تھلیسیمیا پرہیز علاج سے بہتر

421

 تھلیسیمیا خون کی ایک موروثی بیماری ہے جس کے بڑھتے چلے جانے کی بڑی وجوہات میں اس مرض کے بارے میں لاعلمی،خاندان میں شادیوں کا تسلسل اور شادی سے قبل تھیلیسیمیا کا تشخیصی ٹیسٹ نہ کروانا شامل ہیں۔مرض اور اس سے بچاو¿ کی تدابیر سے متعلق شفاانٹرنیشنل ہسپتال کے ماہر امراض خون ڈاکٹر محمد ایاز سے گفتگو کی روشنی میں ایک معلوماتی تحریر
Thalassemia
15سالہ عائشہ کو پمزاسلام آباد کے چلڈرن ہسپتال میں خون لگایا جا رہاتھا ۔اس کی والدہ نے بتایاکہ اسے تھیلیسیماکا مرض لاحق ہے۔ جب پہلی دفعہ بچی کو ہسپتال لایا گیا تو وہ پانچ ماہ کی تھی ۔اس کی نشوونما اچھی نہیں ہو رہی تھی اور رنگت بھی پیلی ہو گئی تھی ۔چیک اَپ کے بعد انہیں پتا چلا کہ اسے یہ مرض ہے۔”بچی کو خون لگوانے کیلئے ہسپتال آتے ہوئے 15سال ہو گئے ہیں اور اب تواسے ہر10یا 12 دنوں کے بعد خون کی بوتل لگتی ہے۔“
تھیلیسیمیا خون کا ایک مرض ہے ۔سبھی لوگ جانتے ہیںکہ خون کا رنگ سرخ ہے لیکن لوگوں کی بڑی تعداد نہیں جانتی کہ اس کی سرخ رنگت کا سبب سرخ رنگ کا ایک مادہ ہے جسے ”ہیموگلوبن“ کہتے ہیں ۔ اس کا کام آکسیجن کو جسم کے تمام حصوں تک پہنچانا ہے ۔لفظ ”ہیم “کا مطلب ”آئرن“ جبکہ ” گلوبن“ سے مراد ”ایک خاص پروٹین “ ہے جو تھیلیسیمیاکی بیماری میں ٹھیک طرح سے نہیں بنتی۔
خون کے سرخ خلیوں کی زندگی چارماہ ہوتی ہے لیکن پروٹین ٹھیک طرح سے نہ بننے کی وجہ سے ان کی زندگی جلد ختم ہو جاتی ہے۔یوں اس مرض کے شکار بچوں میں ہیموگلوبن کی مقدار کم ہی رہتی ہے۔
انسانی جسم میں ہیموگلوبن دو طرح کی ہوتی ہے ۔ اس کی پہلی قسم وہ ہے جو رحم مادر میں ہوتی ہے۔اسے جنین کی ہموگلوبن“(fetal hemoglobin) کہتے ہیں۔ پیدائش کے بعد بچے کے خون کو خودہیموگلوبن بنانا پڑتی ہے جسے بالغانہ ہیموگلوبن(adult hemoglobin) کہا جاتا ہے ۔تھیلیسیما کے شکار بچے چھ سے آٹھ ماہ تک جنین والی ہیموگلوبن پر گزارہ کرتے ہیں ۔ اس عرصے کے بعدجب ان کے جسم کو خود ہیموگلوبن بنانا پڑتی ہے( جو وہ نہیں بنا پاتے) تو ان کے جسم میں خون کی شدیدکمی ہوجاتی ہے ۔
تھیلیسیمیا کی علامات
اس بیماری میں مبتلا بچے کی نشوونما صحیح طور پر نہیںہوتی جس کی وجہ سے وہ تھکاوٹ کا شکار رہتا ہے،زیادہ سوتاہے،اس کے پیٹ پر سوجن نمودار ہوجاتی ہے ‘چہرے کی ہڈیوں میں ٹیڑھ پن آجاتا ہے اور وہ جلد کی پیلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً 5000بچے اس مرض کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔
مرض کی اقسام
اس کی دو بڑی اقسام درج ذیل ہیں:
تھیلسمیامائنر(thalassaemia minor)
وا لدین میں سے اگر کوئی ایک اس مرض سے پاک ہو جبکہ دوسرے کے خون میں ہیمو گلوبن ٹھیک نہ ہو تو ان کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ تھیلسمیامائنر کا شکارہوگا۔ ایسے بچوں میں خون کی معمولی کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ تھےلسےمےا کی یہ قسم زےادہ خطرناک نہیں ہوتی اوراس مےں مبتلا فرد معمول کی زندگی گزار سکتاہے۔
تھیلسمیامیجر(thalassaemia major)
اگرماں اور باپ‘ دونو ں اس مرض کا شکار ہوں تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے میں اس مرض کی شدےدقسم پائی جائے گی جسے تھلیسیمیا میجر کہتے ہیں ۔ ایک عام شخص میں ہیموگلوبن کی مقدار تقریباً 12گرام فی ڈیسی لیٹر ہوتی ہے جبکہ تھیلسمیامیجر کی صورت میں اس کی مقدار چار گرام فی ڈیسی لیٹر تک گر جاتی ہے۔ایسے میں پیدا ہونے والے بچے جتنا عرصہ زندہ رہتے ہیں‘ اتنا عرصہ انہیں خون کے عطئے کی ضرورت رہتی ہے۔یوں اس کے ساتھ ساتھ اس کا پورا خاندان بھی مشکلات کا شکار رہتا ہے۔
مرض کے مسائل
اس مرض کا پہلا مسئلہ تویہی ہے کہ اس کے شکار فرد کو عمر بھر خون کی ضرورت رہتی ہے جس کا انتظام بہت مشکل کام ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ خون لگانااس مرض کا علاج نہیں بلکہ عارضی انتظام ہے اوریہ ایسے ہی ہے جیسے پیندے میں سراخ والی بالٹی میں پانی کے جگ بھر بھر کے ڈالے جاتے رہیں ۔تیسری بات یہ ہے کہ اضافی خون لگانے سے جسم میں آئرن جمع ہوتا رہتا ہے جس کی زیادتی سے بہت سے اعضاءمتاثر ہوتے ہیں۔اس اضافی آئرن کو جسم سے نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ جب تھیلیسیمیا کے مریض کو اضافی خون دیتے رہتے ہیں تو اس کے جسم میں اس خون کے خلاف ردعمل پیدا ہوجاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب جسم بیرونی خون کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے لہٰذاایسے بچے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
مرض سے بچاو¿
٭اس موروثی بیماری سے بچنے کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ خاندان میں شادیوں کے تسلسل سے گریزکیاجائے۔
٭ترقی ےافتہ ممالک میں شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے خون کا ٹیسٹ الیکٹرو فوریسز (hemoglobin electrophoresis) کروایا جاتا ہے ۔اگرچہ پاکستان میں بھی اس حوالے سے قانون سازی ہو چکی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں شادی سے پہلے اس طرح کے ٹےسٹ کی بات کو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس مرض کا بروقت علم ہو جاتاہے جس سے اگلی نسل کو اس سے محفوظ کیا جا سکتاہے ۔
٭اگر کوئی خاتون اُمید سے ہو تو اب ابتدائی دوماہ کے اندر یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ کہیں تھیلسمیا میجر میں تو مبتلا نہیں۔ اگر ایسا ہو تو حمل ضائع کرنا شرعی اور قانونی ‘ دونوںطور پر جائز ہے۔
٭اگر کوئی شخص خون کی کمی کا شکار ہو تو اس کے علاج سے پہلے ڈاکٹر کو چاہئے کہ مریض کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ ضرورکروالے ‘ اس لئے کہ تھلیسیمیاکے مریض کے لئے آئرن سخت نقصان دہ ہے ۔
گودے کی پیوندکاری
اس کا پائیدار علاج گودے کی پیوندکاری (bone marrow transplant)ہے جو کافی مہنگا ہے لہٰذا ہر شخص اس کے اخراجات اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔اگر یہ پیوندکاری بروقت ہوجائے تو اس بات کے امکانات 80 فی صد بڑھ جاتے ہیں کہ بچہ صحت مند زندگی گزار سکے۔
المختصر، پہلی بات یہ ہے کہ تھلیسیمیا کے بارے میں آگاہی حاصل کی جائے۔دوسری یہ کہ پرہیز کے پہلو کو یقینی بنائیں ‘ اس لئے کہ یہی اس مسئلے کا پائیدارحل ہے۔یہ بات دھیان میں رہے کہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والا بچہ صرف خود ہی تکلیف کا شکار نہیں ہوتابلکہ اس کے تمام اہل خانہ کی زندگی بھی اجیرن ہوجاتی ہے ۔اس لئے کوشش کریں کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے اس بیماری سے خود کو اور اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظ کریں۔

مریض بچوںکی پیدائش
یہ بیماری جراثیم سے نہیں پھیلتی اور نہ ہی یہ کوئی چھوت کی بیماری ہے ۔ یہ ایک موروثی بیماری ہے جو تھیلیسیمیا کے شکارمیاں بیوی کے بچوں کو ہوتی ہے ۔اس سلسلے میں درج ذےل پانچ امکانات ہو سکتے ہےں :
٭اگر اےک نارمل فرداور تھےلسےمیا مائنرکا شکار فرد آپس میں شادی کرےں تو ان کے50فی صد بچے مائنر جبکہ 50فی صد نارمل پےدا ہوں گے ۔
٭ اگر میاں بےوی مےں سے اےک نارمل اور دوسرا تھےلسےمیا مےجر ہو توان کے تمام بچے تھےلیسیمیامائنر پےدا ہوں گے ۔
٭اگر مرد اور عورت دونوں تھےلسےمیا مائنرہوں توان کے25 فی صد بچے تھےلسےمیا مےجر‘ 50 فی صد مائنرجبکہ25فی صد نارمل ہوں گے ۔
٭اگرمیاں بیوی مےں سے اےک مائنر اور دوسرامےجر ہو توان کے ہاں 50 فی صد بچے مےجر اور 50 فی صد مائنر ہوں گے ۔
٭اگر دونوں میاں بےوی تھیلیسیمیامےجر ہوں تو لا محالہ تمام بچے تھیلیسیمیامےجر ہوں گے ۔