بخار سے متعلق کچھ مفروضے

1

بخار سے متعلق کچھ مفروضے

بخار سے متعلق کچھ مفروضے اور ان کی حقیقت درج ذیل ہے

مفروضہ

میرے بچے کا جسم گرم ہے لہٰذا اسے بخار ہے۔

حقیقت: دراصل بچوں کو اپنا جسم کئی وجوہات کی بناپر گرم محسوس ہو سکتا ہے۔ پر مشقت کھیل، بہت زیادہ رونا، گرم بسترسے باہرآنا یا گرم موسم میں باہر نکلنا اس کی کچھ مثالیں ہیں۔اس کے باوجود بخار کی شکایت کرنے والے 80 فی صد بچوں کو بخار ہوتا ہے تاہم اس کی صحیح تصدیق یا تردید تھرما میٹر ہی کر سکتا ہے۔

مفروضہ

ایک سو چار ڈگری کا بخار بہت خطرناک ہے اس سے دماغ کونقصان پہنچ سکتا ہے۔

حقیقت: انفیکشن کی وجہ سے بخار دماغ کونقصان نہیں پہنچاتے۔ صرف108ڈگری کے بخار سے ایسا ہو سکتا ہے اور ایسی صورت شاذونادر ہی پیش آتی ہے۔اگرخدانخواستہ کوئی بچہ شدیدگرم موسم میں کار میں بند ہو جائے تو ممکن ہے کہ ایسا ہو جائے ۔

مفروضہ

بخار کی وجہ سے کسی بھی فرد کو دورے پڑ سکتے ہیں۔

حقیقت: ایسا صرف چار فی صد بچوں میں ہوتا ہے۔

مفروضہ

ہر بخار میں دوا دینا ضروری ہے۔

حقیقت: بخار کی دوا صرف اس صورت میں دینی چاہئے جب وہ بے آرامی کا سبب بن رہا ہو۔ اکثر بخار جب تک 102یا 103سے اوپر نہ جائیں، تب تک بے آرامی کا سبب نہیں بنتے۔

مفروضہ

اگر دوا نہ دی گئی تو بخار بڑھتا ہی جائے گا۔

حقیقت: انفیکشن کی وجہ سے بخار عموماً 103 یا104 سے زیادہ نہیں جاتااور105 یا 106 تک توبہت ہی کم پہنچتا ہے۔

مفروضہ

اگر بخار ایک دفعہ کم ہو گیا تو پھراسے کم ہی رہنا چاہئے۔

حقیقت: اگربخار وائرس کی وجہ سے ہو تو وہ چند دن تک رہتا ہے۔اگردوا دی جائے تو بخار کم ہوجاتا ہے لیکن دو کا اثر کم ہونے پر بخار واپس آجاتاہے۔ جب جسم وائرس پر غلبہ پا لے تو بخار ختم ہو جاتا ہے۔

مفروضہ

اگر بخار تیز ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ اس کی وجہ کوئی خطرناک مرض ہے۔

حقیقت: وجہ خطرناک ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔اگر بچہ زیادہ بیمار لگے تو وجہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

myths related to fever, reality, attacks

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x