بچپن کے خوف

158

خوف وہ جبلت ہے جو انسان ہی نہیں‘ ہر ذی روح کی فطرت میں شامل ہے۔ اگریہ اپنی حدود میں رہے تو بہت کام کی چیز ہے‘ اس لئے کہ یہ خوف ہی ہے جس کی وجہ سے انسان اور جانور اپنی حفاظت پر آمادہ ہوتے ہےں۔ تاہم کچھ خوف ایسے ہیں جو غیرحقیقی ہوتے ہوئے بھی ہماری زندگیوں کو عذاب بنائے رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثرصورتوں میں ان کی جڑیں بچپن میں پیوست ہوتی ہیں۔ بچپن کے خوف بڑے ہونے پر بہت سی اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لئے بچپن کے خوف بچپن میں ہی ختم کر کے ہم اپنے بچوں کی مضبوط اور خود اعتماد شخصیت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ماہرین نفسیات سے گفتگوو¿ں کی روشنی میں صبا عمران کی معلومات افزاءتحریر


میری چھوٹی بہن کی15سالہ دوست سارہ پچھلے دنوں ہمارے گھر آئی تو اس کی نظر ہماری پالتو بلی پر پڑی۔ اسے دیکھتے ہی سارہ نے خوف سے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ ہم سب اس اچانک آفت پر گھبرا اٹھے۔جب اس کے اوسان بحال ہوئے تو اس نے بتایا کہ بچپن میں ایک بار ایک بلی اس پر جھپٹ پڑی تھی۔ اگرچہ اس نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا مگرسارہ کے دل میں بلی کا خوف بیٹھ گیا تھا۔ طرفہ تماشا یہ کہ اس کے والدین اور بہن بھائیوں نے بھی اسے ڈرانے اور کوئی بات منوانے کے لئے حربے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ وہ بات بات پر اسے ’کیٹو مانوآجائے گی… ‘کا ڈراوا دیتے۔ وہ دن اور آج کا دن، بلی کو دیکھتے ہی وہ شدید خوف اور اضطراری کیفیت کا شکار ہوجاتی ہے۔
خوف وہ بنیادی جبلت ہے جو انسان ہی نہیں‘ ہر ذی روح کی فطرت میں شامل ہے۔ اگریہ اپنی حدود میں رہے تو بہت کام کی چیز ہے اس لئے کہ یہ خوف ہی ہے جس کی وجہ سے انسان اور جانور اپنی حفاظت پر آمادہ ہوتے ہےں۔ تاہم کچھ خوف ایسے بھی ہیں جو غیرحقیقی ہوتے ہوئے بھی ہماری زندگیوں کو عذاب بنائے رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثرصورتوں میں ان کی جڑیں بچپن میں پیوست ہوتی ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے بچے دیواروں پر متحرک سائے دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ سائے بالکل بے جان اور بے ضرر ہوتے ہیں لیکن بچوںکے ننھے ذہن اس بات کو قبول نہیںکر پاتے۔ والدین کو چاہئے کہ مختلف کھلونوں کو سامنے رکھ کر ان کا سایہ بنائیں اور بچے کو بتائیں کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے لہٰذا اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
اکثر بچے اندھیرے سے خوف کھاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اندھیرے میں کوئی انہیں پکڑ لے گا۔ ایسی صورت حال میں انہیں ڈانٹنا بالکل غلط ہے۔ اس میں یہ احساس پیدا کریں کہ آپ اس کی حفاظت کیلئے موجود ہیں۔ اس کے لئے کم روشنی کے بلب کا اہتمام کر دیں اور اسے زبردستی اندھیرے میں سونے پر مجبور نہ کریں۔کوشش کریں کہ اندھیرے سے ان کا خوف ختم ہو یا اس کا سامنا اندھیرے سے کم سے کم ہو۔
بچوں کے خوف کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اکثر بچے خود کودلیر ثابت کرنے کے لئے اپنا ڈر چھپا لیتے ہیں تاہم وہ اندر ہی اندر پلتا رہتا ہے۔ ایسے بچے کسی ناخوشگوار صورت حال کا سامنا ہونے پر بری طرح گھبرا جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض بچے والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ڈرنے کی اداکاری بھی کرتے ہیں۔ خوداعتماد ی سے محروم بچے بھی مختلف قسم کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچے کے خوف اور اس کی نوعیت کے حوالے سے مکمل آگاہی حاصل کریں۔
کچھ والدین بچوں کو سوتے وقت ڈراﺅنی کہانیاں سناتے ہیں۔ اس سے بچوں کے ذہن میں غیر مرئی تصویریں اور غیر فطری خیالات جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔بچپن میں حقیقی اور خیالی باتوں میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا انہیں سنائی جانے والی کہانیوں یا ڈراموں کے بھوت پریت ان کیلئے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں اور یہ بھوت بہت ڈراﺅنے ہوتے ہیں۔ اس لئے سوتے وقت بچوں سے اچھی باتیں کریں۔ بہت سے والدین بچوں کو جن یا باباسے ڈرا کر اپنی بات منواتے ہیں۔ اس کے ناخوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اوربچے عمر بھر کے لئے نفسیاتی واہموں کا شکار ہو کر بزدلی اور احساس کمتری کا شکار ہوسکتے ہیں۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ والدین کے خوف موروثی طور پر اولاد کو منتقل ہوجاتے ہیں لیکننقوی مینٹل ہیلتھ کلینک فیصل آباد کے سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر امجد علی اس سے اتفاق نہیں رکھتے‘ تاہم ان کا کہناہے کہ والدین جس طرح بچوں کے سامنے اپنے خوف کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ بچے ان سے لاشعوری طور پر اثرات قبول کر لیتے ہیں۔
سکول میں تعلیم شروع کرتے وقت‘ گھر بدلنے یا کسی بہن بھائی کی پیدائش کے موقع پر بھی بچوں میں خوف کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جو بعض اوقات جسمانی بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر ایک چھے سالہ بچہ روزانہ سکول جاتے وقت پیٹ درد کی شکایت کرے تو ہو سکتا ہے کہ اس کے سکول میں اسے کچھ مسائل ہوں جن کی وجہ سے وہ سکول نہ جانا چاہتا ہو۔ سزا یا پٹائی کا ڈرپیٹ درد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال فیصل آباد کی سائیکالوجسٹ ڈاکٹر عاصمہ ارشد باجوہ کہتی ہیں کہ ہمیں بچوں کو یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ اپنے حقیقی یا محض تصوراتی خوف کو بیان کر سکیں۔ بچوں کو خود ان کے اپنے الفاظ میں ان کے خوف تفصیل سے بیان کرنے دیں:
” اگر کوئی بچہ یہ کہے کہ پلنگ کے نیچے شیر ہے تو اس سے یہ نہ کہیں کہ کیا فضول بات کر رہے ہو۔ایسا کہنے سے بچہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے احساسات کی کوئی اہمیت نہیں اور اسے احمق سمجھا جا رہا ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ بچے سے پوچھیں کہ اگر واقعی پلنگ کے نیچے شیر ہے تو اس کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح خود اعتمادی پیدا کر کے اور چیزوں کو سمجھنے اورجاننے کی صلاحیت پیدا کر کے بچے کو خوف سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی ہمارے خوف کو توجہ سے سنے تو یہ خود بخود ختم ہونے لگتا ہے۔“
یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ چھوٹے بچوں کے منہ میں ایسے الفاظ ڈالیں جن سے انہیں اپنا خوف بیان کرنے میں آسانی ہو۔ اگر بچہ اپنے خوف کو بیان کرنے میں کامیاب ہو جائے تو سمجھ لیں کہ اس نے خوف سے نجات حاصل کرنے کی طرف قدم بڑھا لیا ہے۔ اپنے بچے سے دوستی کریں۔ اس میں یہ احساس مت پیدا ہونے دیں کہ وہ ڈرپوک ہے۔ اس سے مثبت جملے بولیں۔ مثلاً اس سے کہیں کہ ’سب بچے ڈرتے ہیں۔ میں بھی جب آپ جتنا تھا توبہت ڈرتا تھا۔‘ اس طرح بچہ اپنے ڈر اور خوف کے باعث احساس کمتری میں مبتلا ہونے سے بچ سکتا ہے۔
ڈاکٹر عاصمہ کے مطابق بچے کے کسی بھی خوف کا مذاق نہ اڑائیں۔ خیالی خوف بچے کیلئے اتنا ہی حقیقی ہے جتنا آپ کے لئے بندوق تانے ہوئے ڈاکو ایک حقیقت کادرجہ ہوتا ہے۔
بچپن کے خوف بڑے ہونے پر اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لئے بچپن کے خوف بچپن میں ہی ختم کر کے ہم اپنے بچوں کی مضبوط اور خود اعتماد شخصیت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر غلط تربیت اور تکلیف دہ تجربات کے ساتھ ساتھ ہماری لاشعوری طور پر کی جانے والی نامناسب حرکات بچے میں مستقل خوف پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x