• Home
  • Uncategorized
  • بولنا‘ چلنا اور گروتھ چارٹ… نونہال کا پہلا سال

بولنا‘ چلنا اور گروتھ چارٹ… نونہال کا پہلا سال

343

میرا موَحد اپنی عمر کے ساتویں ماہ میں داخل ہو چکا ہے ۔وہ اب پہلے سے زیادہ متحرک اور سیانا ہوچکا ہے اور مجھے اور اپنے بابا کو پہچاننے لگا ہے۔ہمیں دیکھ کر جب وہ ایک مخصوص مسکراہٹ اور لگاو کا اظہار کرتا ہے تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوتا۔ بولنا‘ چلنا اوروزن کا مناسب انداز میں بڑھنابچے کے ابتدائی دور کے اہم مراحل ہیں۔اگر ماو¿ں کے پاس ان کے بارے میں ضروری معلومات ہوں تو وہ ان سے متعلق مسائل کاجلد تدارک کر لیتی ہیں اوران کی زندگی نسبتاًآسان ہو جاتی ہے۔ نئی ماو¿ں کیلئے ناجدہ حمید کی ایک معلوماتی تحریر


وقت اپنی ڈگر پر رواں گزرتا جا رہا ہے اور میرا ”موَحد“ اپنی بڑھتی عمر کے ساتھ نت نئی حرکتیں کرتا میرے تجربے میںاضافہ کرتا جا رہا ہے۔ اس کی ہر عام اور خاص حرکت میرے لےے مسرت کا باعث بنتی ہے۔ وہ اپنی عمر کے ساتویں ماہ میں داخل ہو چکا ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ متحرک اور سیانا ہوچکا ہے۔وہ مجھے اور اپنے بابا کو پہچاننے لگا ہے۔ ہمیں دیکھ کر جب وہ ایک مخصوص مسکراہٹ اور لگاو¿ کا اظہار کرتا ہے تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوتا۔ہر چیز کو غور سے دیکھنا اور نئی چیزوں کی طرف لپکنا اس کا معمول ہے۔ روشنی اور آوازیں اس کی توجہ جلد اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ اگرچہ وہ بولتا نہیں لیکن اپنے موڈ سے پسندیدگی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیتا ہے۔ اور ہاں! اس نے بولنے کی شروعات تو کر ہی دی ہے۔ مجھے اس لمحے کا انتظار ہے جب وہ توتلی زبان میں مجھ سے ڈھیروںباتیں کیا کرے گا۔
پہلے ”ماما “یاپھر ”بابا“

میں موَحد کو تین لفظ” اللہ“، ”بابا“ اور”ماما“ سکھاےا کرتی تھی اور وہ غور سے میری بات سنا کرتا تھا۔ایک دن میرے شوہر مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ کی کیا خواہش ہے کہ موَحد پہلے بابا بلائے یا ماما؟ تو میں بولی ’بابا!‘۔ یہ سن کر وہ کچھ حیران ہوئے اورپھر ہنس دےے کہ چلیں، دیکھتے ہیںکہ وہ پہلا لفظ کیا بولتا ہے۔کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ میں ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ مجھے ایسے لگا جیسے موَحد نے ”بابا“ بولا لیکن میرے دیکھنے پر وہ خاموش ہو گیا۔ دو تین دن بعد اس نے میرے سامنے یہ لفظ بولا تو میں نے اس کی آواز ریکارڈ کر لی۔ جب میں نے اس کی ریکارڈنگ اپنے شوہر کو سنائی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ میری امی کہتی ہیں کہ بچے یوں ہی چھے ماہ کی عمر کے بعد مختلف آوازیں نکالتے ہیں۔کوئی بابابا کہتا ہے اورکوئی دادادا بولتا ہے۔

طاہر میدیکل سنٹرکراچی کے ماہر امراض بچگان ڈاکٹر ابراہیم یوسف کہتے ہیںکہ بچے کے بولنے کا عمل موروثیت اور والدین کے بولنے‘ دونوں پر انحصار کرتا ہے۔ عموماً12 مہینے کی عمر میں وہ مامااور دادا وغیرہ بولنا شروع کر دیتا ہے۔ ڈیڑھ سال تک وہ دو لفظ بولنا شروع کرتا ہے۔ دو سال کی عمرمیں وہ مکمل جملے تو نہیں بولتاالبتہ اپنی بات سمجھا لیتا ہے۔اسی طرح اڑھائی سے تین برس کی عمر تک وہ مکمل طور پربولنا شروع کر دیتا ہے۔ جن بچوں کے پہلے سے بہن بھائی موجود ہوں‘ وہ عموماً اکلوتے بچوںکی نسبت جلدی بولنا شروع کر دیتے ہیں۔جن گھرانوں میں دادی اورنانی مادری زبان (پنجابی‘ پشتو‘ سندھی‘ بلوچی وغیرہ) جبکہ والدین اردو یا انگلش بولتے ہیں‘ وہاں بچے دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے بیک وقت جب اتنی زبانیں سنتے ہیں تو کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ کم از کم بچے سے ایک ہی زبان میں بات کریں تاکہ اسے سمجھنے اورپھر بولنے میں آسانی ہو۔ڈاکٹرابراہیم ےوسف نے مزید بتاےا:

”ویسے توبچے کا توتلا بولنا نارمل بات ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ تاہم اگربعد میں بھی اس کی زبان صاف نہ ہوتو سپیچ تھیراپی کے ذریعے اسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ والدین اور گھر کے دیگر افراد کو چاہےے کہ وہ بچوں کے ساتھ توتلا نہ بولیں کیونکہ بچے جو سنتے ہیں وہی بولتے ہیں۔“
اگر بچہ دو سال کی عمر تک بولنا شروع نہ کرے تو اسے ڈاکٹر کو چیک کرانا چاہےے‘ اس لئے کہ بعض اوقات بچے کی زبان میں کوئی مسئلہ اس کا سبب ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات اسے سپیچ تھیراپسٹ کی طرف ریفر کر دیا جاتا ہے جو بچے کوبولناسکھانے میں مدد دیتا ہے ۔ڈاکٹر ابراہیم کا کہنا ہے کہ ’میں تو والدین کو سپیچ تھیراپی کے ساتھ ساتھ قاعدہ پڑھانے کا بھی مشورہ دیتا ہوں کیونکہ اس میںہر قسم کے الفاظ موجود ہوتے ہیں۔‘

واکر ‘ چلنے میں مددگار؟
بچے نو ماہ کی عمر تک گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ 12 ماہ کی عمر تک وہ کھڑا ہونے کے قابل ہو جاتے ہیںاور میز یابیڈ وغیرہ کوپکڑ کر چکر کاٹتے ہیں۔ ایک سال سے 18 ماہ کی عمر تک بچہ آگے پیچھے چلتا ہے اور 18 ماہ سے دو سال کی عمر تک چلنا شروع کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم ےوسف کہتے ہیں کہ بچے کے بیٹھنے ،چلنے اور بولنے کی خاص عمر کی کوئی گارنٹی نہیں‘ اس لئے کہ بچوں میں اس کے اوقات اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیںاپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا:
”عموماًوالدین بچے کو واکر میںڈال دیتے ہیں تاکہ وہ جلدی چلنا شروع کرے ‘ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ واکر والا بچہ چلنے کے لےے اس پر انحصار کرنے لگتا ہے اور پھر دیر سے چلتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے اگربچے کو سائیکل چلاناسکھانے کے لےے اس کے اطراف میں اضافی ٹائر لگا دیئے جائیں تو وہ سائیکل چلاناجلدی نہیں سیکھتا بلکہ اس میں مزید تاخیر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا واکر بچوں کے لےے فائدہ مند نہیں۔“

بعض بچوں کے دیر سے چلنے کی ایک وجہ ان میں وٹامن ڈی کی کمی بھی ہو سکتی ہے جس کے سبب ان کی ہڈیاں مضبوط نہیں ہوپاتیں۔ اس کے علاوہ کچھ بیماریاں بھی بچے کے دیر سے چلنے کا سبب ہو سکتی ہیں۔تین برس کی عمرتک بچہ نہ چلے تو یہ تشویش کی بات ہے۔
میرا بیٹا موَحد پانچ ماہ کی عمر سے ہی کوشش کرتا تھا کہ جب بھی اسے کوئی اٹھائے تو اسے اس کے پاو¿ںکے بل کھڑا کیا جائے۔ اس کی اس حرکت پر سب ہی خوش ہوتے تھے کہ اس کا ابھی سے کھڑا ہونے کو دل چاہتا ہے ۔میرے بھائی کے سامنے جب موَحد نے یہ حرکت کی اور میں نے اسے پاو¿ں کے بل اپنی گود میں کھڑا کر دیا تووہ بولے کہ بچے کی ہڈیاںاور جوڑکمزور ہوتے ہیں‘ اس لئے وقت سے پہلے انہیں کھڑا نہیںکرنا چاہےے۔ ان کی بات میرے دل کو لگی اور میں نے نہ صرف خود ایسا کرنا چھوڑ دیا بلکہ سب کو بھی منع کر دیا۔اس بات کی تصدیق کے لےے جب میں نے ڈاکٹر ابراہیم سے پوچھا تو ان کا جواب بھی یہی تھا کہ بچے کو وقت سے پہلے کھڑانہیں کرنا چاہےے‘ اس لئے کہ وہ عمر کے ساتھ ساتھ خود ہی یہ سیکھ لیتا ہے۔

وزن اور قد لازمی چیک کرائیں
کچھ بچے دیکھنے میں صحت مند ہوتے ہیں پھر بھی مائیں ان کے بارے میں فکر مند ہی نظر آتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے وزن کا بڑھنا بھی اہم ہے۔ اس سلسلے میںبچوں کے قد کے لحاظ سے وزن کا ایک چارٹ موجود ہے جو اکثراوقات بچوں کے ڈاکٹر کے کمرے میں لگاہوتا ہے۔
ڈاکٹر ابراہیم کہتے ہیںکہ بچے کا وزن پیدائش کے وقت تقریباً سوا تین کلوگرام ہوتاہے جو تین ماہ بعد دوگناہو جاتا ہے۔ایک سال کی عمر میں بچے کا وزن تقریباً10 کلوگرام ہوتا ہے جو دو کلوگرام زیادہ یا کم بھی ہوسکتا ہے۔ ایک سال کے بعد ہر سال بچے کا وزن دو کلوگرام بڑھنا چاہےے۔ اس کے علاوہ بچے کا وزن موروثیت پر بھی انحصار ہے۔ یعنی والدین اگرکمزور ہیں تو بچہ بھی کمزورہوسکتا ہے اورجن خاندانوں میں موٹاپا عام ہے‘ ان کے بچے موٹے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بچے کے وزن کا انحصار اس کے پیدائشی وزن اور خوراک پر بھی ہوتا ہے۔ اگر بچہ دو کلوگرام کا پید اہواہے تو ہم یہ امید نہیں کر سکتے کے سال بعد اس کا وزن 10 کلوگرام ہو گا۔ بچے کا وزن اور قد ہر ماہ ہی چیک کرانا چاہےے۔

 میں نے محسوس کیا کہ موَحد کافی دنوں سے چڑ چڑاسا ہورہا تھا اورکچھ بیمار بھی ہوگیاتھا۔ پہلے تو کچھ سمجھ نہ آئی لیکن جب اس کے نیچے کے نئے نئے دو دانت محسوس ہوئے تو بات کچھ کچھ پلے پڑنے لگی۔ میں نے سنا تو تھا لیکن اب کچھ ےقین سا ہو گیا ہے کہ بچے کیلئے دانت نکالنے کا مرحلہ تکلیف دہ اور سخت ہوتا ہے۔بچوں کی باتیں اتنی ہیں کہ جتنی کی جائیں‘ کم ہی لگتی ہیں۔اللہ انہیں ہمیشہ اپنی امان میں رکھے ۔(آمین)

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of