جنسی زیادتی اپنے بچوں کو بچائیں

جنسی زیادتی اپنے بچوں کو بچائیں

150

4جنوری2018ء کو پنجاب کے شہر قصور کی سات سالہ زینب کوزیادتی کے بعد قتل کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔اس نے جہاں والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا‘ وہاں اس پر شدید عوامی ردعمل بھی سامنے آیا اور میڈیا نے بھی اس کی بھرپور کوریج کی ۔ اس وجہ سے ریاستی ادارے پوری قوت سے حرکت میں آئے جس کا خاطرخواہ نتیجہ نکلا اور بالآخرقاتل پکڑا گیا۔اس نے چونکہ اعتراف جرم بھی کر لیا ہے لہٰذاتوقع رکھنی چاہئے کہ قانون اب اپنا راستہ لے گا اور مجرم کو جلدازجلد اور سخت سزا ملے گی۔امید ہے کہ اس قانونی اور انتظامی عمل کے نتیجے میں ایسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
تاہم ایسے واقعات کی روک تھام میں ایک اہم کردار ’’پرہیزی اقدامات‘‘ کا بھی ہے ۔ ا س سے مراد بچوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اس طرح کے خطرے کو بروقت بھانپ سکیں اور اس سے بچنے کے لئے ممکنہ حفاظتی ردعمل کا اظہار کر سکیں ۔یہ کام گھروں اور تعلیمی اداروں کی سطح پر کیا جانے والا ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس طرح کے افسوسناک واقعات اکادکا نہیں ہیں۔بچوں کے ساتھ زیادتی کے موضوع پر کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم ’’ساحل‘‘ کے مطابق گزشتہ برس جنوری 2017ء سے جون 2017ء کے دوران ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے768 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے168 کا تعلق قصور سے تھا۔ اس سے قبل 2015ء میں اسی شہر سے بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیوز بنا کر فحش ویب سائٹس کو فروخت کرنے کا سکینڈل بھی سامنے آیاتھا۔
بچوں سے زیادتی کے تناظر میں درج ذیل امور قابل توجہ ہیں:
پرائے ہی نہیں‘ اپنے بھی
پاکستان میں اس سے متعلق جامع اور مصدقہ اعداوشمار تو دستیاب نہیں تاہم شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے اور بلوغت کی دہلیز پر نیا نیا قدم رکھنے والے بچے اور بچیاں اس کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ ہوٹلوں پر بحیثیت ویٹر مزدوری کرنے اور گاڑیوں پر کلینراور ہیلپر کے طور پر کام کرنے والے بچوں کے علاوہ ایسے بچے بھی زیادتی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں جنہیں گھروں میں توجہ اورپیار کم ملتاہے ۔
اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ زیادتی کاامکان اجنبی افراد کی طرف سے ہوتا ہے لہٰذا وہ بچوں کو زیادہ وقت گھر پر رہنے اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ دیگر افراد سے میل جول رکھنے سے منع کرتے ہیں تاہم زیادہ تر کیسز میں قریبی رشتہ دار‘ گھریلو ملازمین یادیگر قابل اعتماد افراداس کے مرتکب پائے جاتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن پر کوئی شک نہیں کرتا‘ ان کے لئے بچوں تک رسائی آسان ہوتی ہے‘ ان کے درمیان اعتماد اور بے تکلفی کا رشتہ ہوتا ہے اور انہیں یہ تسلی بھی ہوتی ہے کہ اگر بچے نے ان کی شکایت کر بھی دی تو کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا۔
جنسی زیادتی کے اثرات
جب کسی بچے سے جنسی زیادتی ہوتی ہے تو کم عمری کی وجہ سے اسے پہنچنے والا صدمہ زیادہ شدید ہوتا ہے جس کے طبی اور نفسیاتی اثرات وقتی بھی ہوتے ہیں اور دور رس بھی ۔ مزید برآں اس سے کئی طرح کی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں ۔ ایسے بچوں کی نیند متاثر ہوجاتی ہے اور وہ تعلیمی طور پر بھی پیچھے رہ جاتے ہیں ۔
اگر ہم طویل المدتی اثرات پر بات کریں تو ان میں کئی طرح کے نفسیاتی مسائل اور بیماریاں جنم لے سکتی ہیں جن میں صدمے کے بعدذہنی دبائو(post traumatic stress disorder) ‘ ڈپریشن اور بی پی ڈی (borderline personality disorder) نمایاں ہیں۔بی پی ڈی ایک سنجیدہ نفسیاتی مسئلہ ہے جس کا بچے کے موڈ‘ رویے‘ اپنی ذات کے بارے میں تصوراور کارکردگی سے گہراتعلق ہے۔جنسی زیادتی بچوں میں خودکشی کی شرح بڑھانے کا بھی سبب بنتی ہے اورفرد اپنی عزت نفس اور دوسروں کے ساتھ انسیت کھو سکتا ہے ۔ ایسے بچوں میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ہم فطری طور پر یہ سیکھتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ محبت کے تعلقات کیسے قائم کئے جاتے ہیں۔ اگر جنسی زیادتی کا واقعہ باربار ہوا ہو یا اس کا ذہنی صدمہ شدید ہو تو سیکھنے کا یہ عمل متاثر ہوتاہے ۔یوں مستقبل میں شادیاں ہو جانے پر ان کی ازدواجی زندگیاں بھی متاثر ہوتی ہیں تاہم اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ بچپن میں انہیں پہنچنے والے صدمے کی شدت کیا تھی اورکیا ایسا ایک دفعہ ہی ہوا یا باربار ہوتا رہا۔
بچوں کوکیسے بچائیں
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ والدین اس معاملے کی اہمیت کو سمجھیں اور بچوں کے ساتھ اس موضوع پر بات کریں۔انہیں بتائیں کہ ایسا ہوجانے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لہٰذا جب کوئی بالغ فرد اس طرح کی حرکت کرے تو اس کی بات ماننے سے سختی سے انکار کر دیں اور آپ کو اطلاع کریں۔ اس کے باوجود بچوں کو جنسی زیادتی سے شاید 100فی صد تو نہ بچایاجا سکے‘ اس لئے کہ وہ بڑھوتری کی عمر میں ہوتے ہیں‘ انہیں لوگوں سے ملنا ہوتا ہے اور انہیں کچھ آزادی بھی دینا پڑتی ہے۔تاہم اس موضوع پر بات کر کے‘ گھر میں کچھ اصول اور ضوابط طے کر کے اوران کی عمرکے مطابق کسی حد تک نگرانی کے عمل کو موثر بنا کراس کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لڑکیوں کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے ۔
والدین کو کیسے علم ہو گا
اگر بچوں پروالدین کی گہری نظرہو تو ایسے میں انہیں بچے کے رویے میں نمایاں تبدیلیاں محسوس ہوں گی ۔ وہ بظاہر کوئی وجہ نہ ہونے کے باوجود خوفزدہ نظر آئے گا یا اس کے رویوں میں جارحانہ پن پایا جائے گا۔اگروالدین نے اس سے پہلے اس موضوع پر اس سے بات کی ہے اوران کے اپنے بچے کے ساتھ تعلقات دوستانہ ہیں تو وہ خود ہی انہیں اس کے بارے میں بتا دے گا۔
اگرچھوٹے بچے کے ساتھ ایسا ہوا ہو تو وہ کسی دوسرے کے ساتھ ایسی حرکات کرنے کی نقل کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرے تو اسے خطرے کی گھنٹی سمجھنا چاہئے ۔یہ بات ذہن میں رہے کہ جسمانی اور ذہنی نشوونما کی طرح جنسی نشوونما بھی ایک فطری عمل ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کا اظہار اپنی عمر میں ہی اور فطری انداز میںہی ہوتا ہے ۔
والدین کو کیا کرنا چاہئے؟
جب کوئی بچہ اپنے والدین کو اس طرح کی کوئی بات بتاتا ہے تو بالعموم وہ اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں اور اسے اس بات پر ڈانٹتے ہیںکہ وہ ان کے قریبی عزیز یا رشتہ دار پر الزام لگا رہا ہے۔ ایسا کرنے کی بجائے اُس کی بات پوری توجہ سے سنیں‘ اسے یہ اعتماد دیں کہ وہ آپ سے بات کر سکے اور اسے حوصلہ دیں۔بچے کو سمجھائیں کہ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں اور ساری غلطی اس فرد کی ہے جس نے یہ حرکت کی ہے ۔ اسے بتائیں کہ اس نے آپ کو بتا کر بہادری کا ثبوت دیا ہے ۔ اسے غلطی یا گناہ کے احساس سے نجات دلائیں ۔اس کے بعد اس کی حفاظت کریں۔ آئیڈیل بات تو یہ ہے کہ اس پر قانونی کارروائی کریں اور اسے نظرانداز مت کریں ‘ورنہ ایسا واقعہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔بچے سے کہیں کہ اسے خود پر سوار نہ کرے اورمعمول کی زندگی بسر کرے ۔