجنبیوں کو قتل کرنے اور اپنی جان خودکش حملوں میں ضائع کرنے سے کیاحاصل ہوتا ہے۔وہ کیسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت‘ جنت اور حوروں کی توقع کے ساتھ اس دنیا سے جاتے ہیں؟ خدا ہمیں ان وحشیوں سے نجات دلائے (آمین)۔