ذائقہ بھی‘ صحت بھی: مچھلی کھائیے ‘ تنومند رہئے

368

     کرہ ارض پانی اور خشکی کا ایک خوبصورت امتزاج ہے اور انسان کی خوراک میں خشکی پر پلنے والے جانور اور اجناس جتنی اہمیت رکھتے ہیں‘ اتنی ہی اہمیت پانی میں رہنے والے جانوروںکی بھی ہے۔ ہمارے ہاں سمندری یا دریائی خوراک میں سب سے زیادہ پسنداور کھائی جانے والی غذا مچھلی ہے جو نہ صرف ذائقے میں لذیذ ہوتی ہے بلکہ غذائیت سے بھی بھرپور ہوتی ہے۔
مچھلی بالعموم گرمیوں کی نسبت سردیوں میں زیادہ کھائی جاتی ہے جس کا سبب روایتی طب کا یہ تصور ہے کہ اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔جدید سائنس اس سے اتفاق نہیں رکھتی لہٰذا قدرت کے اس تحفے سے ہمیں ہر موسم میں فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اسے مختلف انداز مثلاً سالن، تکے، فرائی، نگٹس،برگر وغیرہ میں تیار کیا جاتا ہے۔

تازہ مچھلی کی پہچان
مچھلی ہمیشہ تازہ خریدنی چاہئے‘ اس لئے کہ باسی مچھلی فوڈپوائزننگ کا سبب بن سکتی ہے۔ تازہ مچھلی کی پہلی پہچان اس کے گلپھڑوں کی رنگت ہے۔ انہیں اچھی طرح کھول کر دیکھیں۔ اگروہ سرخ اورچمک دار ہوں تو وہ تازہ ہو گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مچھلی کے جسم پر انگلی لگا کر چیک کریں۔ اگر گوشت سخت ہو تو تازہ ہو گا‘ اس لئے کہ باسی مچھلی کاگوشت نرم اور اس کے ریشے علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں اوراس میںسے بوبھی آتی ہے۔ بعض مچھلی فروش باسی مچھلی کے پھیپھڑوں پر سرخ رنگ لگادیتے ہیںلہٰذا اسے خریدتے وقت اسے اچھی طرح جانچ لیں۔
کچھ سی فوڈز مثلاً جھینگے،ٹیونا فش، سائمن، جیلی فش وغیرہ ڈبوں میںبند ملتی ہیں۔ بہت سی ڈبہ بند غذائیں صحت کے لئے محفوظ نہیں ہوتیں لہٰذا انہیں خریدنے سے گریز کریں۔
مچھلی معدنیات‘ فاسفورس‘پوٹاشیم‘ فولاد‘ آئیوڈین اور دوسرے وٹامنز سے مالا مال ہے۔ اس میں پائے جانے والے اہم غذائی اجزاءکے فوائد کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

 فلورائیڈ سے دانت صحت مند
مچھلی سے حاصل ہونے والا فلورائیڈ دانتوں کے لئے بہت مفید ہے۔ یہ دانتوں کے علاوہ مسوڑھوں کو صحت مند رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

 یادداشت اورذہانت بڑھائیے
ماہرین کے مطابق مچھلی میں اومیگا تھری ایسڈز کی موجودگی دماغ کو تقویت دیتی ہے۔ خصوصاً بڑھاپے میں اگر ہفتے میں تین بار مچھلی کاایک ایک ٹکڑا کھالیا جائے تو بزرگ نہ صرف خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں بلکہ ان کا چڑ چڑا پن بھی کم ہوجاتا ہے۔

صحت مند دل     
مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو جسم میں اچھا کولیسٹرول بنانے کا سبب بنتے ہےں۔ یہ امراض قلب اور بڑھاپے کی دوسری بیماریوں سے محفوظ رہنے میں بھی مدد دیتے ہےں۔

ذہنی تناﺅ میں کمی
مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے پہلا ای پی اے (Eicosapentaenoic Acid) اور دوسرا ڈی ایچ اے (Docosahexaenoic Acid) ہے۔ یہ اعصابی نظام کی فعالیت اور موڈ کی بہتری میںاہم کردار ادا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ذہنی دباو¿ میں کمی آتی ہے ۔

آیوڈین کی کمی
مچھلی کے گوشت میں آیوڈین پائی جاتی ہے۔ تھائی رائیڈ غدودکے مسائل کے شکار مریضوں کے علاوہ ا ن لوگوں کو بھی مچھلی ضرور کھانی چاہئے جن میں آیوڈین کی کمی ہو۔

پرکشش جلد
مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ زچہرے کی جلد کے ڈھیلے پن کو دور کرنے اور اسے پرکشش بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مچھلی کاتیل
مچھلی کا تیل بازارمیں کیپسولز کی شکل میں دستیاب ہے۔ یہ تیل وٹامن اے اور ڈی سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم میں ان وٹامنز کی کمی کو پورا کرنے اورقوت مدافعت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔

مچھلی‘کچھ غلط تصورات
ہمارے ہاں مچھلی کھانے سے متعلق کئی غلط تصورات بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ مچھلی کھاکر دودھ نہ پئیں ورنہ جسم پر سفید داغ پڑجائیں گے۔ اس مفروضے کی کوئی حقیقت نہیں۔
دوسری بات یہ مشہور ہے کہ جن انگریزی مہینوں کے ناموں میں لفظ”ر“ نہ آئے‘ ان میں مچھلی نہیں کھانی چاہیے۔یوں مئی‘جون‘جولائی اوراگست میں مچھلی کھانے سے منع کیا جاتا ہے‘ اس لئے کہ اس تصور کے مطابق ان مہینوں میں مچھلی زہریلے مادے بناتی ہے۔یہ بھی ایک غلط تصور ہے۔

احتیاطیں
٭مچھلی ٹکڑوں میں ہو تو آپ اسے دوگھنٹے سے زیادہ فریج سے باہر نہ رکھیں۔ ایسا کرنے سے یہ خراب ہوسکتی ہے۔
٭ مچھلی کی بو ختم کرنے کے لئے اسے ایک گھنٹے کے لئے نمک لگا کر رکھ دیں اور پھر دھو لیں۔مچھلی کو آٹا یا بیسن لگا کر دھونے سے بھی اس میں بد بونہیں رہتی
٭ چھوٹی مچھلیوں کوصاف کر کے ثابت ہی پانی سے بھرے ایک شاپنگ بیگ میں ڈال کر فریز کردیں۔آپ جب بھی انہیں نکال کر پکائیں گے تو وہ تازہ لگیں گی۔
٭مچھلی کو ایک بار فریزر سے نکالنے کے بعد دوبارہ فریز مت کیجئے۔
٭فریزر سے نکال کر پگھلی ہوئی مچھلی کو فوراً پکائیے اوراسے زیادہ دیر تک مت رکھیے۔
٭مچھلی ادھ پکی نہ کھائیے‘ اس لئے کہ یہ صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔


مچھلیوں میں کیمیکلز
سمندری مچھلی یوں تو ذائقے میں اچھی اور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے لیکن آج کل کارخانوں کا فضلہ سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے جس میں خطرناک کیمیکلز بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز مچھلیوں کی غذا میں شامل ہوجاتے ہیں اور جب ایسی مچھلیاں کھائی جاتی ہیں تو وہ انسانی صحت کومتاثر کرتی ہیں۔
آبشاروں کی مچھلی زیادہ فائدہ بخش ہے۔دریائی مچھلی بھی ذائقے والی ہوتی ہے کیونکہ اس پر کھلی دھوپ پڑتی ہے اور پانی بھی رواں رہتا ہے۔ نہروں‘دریاﺅں‘چشموں‘جھیلوںاورتالابوں کی مچھلیاں بالعموم آلودگی سے پاک اور زیادہ صحت بخش ہوتی ہیں۔