خون کا سرطان(Lukemia )

173

ظفراقبال خٹک، ٹیومر رجسٹرار، شفاکلینیکل سینٹر
خون ہماری رگوں میں دوڑنے بھرنے والا ایک سیال مادہ ہے جو ہمارے لئے بہت سے اہم کام سرانجام دیتا ہے۔ ایک طرف وہ ہمارے جسم کے تمام اعضاء کو آکسیجن مہیا کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے میں مدد دیتا ہے تو دوسری طرف بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی کی بدولت جسم کے تمام حصوں تک غذائی اجزاء پہنچ پاتے ہیں ۔

جسم کے دیگر اعضاء کی طرح اسے بھی مختلف بیماریاں لگ جاتی ہیں جن میں سے ایک خون کا سرطان بھی ہے۔امریکی کینسر سوسائٹی کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ 2018ء میں 1735350 نئے امریکی باشندے خون کے سرطان میں مبتلا ہو جائیں گے جـن میں سے 609640 افراد کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یعنی اس بات کا امکان ہے کہ روزانہ 4750 افراد اس بیماری کا شکار ہوجائیں جن میں سے 1670 افراد لقمہ اجل بھی بن سکتے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا افراد کی تقریباً 10فی صد تعداد بچوں پر مشتمل ہے‘ تاہم اس (خون کے سرطان) کے وراثتی طور پر ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جائیں۔

خون کا سرطان کیا ہے

خون جیسے سیال مادے کا ایک حصہ مائع اور دوسرا ٹھوس شکل میں ہوتا ہے۔ اس مادے میں تین طرح کے خلئے یا جسیمے پائے جاتے ہیں جنہیں سرخ خلئے(RBC)‘سفید خلئے (WBC) اور پلیٹ لیٹس (platelets) کہا جاتا ہے۔ خون کے سرطان کی کئی اقسام ہیں جن میں سے زیادہ عام قسم لیوکیمیا (Leukemia) ہے جو زیادہ تر سفید خلیوں میں تبدیلی سے پیدا ہوتا ہے۔ کینسر کی دیگر اقسام کے برعکس اس میں رسولی پیدا نہیں ہوتی۔
جسم کی بڑی ہڈیوں میں ایک خالی نالی ہوتی ہے جس میں سفید خلیے بنتے ہیں۔ ان کی ابتدائی شکل کو ناپختہ سیلز یا بلاسٹ (blast) کہا جاتا ہے جو عموماً ہڈیوں کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ جب وہ مکمل طور پر تیار ہو جائیں تو خون میں شامل ہو کر مختلف کام سرانجام دیتے ہیں۔بلڈکینسر کی صورت میں قدرتی طور پر انجام پانے والا یہ عمل بدل جاتا ہے اور خون کے خلیے بلاضرورت اور جلدی جلدی بن کر اپنی ابتدائی شکل (بلاسٹ) میں ہی خون میں شامل ہونے لگتے ہیں حالانکہ اس وقت تک وہ کام کے لئے مکمل طور پر تیار نہیں ہوئے ہوتے۔ یہ خلیے کینسر زدہ بھی ہو سکتے ہیں اور نہیں بھی لہٰذا خلیوں میں ہر تبدیلی کو خون کا کینسر نہیں سمجھنا چاہئے۔

کینسر کی دیگر اقسام میں رسولی ایک جگہ پیدا ہونے کے بعد جسم کے دیگر اعضاء تک بھی پہنچ جاتی ہے جس سے کینسر کے مرحلے یا سٹیج کا تعین کیا جاتا ہے۔ خون چونکہ پورے جسم میں گردش کرتا ہے اس لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بیماری کس سٹیج پر ہے۔ بلڈکینسر چونکہ بیک وقت پورے سسٹم میں موجود ہوتا ہے لہٰذا اسے سسٹم کی بیماری (systemic disease) بھی کہتے ہیں۔ اس کی بہت سی اقسام ہیں تاہم اسے دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
٭ قلیل المیعاد بلڈکینسر (acute leukemia) عموماً بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں متاثرہ خلیوں کی نشو و نما بہت تیز ہوتی ہے لہٰذا اس کا علاج نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔
٭ طویل المیعاد بلڈکینسر (chronic leukemia) کی شرح بڑی عمر کے لوگوں میں زیادہ ہے۔ یہ چونکہ آہستہ آہستہ پھیلتا ہے لہٰذا اس کا علاج قلیل المیعاد کینسر کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ طویل المیعاد کینسر کی شرح 60 فی صد جبکہ قلیل المیعاد کی 40 فی صد ہے۔

 

علامات اور تشخیصی ٹیسٹ
کینسر کی دیگر اقسام کی طرح خون کے سرطان کی بھی ابتدائی مرحلے میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب کام کے لئے پوری طرح تیار نہ ہونے والے خلئے خون میں زیادہ تعداد شامل ہونے لگتے ہیں تو اس مرض کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
٭ ایسی تھکاوٹ جو ہر وقت رہے۔ جسمانی کمزوری اور چھاتی میں درد بھی اس کی علامت ہوسکتی ہے۔
٭ بخار جو سردی لگ کر بھی ہو سکتا ہے۔
٭ پسینہ زیادہ آنا‘ بھوک کا ختم ہونا‘ متلی (nausea) محسوس ہونا اور وزن میں کمی ہو جانا۔
٭ سانس کا مختصر وقفے سے (shortness of breath) آنا۔
٭ بار بار انفیکشن ہونا۔
٭ جلد پر خارش ہونا‘ دھبے نمودار ہونا یا جسم کے کسی حصے مثلاً مسوڑھوں اور ناک وغیرہ سے بغیر کسی وجہ کے بار بار خون نکلنا۔
٭ بعض مریضوں کے جلد کی رنگت خون کی کمی کی وجہ سے زرد ہو جاتی ہے۔
مذکورہ بالا علامات دیگر امراض میں بھی ظاہر ہوتی ہیں لہٰذا بلڈکینسر کی تشخیص کے لئے کچھ ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک سی بی سی(complete blood count)ہے جو ابتدائی مرحلے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم کینسر اور اس کی قسم کی حتمی تشخیص کے لئے ہڈی کے گودے (bone marow) کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

مرض کی وجوہات
سرطان کی دیگر اقسام کی طرح اس کی بھی حقیقی اور حتمی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا‘ البتہ مندرجہ ذیل عوامل اس کینسر کے ہونے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
٭ اس کا ایک سبب مصنوعی شعائیں (radiations) دینا بھی ہے جس میں دیگر شعاعوں کے علاوہ کینسر میں دی جانے والی شعائیں بھی شامل ہیں۔ بالعموم شعاعیں لگنے کے 5 سے 10سال بعد خون کا کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
٭ بینزین (Benzene) اور کچھ دیگر کیمیکلز مادے مثلاً پیٹروکیمیکل (petrochemical) وغیرہ بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔
٭ خون کے مالیکیولوں میں کیموتھیراپی کے ذریعے الکائیل گروپ کی ادویات شامل کرنے کا عمل (alkylation) بھی اس کا سبب بن سکتا ہے جو اس سے قبل کسی اور قسم کے کینسر کے علاج کے لئے استعمال ہوا ہو۔
٭ دھوئیں اور خصوصاً سگریٹ کے دھوئیں کا تعلق بلڈکینسر کے ساتھ بھی ہے۔

علاج کے امکانات
بلڈکینسر کے علاج کی کامیابی کا انحصار مریض کی صحت‘ عمر اور کینسر کی قسم پر ہوتا ہے۔ اس کی کچھ اقسام کا علاج مشکل ہوتا ہے جبکہ کچھ مریضوں کا علاج وقتی طور پرآسانی سے ہو سکتاہے ۔ وقتی طور پر علاج کا مطلب یہ ہے کہ مریض کے متاثرہ خلیوں کو طویل عرصے تک غیر موثر کر دیا جائے ۔ ایسا کرنے سے مرض ختم تو نہیں ہوتا لیکن وہ مریض کے لئے پریشانی کا باعث بھی نہیں بنتا۔ اس مرض کا مکمل علاج گودے کی پیوندکاری (bone marow transplant) ہے تاہم اس پر چونکہ بہت زیادہ خرچ آتا ہے اس لئے بہت سے مریضوں کے لئے اس سے استفادہ ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ سب مریضوں کے لئے مفید ہوتا ہے۔ بزرگوں کی نسبت نوجوانوں اور بچوں میں یہ زیادہ کامیاب ہے۔

کینسر کے علاج کے لئے کیموتھیراپی اور ریڈی ایشن وغیرہ سے بھی مدد لی جاتی ہے تاہم بلڈکینسر کا علاج زیادہ تر کیموتھیراپی سے ہی کیا جاتا ہے۔ اس میں ڈاکٹر کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر کینسر زدہ خلیوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم انہیں اس قدر غیر موثر کر دیا جائے کہ وہ طویل عرصے تک دوبارہ تیزی کے ساتھ نشو و نما نہ پا سکیں۔
امریکہ میں 1975ء میں خون کے سرطان کے شکار افراد کے پانچ سال تک زندہ رہنے والوں کی اوسط عمر 33.10 فی صد تھی جو جلد تشخیص اور ادویات میں بہتری کی وجہ سے 2009ء میں 62.9 فی صد ہو گئی۔ بلڈکینسر میں مبتلا مریض کے خون کے خلیے چونکہ صحیح طور پر نہیں بن رہے ہوتے لہٰذا اسے خون کے عطئے کی بار بار ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کینسر کے ابتدائی مرحلے میں تشخیص اور جلد علاج کا فائدہ ضرور ہے تاہم اب بھی اس سرطان کی ابتدائی مرحلے میں پہچان بہت مشکل ہے۔
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سب بیماروں کو بالعموم اور اس بیماری میں مبتلا افراد کو بالخصوص شفائے کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے۔ (آمین)

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

کینسر ایک مہلک اور جان لیوا مرض ضرور ہے لیکن اس کی بروقت

Salman Hussain, 24 from Nowshera, came back home diseased, exhausted and hopeless after working in S

cancer

    شادی کے بعد اکثر عورتوں کی اولین ترجیح ماں بننا ہوت

1
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
newest oldest most voted
Notify of
Habibullah
Guest
Habibullah

My son lukimia haa ma Peshawar ma alaj karate ho bus Dr abid sohail Taj sb