بچیں کیسے…؟ ٹینشن اور ڈپریشن

60

ہمارے ہاں مختلف ذہنی امراض پائے جاتے ہیں اور وہ تیزی سے بڑھ بھی رہے ہیں لیکن ذہنی مریضوں کی زیادہ بڑی تعداد ڈپریشن کے شکار لوگوں پر مشتمل ہے ۔اس کی بہت سی معاشرتی ‘معاشی اورسیاسی وجوہات ہیںجن میںسماجی ناانصافیاں‘ بے روزگاری‘مہنگائی ‘ دہشت گردی ‘ لاقانونیت اور گھریلو جھگڑے نمایاں ہیں۔
بہت سے لوگ ٹینشن اور ڈپریشن کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میںیہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی شخص کا نقصان ہو جائے‘ اس کا کوئی عزیز فوت ہو جائے ‘وہ امتحان میں فیل ہوجائے یا وہ کچھ حاصل نہ کر سکے جو حاصل کرنا چاہتا تھا تووہ ذہنی دبائو کا شکار ہو جائے گا۔اگر یہ کیفیت زیادہ عرصے تک برقراررہے تو وہ اداسی یا ڈپریشن میں مبتلا ہو جائے گا ۔ دوسرے لفظوں میںآپ ٹینشن یاذہنی دبائو کی وجہ سے ڈپریشن میں جا سکتے ہیں۔

ڈپریشن کا علاج
ڈپریشن کا مریض جب سائیکاٹرسٹ کے پاس آتا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے ڈپریشن کی سطح کیاہے ۔بالعموم کسی نقصان‘ امتحان میں ناکامی اور اس طرح کی دیگر چیزوں کا اثرفوری اوروقتی ہوتاہے ۔ایسے میں علاج کاپہلا مرحلہ ایسے افراد کی بات سننا‘ انہیں غبار نکالنے کا موقع فراہم کرنااور انہیںسمجھا ناہوتا ہے۔اس کے لئے تکنیکی زبان میں کونسلنگ یا سائیکوتھیراپی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔

بڑا بھائی‘ دوست ‘باپ‘استاد یا عالم دین سمیت کوئی بھی شخص بنیادی سطح پرمریض کی کونسلنگ کر سکتا ہے تاہم اس کی اورایک تربیت یافتہ فرد کی سائیکوتھیراپی میں بہت فرق ہوگا۔ عام آدمی اور سائیکالوجسٹ میں وہی فرق ہے جو ایک مکینک اورانجینئر میں ہوتا ہے۔اگر سائیکاٹرسٹ کونسلنگ کرے گا تو وہ مریض پر اپنے علم کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استعمال کرے گا جس کا اسے فائدہ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں عام آدمی کی کونسلنگ اندازوں سے ہوتی ہے اوراکثر اوقات موثر ثابت نہیں ہوتی۔

اگر کونسلنگ سے افاقہ نہ ہوتو پھرڈاکٹر ادویات بھی تجویز کرتا ہے۔ڈپریشن بعض اوقات کسی بیرونی وجہ کے بغیر بھی ہو جاتا ہے ۔ ہمارے دماغ میں بہت سی رطوبتیں(سیال مادے)ہوتی ہیں جن کی مقدار میںکمی بیشی سے بھی ڈپریشن کی کیفیت جنم لیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں فرد میںشدید مایوسی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں‘ اسے اپنی زندگی عذاب لگنے لگتی ہے اور وہ بعض اوقات خودکشی کا بھی سوچنے لگتا ہے۔ایسے میں ہم پکی (ڈپریشن دور کرنے والی) ادویات سے علاج شروع کرتے ہیں جو ذرا لمباچلتا ہے ۔

پاگل پن کیا ہے
ڈپریشن اور اضطراب کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ذہنی صحت کومتاثر کرتی ہیں جن کی ایک قسم سائیکوسس (psychosis)یا خللِ دماغی کہلاتی ہے ۔ ان میں مریض کی حالت اتنی خراب ہوتی ہے کہ وہ اپنا مسئلہ خود نہیں بتا سکتا بلکہ دوسرے لوگ اس کی حالت دیکھ کر اس کے مرض کا اندازہ لگاتے ہیں ۔وہ چیخ وپکار کر رہا ہوتاہے‘ لوگوں کو پتھرمار رہاہوتا ہے اوریہ سمجھ کر بھاگ رہا ہوتا ہے کہ کوئی اس کے پیچھے لگا ہواہے۔ان سنگین ذہنی بیماریوں میں شیزوفرینیا‘ بائی پولرافیکٹو ڈس آرڈرزوغیرہ شامل ہیں ۔
گزشتہ سالوں میںعلاج کے طریقہ کار اور ادویا ت میں کافی جدت آئی ہے جس کی وجہ سے علاج کے نتائج میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے ۔ ان بیماریوں میں سے کچھ ایسی ہیں جنہیں علاج کے ذریعے مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے جبکہ کچھ طویل المعیاد امراض میں اگرمسلسل ادویات دی جاتی رہیں تو مریض بہت اچھی زندگی گزار لیتے ہیں۔اس سے ذرا کم درجے کا مسئلہ اعصابی خلل (neurosis) ہے۔یہ نسبتاً ہلکی اعصابی تکلیف ہے جس میں فرد اس قابل ہوتا ہے کہ اپنا مسئلہ خود بیان کر سکے ۔

خوف کا مرض
خوف کا مرض(phobia) پیدائشی نہیں بلکہ زیادہ صورتوں میں ایک سیکھا ہوا رویہ ہے ۔بہت سے لوگوں کو بادلوں کے گرجنے‘ بند کمروں‘ اندھیرے‘ پانی ‘ مرغیوں‘ بلیوں‘ گرگٹ اور بلندی سے خوف آتا ہے ۔ اگر ان کی زندگیوں میں ذرا گہرائی سے جھانکا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچپن میں کوئی نہ کوئی یاد ان چیزوں سے جڑی ہوتی ہے ۔اس سے ان کے ذہنوںمیں خوف بیٹھ جاتا ہے ۔

علاج کے ضمن میں پہلا مرحلہ رویوں میں تبدیلی (behavioral modification) ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر ادویات کا سہارا بھی لیا جاتا ہے ۔سائیکو تھیراپی میں دو طریقے استعمال ہوتے ہیں۔ پہلا طریقے میں مریض کو بتدریج اس ماحول یا چیز سے مانوس کیا جاتا ہے جس سے وہ خوف کھاتا ہے ۔اسے گریڈڈ ایکسپوئیر (graded exposure) کا نام دیا جاتا ہے ۔اس میں اسے بتدریج ان چیزوں سے قریب کیا جاتا ہے۔پہلے وہ اسے دور سے دکھائی جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ اسے ان کے قریب لایا جاتا ہے ۔اس طرح بتدریج اس کا خوف ختم ہو جاتا ہے ۔ دوسرے طریقے میں مریض کو اچانک اس چیز کے سامنے یا اس ماحول میں لایا جاتا ہے۔ مثلاًجسے بلندی سے خوف آتا ہو‘ اسے اچانک بلندی پر لا کر چھوڑ دیاجائے۔ اس سے اضطراب کی سطح اچانک بہت بلند ہوجاتی ہے اور پھر وہ دور ہوجاتا ہے۔اسے فلڈنگ تیکنیک (flooding technique)کہا جاتا ہے ۔بالعموم پہلے طریقے کے زیادہ اچھے تنائج سامنے آتے ہیں۔

جنات کی پکڑ
قرآن مجید میں جنات کا بحیثیت مخلوق ذکر ہے اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ جس چیز کا ذکر اس کتاب میں ہے‘ وہ برحق ہے۔اس تناظر میں ہم جنات کی موجودگی پر یقین رکھتے ہیں اورمیں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ اگر آپ کی زندگی میں مافوق الفطرت چیزوں کا عمل دخل ہو تو کسی ایسے عالم کے پاس ضرور جائیں جو پڑھا لکھا‘ دیانتدار اور اچھا آدمی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہتاہوں کہ بہت سی بظاہر ’’مافوق الفطرت ‘‘ علامات کی سائنسی اور طبی توجیہہ موجود ہے ۔لوگوں کو چاہئے کہ علاج اور دعا ‘ دونوں سے مدد لیں۔

ذہنی دبائو سے بچائو
ذہنی صحت کو برقرار رکھنے اور ڈپریشن سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کریں‘ قرآن پڑھیں اور نماز اچھی طرح سے ادا کریں۔غیرمسلم دوستوں کو چاہئے کہ اپنے عقیدے کے مطابق خدا کو یاد کریں۔ مذہب ایک زبردست قوت ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ یہ چیزیں آپ کو ذہنی سکون دیں گی۔دوسری بات یہ ہے کہ روزانہ اپنی عمر کے مطابق کچھ نہ کچھ ورزش ضرورکریں۔ اگرآپ نوجوان ہیں تو جم جائیں‘ سائیکلنگ کریں اور تیراکی سے لطف اندوز ہوں ۔ اگر آپ ادھیڑ عمر ہیں تو واک کریں ۔ ورزش کے دوران جسم میں ایسے مادے خارج ہوتے ہیں جو آپ کوپورا دن خوش و خرم رکھتے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ اپنی زندگی کو منظم کریں۔ اس سے بھی ذہنی دبائو میں نمایاں کمی آئے گی۔

آپ کو چاہئے کہ زندگی میں کبھی مایوس نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔ زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں نہیں ملتیں۔ ان کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ہمیں اس بات کو مان لینا چاہئے کہ زندگی میں سب کچھ نہ کسی کوملا‘ نہ ملتا ہے اور نہ ملے گا ۔اس لئے اپنی کوشش کرتے رہیں اور جو مل جائے ‘ اس پر خوش رہیں۔ کسی بزرگ کاایک بڑا خوبصورت قول ہے کہ ’خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے ‘۔اگر آپ اپنے سے کمتر لوگوں کو دیکھیں گے تو آپ میں اطمینان کا جذبہ پیداہو گا۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of