جہاں چاہ وہاں راہ… ایگل سینڈروم

205

کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کے پاس اچھی خوراک موجود ہوتی ہے لیکن وہ اس کو کھا نہیں سکتا۔ کچھ ایسا ہی روالپنڈی کے رہائشی راشد مسیح کے ساتھ ہورہا تھا۔اس 38 سالہ جوان کوپچھلے چار سال سے ایک عجیب مسئلہ درپیش تھا۔ وہ مناسب طور پر کچھ بھی کھا پی نہیں سکتا تھا۔جب کبھی وہ کچھ کھانے پینے کی کوشش کرتا‘اس کے کان اور گرد ن میں شدید قسم کا درد اٹھنے لگتا۔ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ’ایگل سینڈروم‘ نامی ایک بہت ہی کم پایا جانے والے مرض میں مبتلا تھا۔پھر کیا ہوا؟ پڑھئے حفیظ خان کی تحریر کردہ اس داستان میں


زندگی اس وقت خوبصورت اور رنگین لگتی ہے جب انسان صحت مند ہو، اپنے ذریعہ معاش سے مطمئن ہواور اپنے پیاروں سے مضبوط تعلق رکھتا ہو۔روزی روٹی کےلئے معاش کا اچھا ذریعہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے نہ صرف پیٹ کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے بلکہ دیگر ضروریات زندگی بھی پوری ہوتی رہتی ہیں۔ہماری متحرک اور صحت مند زندگی کا انحصار اچھی خوراک پر ہے کیونکہ یہ ہمیں روزمرہ کے کاموں کی انجام دہی کے لئے مطلوبہ توانائی فراہم کرتی ہے۔ جرمن فلسفی فرانز کافکا نے کیا خوب کہا ہے:
”جب آپ کے منہ میں روٹی کا نوالہ ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کے اس وقت کے تمام مسائل حل ہوگئے ہیں۔“
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کے پاس اچھی خوراک موجود ہوتی ہے لیکن وہ اس کو کھا نہیں سکتا۔ کچھ ایسا ہی روالپنڈی کے رہائشی راشد مسیح کے ساتھ ہورہا تھا۔اس 38 سالہ جوان کوپچھلے چار سال سے ایک عجیب مسئلہ درپیش تھا۔ وہ مناسب طور پر کچھ بھی کھا پی نہیں سکتا تھا۔جب کبھی وہ کچھ کھانے پینے کی کوشش کرتا‘اس کے کان اور گرد ن میں شدید قسم کا درد اٹھنے لگتا۔
کھانا کھاتے ہوئے پہلی باردرد اسے 2009ء میں ہوا۔ ہراس انسان کی طرح جو کسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے‘ راشد نے بھی اپنے اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ہر کوشش کر دیکھی۔سب سے پہلے وہ اپنے گھر کے قریب موجود ایک ڈاکٹر کے پاس گیا جس نے اسے درد سے نجات دینے والی چند گولیاں دیں اور ساتھ میں یہ تسلی بھی کہ بہت جلد وہ ٹھیک ہوجائے گا۔راشد نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور سکھ کا سانس لیتے ہوئے اپنے گھر چلا آیا۔
چند دن تو آرام رہا لیکن ایک دن اچانک اس کے درد نے دوبارہ سراٹھایا لیا۔ اس صورت حال میں راشد کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا کہ وہ کسی اور ڈاکٹر سے مشورہ کرے ۔ اب کی بار اس نے سی ایم ایچ راولپنڈی کا رخ کیا۔یہاں ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اس کی غذائی نالی میں ایک پھوڑا ہے جس کی وجہ سے اسے یہ درد ہوتا ہے۔اب کی بار گولیوں کے ساتھ ساتھ اسے انجکشن بھی لگائے گئے۔
اس کے بعد راشد پرامید تھا کہ اس کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔لیکن چند دن بعد اس کی امیدوں پر اس وقت پانی پھرگیاجب اسے دوبارہ کان اور گلے میں شدید قسم کا درد محسوس ہوا۔راشد کے مطابق:
” اب کی بار مجھے محسوس ہوا کہ میرے ساتھ ضرور کوئی نہ کوئی گڑبڑ ہے۔ یہ کیا ہے؟ اس کا مجھے کوئی اندازہ نہ تھا۔“
راشد کی شادی 2007ءمیں ہوئی تھی اور چند ماہ پہلے ہی اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔یہ ننھی پری اس کےلئے مستقل امید اور تحریک کا باعث تھی:
”اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھ کر مجھے اپنی بیماری سے لڑنے کی ہمت ملتی تھی۔“اس میں کوئی شک نہیں کہ اولاد ماں باپ کےلئے ہمت کا ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔
راشد اپنی بیماری کا پتہ لگانے کے لئے مختلف ڈاکٹروں کے پاس جاتارہالیکن ہربار اسے پین کلرز دے دیے جاتے۔ چند دن توسکون سے گزرتے لیکن اس کے بعدپھر درد شروع ہوجاتا۔ مسئلے سے مکمل نجات اسے دور پار کا خواب لگنے لگا۔ایک سلیقہ شعار بیوی ، پیاری سے بیٹی اور اچھی ملازمت رکھنے کی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں میں خوش قسمت تھا۔لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ ایک ایسے مقام پر آگیاجہاں وہ ان تمام نعمتوں سے خوشی حاصل نہیں کرپارہا تھا۔اس وقت کے بارے میں راشد کا کہنا ہے:
” میرا درد کبھی کبھار تو اتنا بڑھ جاتا کہ اس کی وجہ سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوتی۔“اس کے پیارے اس کے حوالے سے بہت زیادہ پریشان رہنے لگے۔بیگم کی پریشانی دیدنی تھی اور اس کے ماں باپ بھی داماد کی بیماری کی وجہ سے بہت تکلیف میں تھے۔
مئی 2013ءمیں راشد کا درد ناقابل برداشت ہوگیا۔ تمام تر کوششوں اور علاج معالجے کے بعد جب وہ ٹھیک نہ ہوا تو اس نے شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد جانے کا فیصلہ کیا۔یہاں وہ سب سے پہلے نیورالوجی ڈپارٹمنٹ میں گیاجہاں اس کے مختلف ٹیسٹ کئے گئے۔اس کے باوجود کسی کو پتہ نہیں چل پارہا تھا کہ اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔یہاں سے ڈاکٹروں نے اسے آنکھ ، ناک اور گلے کے سپیشلسٹ کے پاس بھیجا کیونکہ انہیںلگا کہ اس کا کیس نیورالوجی سے تعلق نہیں رکھتا۔راشد کے مطابق:
”اس وقت تک میری حالت یہ ہوگئی تھی کہ میں ہلکی سی سخت خوراک بھی اپنے حلق سے نیچے نہیں اتارسکتا تھا۔ میں پچھلے چار دن سے مستقلاً مختلف قسم کے جوس پی رہاتھا۔“
اس کے علاوہ وہ مناسب طور پر سو بھی نہیں پارہا تھا۔ اسے دائیں کندھے کی طرف موڑ کر اس کے نیچے ہاتھ رکھ کر سونا پڑرہا تھا۔ وہ ای این ٹی (کان‘ ناک اور گلا) ڈپارٹمنٹ میں ڈاکٹر بدرالسلام کے پاس پہنچا جہاں اس کا دوبارہ معائنہ کیا گیا۔راشد کا معائنے کے بارے میں کہنا ہے :
”ڈاکٹر نے ناک کے ذریعے ایک کیمرہ میرے گلے میں داخل کیا ۔اس کے بعد پتہ چلا کہ میرے گلے میں کوئی پھوڑا نہیں ہے۔“
اس کے بعد معاملہ مزید پراسرار ہوگیا۔راشد کو سمجھ نہیں آرہا تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے۔شفانیوز کے ساتھ گفتگو ڈاکٹر بدرالسلام نے بتایا :
” جب میں نے اس کے گلے کا معائنہ کیا تو مجھے کچھ نظر نہ آیا۔اس کے بعد میرا دھیان ایک اور مسئلے کی طرف چلا گیا۔ اس کی تصدیق کے لئے میں نے انہیں سی ٹی سکین تجویز کیا۔“
سی ٹی سکین کا نتیجہ ڈاکٹر کی توقعات کے مطابق نکلا۔ راشد ایک بہت ہی نایاب قسم کے مسئلے سے دوچار تھا جسے ’ایگل سینڈروم‘ کہتے ہیں۔ اس مسئلے کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس میں بہت ساری علامات مثلاً باربار گلے اور کان میں دردہونا، گلے میں کوئی چیزمحسوس ہونا،نگلنے میں دشواری ہونا اور چہرے کے مختلف حصوں پر درد محسوس ہونا وغیرہ ظاہر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ مختلف ڈاکٹر اصل مسئلے کو ختم کرنے کی بجائے صرف علامات کی بنیاد پر دوائیں دے رہے تھے۔
لوگ بالعموم جانتے ہوتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی تکلیف میں ڈاکٹر حضرات اکثر کون سی دوا تجویز کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر وہ خودعلاجی شروع کر دیتے ہیں۔ایسے میں علامات تو دب جاتی ہیں لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے ۔ اصل مسئلہ حل کئے بغیر علاما ت کو د با دینا ایسا ہی ہے جیسے خطرے کو دیکھ کر اسے دور کرنے کی بجائے اس کا الارم بند کر دینا۔
ایگل سینڈروم کے بارے میں ڈاکٹر عبدالسلام نے بتایا کہ یہ ایسی بیماری ہے جس میں سٹائی لائیڈ(Styloid) اپنی عام جسامت سے بڑھ جاتی ہے ۔ سٹائی لائیڈ کان سے ذرانیچے موجود ایک نوک دار ہڈی کو کہتے ہیں۔جب یہ ہڈی اپنی عام جسامت سے بڑھ جاتی ہے تو آس پاس سے گذرنے والے اعصابی خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔اس بیماری کے نایاب ہونے کے حوالے سے ڈاکٹر بدر نے بتایا کہ ان کی 26 سالہ پریکٹس کے دوران یہ تیسرا جبکہ شفا ہسپتال کی تاریخ میں پہلا کیس تھا۔
اس مسئلے کا حل سرجری تھا۔ منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ اس کیس کی سرجری بھی کافی پیچیدہ قسم کی تھی۔ اس حوالے سے راشد کو مطلع کیا گیا۔اس نے شفانیوز کو بتایا کہ ’جب میرے مسئلے کی تشخیص ہوئی تو ڈاکٹروں سے معلومات لینے کے علاوہ میں نے خود بھی انٹرنیٹ پر اس حوالے سے کچھ چیزیں پڑھیں۔ان سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ایک پرخطر سرجری تھی۔‘
راشد نے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا کہ کیا ادویات سے اس کا علاج ممکن ہے ؟ اس لئے کہ وہ اتنی پیچیدہ اور خطرناک سرجری کی وجہ سے کافی پریشان تھا۔ اس کے مطابق’ مجھے پریشانی اس بات کی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ لیکن جب ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کا حل صرف سرجری ہے تو پھر مجھے اس سے جان چھڑانے کے لئے یہ خطرہ مول لینا پڑا۔‘
اس کے بعد راشد نے اپنے گھروالوں کو مطلع کیا اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوگیا:’میں نے سوچا کہ ایک نہ ایک دن تو مجھے آپریشن کراناہی ہے۔ لہٰذا آج ہی کیوں نہیں؟‘
معروف جرمن طبیب اور مصنف مارٹن ایچ فشر کا کہنا ہے کہ تشخیص کسی مسئلے کا اختتام نہیں بلکہ کسی ڈاکٹر کی مہارت کا نقطہ آغاز ہوتی ہے۔لہٰذا اب یہ ڈاکٹروں کی مہارت کا امتحان تھا کہ وہ کیسے اس مشکل آپریشن میں کامیاب ہوتے ہیں۔خداکے بعد ڈاکٹر بدرراشد کی آخری امید تھے۔ڈاکٹر بدر نے اس بارے میں کہا:
”یہ ایک انتہائی مشکل آپریشن تھا۔مجھے اس کی بڑھی ہوئی ہڈی کو کاٹ کر الگ کرنا تھا اور اس دوران یہ خیال بھی رکھنا تھا کہ پاس سے گذرتی ہوئی خون کی نالیوں اور اعصابی خلیوں کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر ذرا سی بے احتیاطی ہوجاتی تو اس کی سننے اور بولنے کی حس متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔ اگر سچ پوچھیں تو یہ میری زندگی کے مشکل ترین اور پیچیدہ ترین آپریشنوں میں سے ایک تھا۔‘
خوش قسمتی سے آپریشن بہت کامیاب رہا اور راشد کو صحیح حالت میں آپریشن تھیٹر سے باہر لایاگیا۔وہ دودن تک ہسپتال میں رہا۔اس کے بعد اسے کچھ دوائیں دی گئیں جو اس نے چار ماہ تک استعمال کیں۔راشد کا کہنا ہے کہ ’مشکل وقت میں خدا پر بھروسہ بہت ضروری ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ اپنے مسئلے کی جڑ تک پہنچے کے لئے ہر کوشش کرے۔‘
آپریشن کے چند ماہ بعد خدا نے راشد کو بیٹے سے نوازا۔ راشد کے مطابق بیٹا خدا کی طرف سے اس کے لئے ایک انعام تھا۔ اب راشد ہر طرح کی چیز بغیر کسی تکلیف کے کھاتا ہے۔جب وہ اپنی فیملی کو کھانے کی میز پر اپنے اردگرد بیٹھا دیکھتا ہے تو اس کا دل خدا کی عطا کردہ صحت اور خوشخالی کےلئے شکر گزاری کے جذبات سے بھرجاتا ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of