جھگڑیں والدین‘ بھگتیں بچے

11

جھگڑیں والدین‘ بھگتیں بچے

بچے وہ نازک پھول ہیں جو چھوٹے اور کمزور ہونے کی وجہ سے اپنی ہر ضرورت اور ہر چھوٹی بڑی تکلیف میں اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ ان کے لیے ایسا سایہ ہوتے ہیں جس میں انہیں تحفظ ملتا ہے اور ان کی مادی و نفسیاتی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔اگر والدین میں باہم پیار محبت کے جذبات اور اچھے تعلقات ہوں تو اس کے مثبت اثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں اور وہ مثبت سوچ کے مالک ‘ محبت کرنے والے اورپراعتمادشخص کے طور پر پروان چڑھتے ہیں۔ تاہم بہت سے بچے اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔

مالی مشکلات‘ مزاجوں میںہم آہنگی نہ ہونے‘ ترجیحات میں فرق‘شادی میں لڑکے یا لڑکی کی پسند شامل نہ ہونے اوراسی طرح کی دیگروجوہات کا نتیجہ گھریلوجھگڑوں اور میاں بیوی میں توتکار‘ گالی گلوچ اور بسا اوقات مارپیٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس صورت حال کے برے اثرات میاں بیوی پر تو پڑتے ہی ہیں‘ ان کے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں رہ پاتے ۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ بچے ان سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ان کی کچھ تفصیل مندرجہ ذیل ہے

نسلوں پر اثرات
میاں بیوی کے جھگڑوں کے دوران استعمال کیے گئے نازیبا جملوں، مارپیٹ اور ذہنی و جسمانی تشدد کے بچوں کے معصوم ذہنوں پرپڑنے والے برے اثرات کا خمیازہ دوسروں کو ہی نہیں‘ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔بچے چونکہ بڑوں سے اثر لیتے ہیں لہٰذا وہ نازیبا باتوںاور تشدد کو جائز سمجھنے لگتے ہیں۔وہ اس کا عملی اظہار نہ صرف دوسرے بچوں پر کرتے ہیں بلکہ جب ان کی شادیاں ہوتی ہیں تو یہی کچھ اپنے شریک حیات کے ساتھ بھی کرتے ہیں ۔یوں ان کی سوچ اور رویے ان کے اہل خانہ‘ ساتھ رہنے‘ پڑھنے اور کام کرنے والوں کی زندگیوں کو بھی دشوار بنادیتا ہے۔

محبت پر عدم یقین
بچوں کی شخصیت کی تعمیر میں محبت بھرے رویے اور پیار بھرا ماحول کلیدی کردار ادا کرتے ہیں لیکن جب انہیں تلخ رویوں کا سامنا کرنا پڑا ہو تو ان کے لیے محبت اور پیار جیسے خوب صورت جذبوں پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ بچے بڑے ہونے پر پائیدار نہیں بلکہ محض مختصر اورعارضی رشتے ہی قائم کرپاتے ہیں۔ کسی مضبوط بندھن میں بندھنااور رشتوں کو نبھانا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
انسان کو معاشرتی حیوان کہا گیاہے‘ اس لئے کہ اسے معاشرے میں رہنے اور آگے بڑھنے کے لیے سماج کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بچے جو ماں باپ کے باہمی اتحاد کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں‘ وہ معاشرے میں متاثرہ بچوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور دیر پا تعلقات بناسکتے ہیں۔ دوسری طرف گھریلو مسائل اور جھگڑوں سے متاثرہ بچے نہ تو اچھے دوست بنا سکتے ہیں اور نہ ہی تعلقات استوار کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

جذبات میں عدم توازن
ایسے بچوں کی شخصیت مکمل نہیں ہوتی۔ اُن کی زندگیوں میں ایک خلا سا رہ جاتا ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔مثلاً وہ اپنی زندگی کے مسائل کو حل کرنے کی مہارت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ ان کے جذبات میں استحکام اور توازن نہیں ہوتا لہٰذا وہ بہت جلد جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔یہ چیز زندگی میں آگے بڑھنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔

ذہنی دبائو‘ ذہنی اضطراب
ایسے بچے ذہنی دبائو یاڈپریشن کا شکار رہتے ہیں ۔ اس کی نمایاں علامات میں ہر وقت افسردگی کا شکار رہنا‘ کسی کام میں دل نہ لگنا‘نیند اور بھوک کا متاثر ہونا جس کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن آ جا تا ہے‘ منفی رویوں کی بنا پر دوسروں سے تعلقات خراب کر بیٹھنا اور ذہنی دباؤ کی شدید حالت میں خودکشی کے خیالات آنا شامل ہیں۔اگر والدین بچوں میں یہ علامات دیکھیں تو بروقت ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ مستقبل میں کسی ناگوا صورت حال یا پریشانی سے بچا جاسکے۔

ذہنی دبائو کے ساتھ ساتھ ایسے بچوں میں بے چینی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ ایک انجانا سا خوف انہیں ہروقت گھیرے رکھتاہے‘ وہ بلاوجہ پریشان رہتے ہیں اور شک یا وہم کا شکار رہتے ہیں۔

کوئی قابل اعتبار نہیں
بچہ ابتدائی زندگی کے تجربات سے جہاںدیگر بہت ساری چیزیں سیکھتا ہے‘ وہیں اس کے ذاتی تجربات اسے لوگوں پر بھروسا کرنا بھی سکھاتے ہیں۔ اگر والدین ہی ایک دوسرے پر اعتبارنہ کرتے ہوں اور اولاد کے سامنے اس کے اظہار سے بھی نہ ہچکچاتے ہوں تو پھراس ماحول میں پرورش پانے والے بچے لوگوں پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ والدین سمیت زندگی میں آنے والے کسی بھی شخص پر اعتماد نہیں کرتے اور لوگوں کے پر خلوص رویوں اور محبت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی اپنی زندگی متا ثر ہوتی ہے بلکہ اردگرد کے لوگ مثلاً جیون ساتھی،رفقائے کار اوردوستوں پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

اپنے آپ کی پہچان
اپنی شخصیت کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو اگر جان کر قبول کر لیا جائے تو زندگی گزارنا آسان ہوجاتا ہے۔اچھے‘ پرسکون اور محبت بھرے ماحول میں پرورش پانے والے بچے یہ ہنر سیکھ لیتے ہیں۔ اس کے برعکس گھریلو جھگڑوں سے متاثرہ بچے ہمیشہ دوسروں کے رویوں میں الجھے رہتے ہیں جس کے باعث وہ خود کو جان نہیں پاتے لہٰذا انہیں زندگی کے مسائل حل کرنے میں دقت ہوتی ہے۔ وہ پوری زندگی دوسروں کے محتاج رہتے ہیں اور منفی عادات مثلاً سگریٹ نوشی وغیرہ کا سہارا لے کر ان سے دھیان ہٹانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔جوں جوں وقت گزرتاجاتا ہے‘ یہ عادات پختہ ہوتی جاتی ہیں اور پھر ان سے جان چھڑانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ایسے بچوں کو کسی رہنما کی تلاش ہوتی ہے لہٰذا ان کے والدین کو چاہئے کہ وہ انہیں ماہر نفسیات کے پاس لے جائیں تاکہ بروقت ان کی مشکل دور ہو سکے۔

بچے سب سمجھتے ہیں
والدین اس مغالطے میں ہوتے ہیں کہ بچہ ابھی چھوٹا ہے اوربعد میں اسے کچھ یاد نہیں رہے گا لیکن حقیقت میںایسا نہیں ہوتا۔اگرچہ سات سے آٹھ سال کی عمر کے بچے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتے لیکن وہ اپنے اردگرد کے منفی اور مثبت رویوں کو جذب کرتے رہتے ہیں اور مستقبل میں یہی رویے ان کی شخصیت کا حصہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہئے کہ بچوں کے سامنے محتاط رہیں‘اپنے مسائل بچوں سے الگ حل کرنے کی کوشش کریں اور ان کے سامنے اتفاق واتحاد کا ماحول پیدا کئے رکھیں۔ انہیں بھر پور پیار اور محبت دیں تاکہ وہ باہر محبتیں تلاش نہ کرتے پھریں ۔

گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ والدین کی لڑائیوں میں سزا ہمیشہ بچے بھگتتے ہیں۔لہٰذا میاں بیوی کوچاہئے کہ آپس کے اختلافات کو طول نہ دیں۔ احترام ، برداشت اور پیار جیسے جذبوں کو شخصیت کا خاصا بنالیا جائے تو جھگڑے جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں۔ اگر اختلاف ہو بھی جائے تو ایک فریق کو چاہئے کہ خاموشی اختیار کرے۔ ایسے میںچنگاری آگ بننے سے رک جاتی اور اس کی تپش سے محبتوں بھرا آشیانہ جلنے اور ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔

دوسری طرف انا کی جنگ میں بعض اوقات میاں بیوی، محبت، وعدے، قسمیں، سب کو بالائے طاق رکھ کر جدا ہونے کے فیصلے کرلیتے ہیں۔ اشتعال کے لمحوں میں وہ ان معصوموں کو بھول جاتے ہیں جن کی پر امید نظریں ہر لمحہ والدین کی طرف لگی رہتی ہیں۔ اگر والدین بچوں کو اپنی زندگی کا محور بنالیں اور ان کی خوشیوں کو ہر شے پر مقدم کرلیں تو پھر ان کے لیے باہمی اختلافات کو بھلانا آسان ہوجاتا ہے اور گھر بکھرنے سے بچ جاتا ہے۔

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x