جھٹکا کھایاہوا بچہ

178

اگرسازوسامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہو تواسے چھوٹے بڑے ڈبوں میں بندکیا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پیک کئے گئے بعض ڈبوں پر ”Handle with Care “ کے الفاظ نمایاں طور پر لکھے ہوتے ہیں۔ اس پیغام کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ ان میں ایسا سامان موجود ہے جو نازک ہونے کی وجہ سے ٹوٹ سکتا ہے لہٰذا انہیں اتارتے اور چڑھاتے وقت خصوصی احتیاط کی جائے۔ننھے بچے بھی پھولوں کی طرح نرم و نازک ہوتے ہیں لہٰذا ان کے معاملے میں بھی خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انہیں پیار میں یا غصے سے جھنجوڑا یا جھٹکا جائے تو انہیں شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جو بچے اس مسئلے کا شکار ہوں‘ ان میں کچھ خاص علامات اور کیفیات پائی جاتیں ہیں جن کے لئے ایس بی ایس (Shaken Baby Syndrome)کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ننھا (زیادہ صورتوں میں ایک سال سے کم عمر ) بچہ بعض اوقات بہت زیادہ روتا ہے۔ وہ بول کر یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کے پیٹ میں مروڑ ہے‘ کان میں درد ہے یا کوئی اور تکلیف ہے۔ والدین ‘ بڑے بہن بھائیوں یا رشتہ داروں کو جب اس کے رونے کی بظاہر کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی تو انہیں اس پر شدید غصہ آتا ہے۔ وہ اتنے چھوٹے بچے کو مارنا نہیں چاہتے،لیکن تھوڑا سا سبق ضرور سکھانا چاہتے ہےں لہٰذا بعض اوقات اسے زور زور سے جھنجوڑتے یا نرم بستر پر پھینک دیتے ہےں۔ وہ سمجھتے ہےں کہ چونکہ انہوںنے بچے کو مارا پیٹانہیں ‘لہٰذا سے کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہ خیال درست نہیں‘ اس لئے کہ جھنجوڑنے کا عمل بھی بچے کے لئے خاصا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
زور زور سے ہلانے پر بچے کے اندورنی اعضاءاور خاص طور پر دماغ بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ اس سے خون کی چھوٹی اور نازک رگیں ٹوٹ جاتی ہیں جن سے خون بہنے لگتا ہے۔ ایسی پھٹی ہوئی رگیں کھوپڑی کے اندر اورآنکھوں کے حساس ترین پچھلے حصے پردہ چشم (Retina)میں واقع ہوتی ہیں۔ جھنجوڑے جانے پر بچے کے دماغ میں سوجن ہوجاتی ہے۔ نوزائیدہ بچے کے سر کی ہڈیاں نہ صرف نرم ہوتی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے پوری طرح جڑی نہیںہوتیں تاکہ زچگی کے دوران ماں اسے قدرے آسانی سے جنم دے سکے۔اسی لئے پیدائش کے بعد بچوں کے سر کو اگربغور دیکھا جائے تو اس پر سوجن دکھائی دیتی ہے اور وہ ذرابڑا نظرآتا ہے۔ اگر ماہر امراض چشم جھنجوڑے ہوئے بچے کی اندرونی آنکھ کا بغورمعائنہ کرے تو تقریباً 85 فی صد صورتوں میں وہ اس کے پردہ چشم پر بہتے ہوئے خون کے آثار پائے گا۔
”ایس بی ایس“ کی کچھ ظاہری علامات بھی ہیں۔ مثلاً اگر اس کے دماغ سے خون بہت زیادہ نکل کر سر میں جمع ہوگیا ہو یا دماغ میں بہت سوجن ہوگئی ہو تو نونہال میں دلچسپی اور توانائی سے محرومی یعنی بے حس(Listless) ہونے یا بے ہوشی کی کیفیات پائی جائیں گی۔ اگر وہ ہوش میں ہو تو بہت سی صورتوں میں کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے یا جوکچھ کھاتا ہے اُسے الٹی کردیتا ہے۔ ایسے میںبچہ بہت بے چین ہو سکتا اور شاید روتا بھی ہولیکن نقاہت کی وجہ سے اس کے رونے کی آواز بہت مدہم ہوتی ہے ۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل کر بڑی ہو جاتی ہیں اور بعض بچوں کو مرگی کے دورے بھی پڑنے لگتے ہیں۔ اگر وہ زندہ بچ جائے تو اس کی نشوونما رُک سکتی ہے۔ ایسے بچوں کا وزن ہم عمر بچوں کی نسبت کم ہوتاہے۔
”ایس بی ایس“ کے حامل بچوں کی زیادہ شرح ایسے خاندانوں میں پائی جاتی ہے جن میں گھریلو فضا بچے کی پرورش کے لئے سازگار نہیں ہوتی۔ میاں بیوی میں روزانہ کی بنیاد پر جھگڑے‘ساس بہو میں ناخوشگوار تعلقات یا معاشی مشکلات بہت سے والدین کو ذہنی تناﺅ کا شکار رکھتی ہیں جن کے برے اثرات سے یہ معصوم بھی نہیں بچ پاتے۔ دوسری شادی کی صورت میں پہلی شادی سے ہونے والا بچہ بعض اوقات مرد یا عورت کے لئے ناپسندیدہ ٹھہرتا ہے اور سوتیلی ماں یا باپ کی شفقت سے محروم ہوجاتا ہے ۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے کی دیکھ بھال پر مامور فرد جب اس سے نالاں ہوتا ہے تو اس پر بے جا سختی کرتا ہے۔
جہاں بچے کے لئے ناسازگار ماحول مستقلاً موجود ہو‘ وہاں جھنجوڑے جانے کا عمل باربار اور زیادہ شدت سے دہرایاجاتا ہے۔ ایسے میں اس کے جسم پر پرانی چوٹوں اورزخموں‘ خاص طور پر نیل کے نشانات بھی نظرآسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی کچھ ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہوں اور ان میں جڑنے کے آثار( signs of healing)دکھا دے رہے ہوں ۔بہت سے ناتجربہ کار ڈاکٹروں نے اس مرض کا نام ہی نہیں سنا ہوتا لہٰذا اس مرض کی تشخیص قریب قریب ناممکن ہوجاتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا علامات کا تعلق ”ایس بی ایس“ کی بجائے کسی اور عامل سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر اپنے تجربے کی بنا پرہی فیصلہ کرپاتا ہے کہ بچے کا مرض ”ایس بی ایس“ ہے یا یہ یہ علامات کسی اور مرض مثلاً ماس خورے (Scurvy) وغیرہ کی وجہ سے ہےں جو وٹامن سی کی کمی سے ہوتا ہے۔ بعض ”ایس بی ایس“ بچے موت کاشکار بھی ہوسکتے ہیںجو ایس آئی ڈی ایس (Sudden Infant Death Syndrome ) سے ملتی جلتی کیفیت ہے۔
والدین‘ خصوصاً کم عمر ماﺅں کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ بچے کو جھنجھوڑنا ایک خطرناک عمل ہے جواس کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس لئے اپنے غصے کو کنٹرول میں رکھیں اور انہیں محبت اورپیار دیںتاکہ وہ پھولوں کی طرح پھلیں پھولیں اوران کے بڑھاپے کا سہارا بنیں۔