تھکاوٹ کی اقسام

تھکاوٹ کی اقسام

ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو مسلسل تھکن کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ ایسے افراد بھی ہیں جن کی تھکن پوری نیند لینے اور مناسب آرام کرنے کے باوجود نہیں جاتی۔ بہت سے لوگ تو فارغ رہنے کے باوجود تھکے رہنے کی شکایت کرتے ہیں۔ تھکن کی دو بڑی اقسام ہیں۔

عام جسمانی تھکن

یہ تھکن شدید محنت کے بعد پیدا ہوتی ہے۔  ایسی صورت میں خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دودھ کا تیزاب  جمع ہوکر توانائی کو چوس لیتے ہیں۔ اس سے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ مناسب آرام کے بعد صورت حال ٹھیک ہوجاتی ہے‘ اس لئے کہ اعصاب کو سستانے اور مناسب آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

مرضیاتی تھکاوٹ

اس قسم کی تھکاوٹ جسمانی نظام میں کسی خلل کی نشاندہی کرتی ہے۔ ذیابیطس‘سرطان‘امراض قلب اور سانس کی بیماریاں مریض کی توانائیاں مسلسل ضائع کرتی رہتی ہیں جن سے اس میں تھکاوٹ اور کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔اس کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں

٭خون کی کمی کے باعث انیمیا کے مریضوں کے اعصاب کو آکسیجن بہت کم پہنچتی ہے لہٰذا وہ اکثر تھکے تھکے سے رہتے ہیں۔

٭پیٹ کے کیڑے بھی جسمانی تھکاوٹ کی وجہ بن جاتے ہیں‘ اس لئے کہ وہ خون کے سرخ ذرات پر پلتے ہیں اور انسانی جسم کو بہتر نشوونمااور توانائی کے اہم ذخیرے سے محروم کردیتے ہیں۔

٭ ہمارے گلے میں ایک چھوٹا سا غدہ ہے جسے ’’تھائی رائیڈ گلینڈ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ غذا کو جذب اور ہضم کرنے کے نظام کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ جب یہ گلینڈ پوری طرح سے متحرک نہیں ہو پاتا تواس نظام میں سُستی آ جاتی ہے۔ اس سے تھکن بھی ہوجاتی ہے۔

٭ گردوں پر ایک اور غدہ ’’ایڈرینل گلینڈ‘‘ پایا جاتا ہے جوبیماریوں اور بیرونی عناصرسے لڑنے میں معاون ہوتا ہے۔ غصہ، ذہنی دبائو ، پریشانیاں‘خوف‘زہریلے مادے اورانفیکشن اسے ہمہ وقت مصروف رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ تھک جاتا ہے۔ اسے ایڈرینل تھکاوٹ کہا جاتا ہے۔

٭ شدید تھکاوٹ کی شکایت کرنے والے بعض افراد اصل میں ڈپریشن کے شکارہوتے ہیں، تاہم تھکاوٹ کی وجہ سے وہ اپنی اصل بیماری کو سمجھ نہیں پاتے۔

خواتین کی تھکن

بہت سی گھریلو خواتین کوبظاہر کوئی جسمانی تکلیف نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہ خود کو بہتر محسوس نہیں کرتیں۔ وہ اکثر سردرد‘ کمردرد‘ بیزاری‘ اعصابی تنائو اور تھکاوٹ کی شکایت کرتی ہیں۔

جس تھکن سے انہیں زیادہ تکلیف پہنچتی ہے‘ وہ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہے۔ انسان جب اپنی فکریں اور پریشانیاں کسی سے نہیں کہہ پاتا تو اس کے پیدا کردہ ذہنی دبائو کی وجہ سے اس کے اعصاب اندر ہی اندر تھکنے لگتے ہیں۔ تھکاوٹ کی شکایت کرنے والی اکثر گھریلو بیویوں کااصل مسئلہ یہی ہے۔

ماہانہ ایام کے دوران بعض خواتین کا خون زیادہ بہتا ہے جس سے ان میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔ یوں خلیوں اور بافتوں (ٹشوز) کو آکسیجن فراہم کرنے کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے جس سے وہ تھکی تھکی سی رہتی ہیں۔

types of fatigue, physical, mental 

LEAVE YOUR COMMENTS