بلیووہیل ایک اورنفسیاتی جال

بلیووہیل ایک اورنفسیاتی جال

152

    بلیو وہیل(Blue Whale)انٹرنیٹ پر کھیلی جانے والی ایک گیم ہے جس نے اس وقت دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا رکھی ہے۔میڈیا، تعلیمی ادارے، نفسیات دان ،والدین حتیٰ کہ عوام بھی اس کا راز جانے میں مصروف ہیں۔ اس گیم کے معاشرتی و نفسیاتی‘ دونوں طرح کے اثرات ہیں لیکن نفسیاتی اثرات زیادہ اہم ہیں۔
اس خطرناک کھیل کو کھیلنے والے زیادہ تر افراد کی عمریں 14 سے25 سال کے درمیان ہیں۔ یہ ایسے بچوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے جو بے چینی (anxiety)، احساسِ کمتری اور ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ نیز اپنی زندگی سے نالاں،کسی ذہنی بیماری کے شکار اور مالی طور پر پریشان افراد کے علاوہ ایسے نوجوان بھی اس گیم کا حصہ بنے جو دوستوں پر اپنی بہادری کا سکہ جمانا چاہتے تھے۔کھیل کے اثرات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں اور بچوں کوان سے بچانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
بلیو وہیل میں کشش کا اہم سبب اس کھیل کے وہ 50 ”چیلنجز“ ہیں جو ناپختہ عمر کے لوگوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ ان کو پورا کرنا کھلاڑی کو رفتہ رفتہ خود کو نقصان پہچانے اور آخرکار خودکشی پر مجبور کر دیتا ہے۔
بلیو وہیل ‘تخلیق کیسے ہوئی ؟
2013 میں ایک روسی سائیکالوجسٹ فلپ بوڈائیکی (Phillip Budeikin) نے اس کھیل کو تخلیق کیا۔ اس کے مطابق اس کھیل کو ایجاد کرنے کا مقصد معاشرے کو ’بے کار‘ افرادسے نجات دلانا تھا۔ اس کے خیال میںان لوگوں کو مر جانا چاہئے جن کی معاشرے کو ضرورت نہیں ہے۔ روس میں یہ گیم کھیلنے کی وجہ سے 13 افرادکی اموات کے بعدفلپ کو 2014ءمیں گرفتارکرلیا گیا تاہم یہ کھیل اسی طرح کھیلا جاتا رہا‘ حتیٰ کہ 2015ءتک جنوب مشرقی ایشیاءاور پھر یورپ تک جا پہنچا اور خودکشیوں کا سبب بننے لگا۔ اب یہ کھیل بھارت سے ہوتا ہوا پاکستان میں بھی پہنچ گیا ہے۔
 تیکھے سوالات‘امیدوار کا انتخاب
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کھیل میں ایسی کیا خاص بات ہے جو کھلاڑی کو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیتی ہے؟
بلیو وہیل کو ڈاﺅن لوڈ کر کے کھیلا جاتا ہے۔ شروع ہوتے ہی کھیل کانگران (regulator) کھلاڑی سے رابطہ کرتا ہے تاکہ اس کی ”سکریننگ“ کی جا سکے۔اس کے لئے کھلاڑی سے کچھ سوالات کئے جاتے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ اس کی شرائط پوری کرتا ہے یا نہیں۔ یہ سوالات نفسیاتی نوعیت کے ہیں جنہیں اس کے موجد نے بڑی مہارت سے کھلاڑی کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لئے تیار کیا ہے۔ ان کی روشنی میں وہ ایسے کھلاڑی چنتا ہے جو اس کے دئیے گئے تمام کام(tasks) پورا کرنے اور اس سلسلے میں انتہائی قدم اٹھانے تک تیار ہوں۔ باقی افراد کوکھیل کا نگران اسی سطح پرگیم سے باہر نکال دیتا ہے۔ آزمائش کے طور پرہم نے میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک ساتھی کو بلیو وہیل کی سکریننگ کروائی لیکن اس کے جوابات پر نگران نے اسے کھیل سے باہرکر دیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ کھیل ان ناپختہ اور کم عمر افراد کا چناﺅ کرتی ہے جن پر وہ اپنا اثر ڈال سکے۔
سوالات میں کھلاڑی کا سارا ڈیٹا اور پس منظر‘ حتیٰ کہ مستقل پتہ بھی پوچھا جاتا ہے تاکہ اس کو آسانی سے بلیک میل کیا جا سکے۔ نیز کھلاڑی سے یہ سوالات بھی پوچھے جاتے ہیں کہ ”کیا اسے چیلنچ قبول کرنا پسند ہے؟“، ”کیا اسے سنسنی اچھی لگتی ہے؟“، ”کیا وہ پرعزم ہے“ اور پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ ”مجھے نہیں لگتا کہ آپ کھیلنے کے لیے پرعزم ہیں وغیرہ۔“ دراصل ان سوالات سے نہ صرف کھلاڑی کے ذہن کو پڑھا بلکہ اکسایا بھی جاتا ہے۔ اس کے بعد کھیل کے امیدوارکو ای میل کے انتظار کاکہا جاتا ہے جس کے ذریعے اسے منظوری یا نامنظوری کی خبر دی جاتی ہے۔
ٹاسک کا آغاز
اس کے بعد چنے ہوئے کھلاڑی سے وعدہ لیا جاتا ہے کہ وہ اس کھیل کو درمیان میں نہ چھوڑنے کا عزم کرے۔ پھر اس کو 50 مختلف ٹاسکس سونپے جاتے ہیں اورہر ٹاسک کو پورا کرنا لازمی ہوتا ہے۔ ایسا کرنے پر بطور انعام کچھ رقم بھی دی جاتی ہے۔
ان 50 خطرناک کاموں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہیں تیار کرنے والے نے بہت ہوشیاری سے کھلاڑیوں کو پھنسانے کے لیے جال بُنا ہے۔ مثلاً پہلے ٹاسک میںکھلاڑی کو صبح 4:30 پر اٹھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اٹھنے کے بعدکھلاڑی کو ایک پُراسرار کوڈ فراہم کیا جاتا ہے۔ رازدارنہ قسم کی کوڈنگ دینے کا مقصدکھلاڑی کو یہ تاثر دینا ہے کہ وہ کسی بہت ہی خاص اور پراسرار مشن کا حصہ بن رہا ہے۔
پھر کھلاڑی کو اپنے دائیں بازو پر ایک ہلکا سا کٹ لگانے کا ٹاسک دیا جاتا ہے اور ثبوت کے طور پر اس سے اس کٹ کی تصویر مانگی جاتی ہے۔ ہر ٹاسک کے ساتھ کھلاڑی کو باور کروایا جاتا ہے کہ اب چونکہ گیم بنانے والوں نے اس کی تمام تر معلومات حاصل کر لی ہےں‘ اس لئے کھیل چھوڑنااب ممکن نہیں رہا۔ اب نہ صرف وہ بلکہ اس کے گھروالے بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ نگران یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ اگر وہ اس کی تمام معلومات نکلوا سکتا ہے تو پھر کچھ بھی کر سکتا ہے۔
صبح سویرے 4:20 پر اونچی سے اونچی بلڈنگ پر کھڑے ہوکر نیچے دیکھنا، اوروہاں سے اپنی تصویر اتارنا تیسرا ٹاسک ہے۔ اس وقت کو منتخب کرنے کی دو وجوہات ہیں: ایک کھلاڑی میں تنویم کی کیفیت بیدار کی جائے‘ اور دوسری کوئی اس کو نوٹ نہ کر سکے۔
اگلا ٹاسک مزید خطرنا ک ہے جس میں کھلاڑی کو اپنی ٹانگ پر کٹ لگاناہوتا ہے۔کٹ اتنا گہرا ہونا چاہئے کہ خون جاری ہو جائے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اسے اپنے ہاتھ پرتیزدھار آلے سے F55 لکھ کر تصویری ثبوت پیش کرنا ہو گا۔ رفتہ رفتہ کھلاڑی کو جسم کے مختلف حصوں پر کٹ لگانے کے ٹاسک دئیے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ20 نمبر ٹاسک تک جاری رہتا ہے۔ اسے بڑی سے بڑی کمرشل بلڈنگ‘ ریل کی پٹڑی اورپُل کے اوپر جانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اب واپسی ممکن نہیں ہوتی‘ اس لئے کہ انکار پر بلیک میلنگ کی جاتی ہے اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد 20 سے30 نمبر ٹاسک تک وہ کھلاڑی کو صبح سویرے سنسنی خیز اورخوفناک فلمیں دیکھنے کا حکم دیتا ہے۔ ان تکنیکوں کے ذریعے کھلاڑی کاذہن اس بات پر تیار کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی انتہائی اقدام سے انکار نہ کرے۔ اس میں ہپناٹزم کا عنصر بھی شامل ہے۔
چونکہ اس نہج تک پہنچتے پہنچتے کھلاڑی کے لیے خود کو نقصان پہنچانا،خون نکلتے دیکھنا،بلند و بالا عمارتوں اور خطرناک جگہوں پر جانا، پرتشدد فلمیں دیکھناآسان ہو چکا ہے اس لیے اب وہ انتہائی اقدام بھی اٹھانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ رازداری میں ہو رہا ہوتاہے اور کسی کو اس بارے میں کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ پھر30 سے 50 نمبر ٹاسک تک وہ مزید ڈراﺅنی ویڈیوز دیکھنے کا حکم دیتا ہے۔ اب وہ ذہن پر منفی اثرات مرتب کرنے والے گانے بھیجنا بھی شروع کردیتا ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد کھلاڑی کو ڈرانا، ہپناٹائزکرنا اور تشدد پر آمادہ کرکے خودکشی کی جانب لے کر جانا ہے۔
” بلیو وہیل“ کی اصطلاح دراصل ان وہیل مچھلیوںکے لیے استعمال ہوتی ہے جو ساحل پر آکر موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔کھیل کے دوران کھلاڑی سے باربار سوال کیا جاتا ہے کہ”کیا تم بلیو وہیل بنو گے؟“، ”کیا چاقو سے اپنے بازو پر کندہ کرو گے؟“ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کھلاڑی کے ذہن کو اس بات پر تیارکیا جاتا ہے کہ وہ خود کو بلیووہیل تصور کرنے لگے اور آخر میں اپنی زندگی ختم کر لے۔
 نفسیاتی اثرات
بلیو وہیل کے بارے میں تفصیل دینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بچوں کو انٹرنیٹ پر کھیلے جانے والے تمام کھیلوں سے منع کر دیا جائے۔ اس کامقصد صرف آگہی پھیلانا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کھیلوں کے نفسیاتی اثرات پر توجہ دی جائے۔ بلیووہیل کے علاوہ دیگر کھیلوں میں بھی کھلاڑیوں کو منفی ٹاسک دئیے جاتے ہیں جنہیں پورا کرنا ہوتاہے جیسے، مارنا پیٹنا، تشدد اور خون ریزی کرنا وغیرہ۔ ایسی گیمز انسانوں میں سنسنی اور جارحانہ رویوں کے فروغ کا باعث بنتی ہیں۔ بدقسمتی سے ایسی کھیلیں انسان کو اپنا عادی (addicted) بھی بنا لیتی ہیں۔ ہمیں انٹرنیٹ پر گیمز ضرور کھیلنی چاہئیں لیکن صرف وہ جومحفوظ اورذہن پر مثبت اثرات مرتب کریں۔