بائیک حادثات

10

26ستمبر 2018ء کو چکوال کے محلہ لائن پارک کے رہائشی دو سگے بھائی 17سالہ ظہیر اور14سالہ وہاب موٹر سائیکل پر گھر سے نکلے۔ جب وہ واپڈا آفس کے سامنے پہنچے تو انہیں سامنے سے ایک ٹرک آتا دکھائی دیا ۔ انہیں نے جلدی میں اسے کراس کرنا چاہا تو موٹرسائیکل کاٹائر پھسل گیا۔موٹرسائیکل اور دونوں بھائی گرپڑے اور ٹرک کے پچھلے دونوں ٹائر اُن کے اوپر سے گزر گئے ۔ دونوں بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے ۔
جواں سال بچوں کی موت کی خبر سن کر ان کے والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔شفا نیوز کی ٹیم نے جب ان کے والد جمیل اختر سے رابطہ کیا تو ابتداء میں وہ گفتگو کرنے پر راضی نہ تھے‘ پھر بولے:
’’جب ان کا خیال آتا ہے تو ان کے معصوم چہرے آنکھوںکے آگے پھرنے لگتے ہیں۔آنکھیں بھیگ جاتی ہیں‘ دل رنج اور غم سے بھر جاتا ہے اور الفاظ حلق میں ہی اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے بارے میں کیسے کیسے خواب نہیں دیکھ رکھے تھے اور ہمارے ساتھ ہوکیا گیا۔‘‘

وہ چند لمحوں کے لئے رکے اور پھر بولنا شروع ہوئے:
’’اولاد ہرکسی کے لیے بہت ہی پیاری نہیں‘ سب سے پیاری چیز ہو تی ہے اوراگر وہ اس طرح چھن جائے تو اس کا دکھ بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔ شاید ان کی زندگی ہی اتنی تھی‘ مگرکبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اگر ان کو بائیک نہ دیا جاتا تو شاید اتنا بڑا حادثہ نہ ہوتا۔ میں سب والدین سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے بچوں کو کم عمری میں اس کا عادی نہ بنائیں ‘بڑے بچوں کو بھی ہیلمٹ کے بغیر بائیک نہ دیں اور…‘‘
ان کی آواز رندھ گئی اور الفاظ گلے میں ہی گھٹ کر رہ گئے ۔
عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ (2018) کے مطابق دنیابھر میں ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی تعدادتقریباً1.35ملین سالانہ تک پہنچ چکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سڑک حادثات کو دنیا بھر میں5 سے29سال کی عمر کے افراد کے لیے موت کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس طرح جان کی بازی ہارنے والوں کی نصف سے زیادہ تعداد پیدل چلنے والوں‘ سائیکل اور موٹرسائیکل سواروںپر مشتمل ہوتی ہے۔
پی بی ایس (Pakistan Bureau of Statistics )کے مطابق پاکستان میں2017-18کے دوران کل11121 حادثات ہوئے جن میں 5948 لوگ جاں بحق اور 14489 زخمی ہوئے۔ایدھی فائونڈیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں گزشتہ برس کو حادثات کے تناظر میں بدترین قرار دیا ہے جس میں 60فی صد حادثات موٹرسائیکلوں کے تھے ۔ ریسکیو پنجاب کے شعبے’’سیفٹی کمیونٹی اینڈانفارمیشن ‘‘کی سر براہ دیبا شہناز سے جب سوال کیا گیا کہ سڑک پرکس سواری کے حادثات زیادہ دیکھنے میں آتے ہیںتو ان کا کہنا تھا:
’’یہ ایک خوفناک حقیقت ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 1000حادثات ہمارے نوٹس میں آتے ہیں جن میںسب سے زیادہ حادثات جس سواری کو پیش آتے ہیں، وہ ’بائیک‘ ہے۔‘‘
شفانیوز کے ان صفحات میں سڑک پر حادثات کے ضمن میں کسی نہ کسی پہلو سے بات ہوتی ہی رہتی ہے ‘ تاہم زیرنظر مضمون میں اس کے صرف ایک پہلو یعنی موٹرسائیکل کے حادثات‘ ان کی وجوہات اوران سے وابستہ دیگرپہلوئوں پر گفتگو کی جارہی ہے ۔

کم عمری ‘ اوورلوڈنگ
دیبا شہنازسے جب پوچھا گیا کہ موٹرسائیکل حادثات کاسبسے بڑا سبب کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک اس کے بڑے ذمہ دار والدین ہیں جو کم عمری میں ہی بچوں کو یہ لے دیتے ہیں:

’’ بچے تو پھر بچے ہیں جنہیں نہ تو ٹریفک قوانین کا علم ہوتا ہے‘ نہ وہ کسی کی سنتے ہیں اور نہ مناسب احتیاط کرتے ہیں ۔ بعض اوقات چارچار افراد ایک ہی موٹر سائیکل پر سواری کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ خطرناک حادثات کی صورت میں نکلتا ہے۔‘‘
ہیلمٹ سے حادثات میںکمی
سڑک پر حادثات کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں سے متعلق ایک بین الاقوامی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلمٹ کے استعمال سے خطرناک حادثات اور سر کی چوٹوں میں20سے 45فی صد کمی لائی جا سکتی ہے۔ملائشیا میںہیلمٹ کے قانون کوسختی سے نافذ کرنے کے بعد بائیک کے حادثات میں تقریباً30فی صد،اٹلی میں96فی صد اور امریکہ میں 20سے30فی صد کمی دیکھنے میں آئی۔پاکستان میں بھی اس قانون کو نافذ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو کہیں کامیاب ہیں تو کہیں اس کے خاطرخوا نتائج برآمد نہ ہوئے اس کا سبب لوگوں کا اسے اہمیت نہ دینا ہے۔ دیبا شہناز کا کہنا ہے :
’’ہمارے لوگوں میں اسے استعمال کرنے کی عادت نہیں جس کی وجہ سے سر کی چوٹوں کی شرح بھی زیادہ ہے۔ہیلمٹ کی موجودگی میں سر کو ان سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔جب آپ سڑک پر نکلتے ہیں تو خود کو بچانا سب سے پہلے آپ کی اپنی ذمہ داری ہے لہٰذا آپ کو چاہئے کہ احتیاط سے کام لیں۔ ہیلمٹ صرف پٹرول ڈلوانے یا چالان سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے تحفظ کے لئے پہنیں۔‘ ‘

موٹرسائیکلوںکی بہتات
اگرچہ موٹرسائیکل کو ایک خطرناک سواری تصور کیا جاتا ہے لیکن لوگوں‘ خصوصاً مڈل کلاس میں یہ مقبول ہے ۔ 2000ء میں یہاں سالانہ86,959 موٹرسائیکل تیار ہوتے تھے جو 2017ء میں 1,632,965 ہو گئے اور2018ء میں یہ تعداد 20لاکھ سے تجاوز کر گئی ۔آج پاکستان چائنا‘ انڈیا‘ انڈونیشیاء اور ویتنام کے بعد موٹرسائیکلوں کی پانچویں بڑی مارکیٹ ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہاں روزانہ 7500 موٹرسائیکل سڑکوں پر آتے ہیں۔دیبا شہناز کے مطابق ان کا استعمال بڑھنے سے ان کے حادثات کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔

ایک خطرناک تفریح
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 20سالہ ریان ظفرایک پہئے پر موٹرسائیکل چلانے یعنی ’’ون ویلنگ ‘‘کو اپنا پسندیدہ ترین مشغلہ قرار دیتے ہیں۔ان سے پوچھا گیا کہ کیاانہیںاس سے ڈر نہیں لگتاا اورکیا اس کا علم ان کے والدین کو ہے؟ جواب میں انہوں نے کہا:
’’سڑک پر بائیک کو ایک پہیے پر چلاتے ہوئے ڈر نہیں لگتا بلکہ بہت اچھا لگتا ہے کہ بہادری کا کام ہے ۔ اس دوران سڑک پر موجود کچھ لوگ مجھے تحسین بھری تو کچھ خوفزدہ نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ میں اپنے دوستوں میں سے سب سے اچھی ویلنگ کرتا ہوں۔ میں یہ سب کچھ والدین سے چھپ کر کرتا ہوں کیونکہ وہ مجھے اس سے منع کرتے ہیں۔‘‘
اس رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹریفک پولیس اسلام آباد کے ’’روڈ سیفٹی ایجوکیشن ونگ‘‘ کے انچارچ اشتیاق احمدکہتے ہیں:
’’ سڑکوں پر ’ون ویلنگ‘ ایک معاشرتی مسئلہ بھی ہے ۔ پولیس اس حوالے سے سختی کرتی ہے لیکن جب تک والدین‘ اساتذہ اور معاشرہ اپنی ذمہ داری ادانہیں کرتا‘اس وقت تک صرف قانون اور پولیس کی مدد سے اس پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔‘‘

زخمیوں کو احتیاط سے اٹھائیں
ڈاکٹراحمد فواد علی،شعبہ حادثات،شفا انٹر نیشنل اسلام آباد
موٹرسائیکل حادثات میں زخمی ہونے والوں کو ہسپتال پہنچانے میں ریسکیو 1122کاکردار قابل تحسین ہے ۔ان کا عملہ تو عموماً تربیت یافتہ ہوتاہے لیکن دیگر بہت سی صورتوں میں زخمیوںکو ہسپتال پہنچانے والے افراد تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ ایسے میں مریضوں کو ہسپتال لاتے ہوئے زخمی کو اوربہت سی انجریز ہو جاتی ہیں۔جب کسی زخمی کو اٹھایا جاتا ہے توگردن اور ریڑھ کی ہڈی میں حرکت ہوتی جو دوسری چوٹوں کی وجہ بنتی ہے:
’’اس بات کاخاص خیال رکھیں کہ مدد کرنے کی کوشش میں زخمی کو مزید نقصان نہ پہنچنے پائے۔حادثے کا شکار شخص موٹر سائیکل پر سوار ہو تواس کے جسم کو کم سے کم حرکت دیتے ہوئے سڑک سے ہٹا کر محفوظ جگہ پر لٹا دیں۔اگر اس نے ہیلمٹ پہنا ہوا توسوائے تنگیِ سانس کی صورت کے اس کا ہیلمٹ نہ اتاریں۔ حادثات میں اکثر اموات موقع پر بہت سا خون ضائع ہونے کے باعث ہوتی ہیں‘ اس لئے ضروری ہے کہ زخموں پر صاف کپڑے سے پٹی باند ھ دیں تاکہ خون کو بہنے سے روکا جا سکے۔ ٹریفک حادثے میں ہڈی کے فریکچرکے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ اگرزخمیوں میں چند ایک ایسے بھی ہوں تو انہیں ایک جگہ لیٹے رہنے کا مشورہ دیں اور ان کی ہڈی کو بانس یا گتے وغیر ہ سے سہارا دے کر باندھ دیں تاکہ وہ حرکت نہ کر سکے۔‘‘

ترقی یافتہ ممالک سے موازنہ
دنیا بھر کے ٹریفک حادثات میں سے 90 فی صد ترقی پذیر ممالک میں ہوتے ہیں‘ حالانکہ گاڑیوں کی تعداد ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ ہے۔اشتیاق احمد سے اس کا سبب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں شہریوں میںیہ شعور اجاگر کیا جاتا ہے کہ قوانین ان کے مفاد میں بنائے جاتے ہیں لہٰذا ان کی سختی سے پابندی کی جائے۔جب تک معاشرے کے تمام طبقات اس میںتعاون نہیں کرتے ‘ تب تک بہتر نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے ۔
ان کا کہنا ہے کہ تیزرفتاری پر موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے لئے جرمانہ200 روپے ،ٹریفک سگنل کی خلا ف ورزی کرنے پر 200 روپے، ہیلمٹ نہ پہننے پر 100روپے‘ کم عمری میں ڈرائیونگ پر 500روپے ہے۔ باہرکے ممالک میںیہ جرمانے ہزاروں روپے ہیںجس سے کوئی فرد قانون کی خلاف ورزی کا نہیں سوچتا۔ ہمیںبھی جرمانوں کی شرح پر نظرثانی کرنی چاہئے ۔ اشتیاق احمد کی اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قوانین کے 100فی صد اطلاق نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کمزور قوانین بھی بہرحال حادثات کی ایک وجہ ہیں۔

عید اور یوم آزادی پر حادثات
جشن آزادی اور عید کے مواقع پر نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنی خوشی کا اظہار سائلنسر نکال کر فل سپیڈ میں بائیک چلا کراور ’ون ویلنگ ‘ کر کے کرتی ہے ۔یہ خوشی تب غم میں بدل جاتی ہے جب کوئی نوجوان بائیک چلاتے ہوئے شدید حادثے کا شکار ہو جاتا ہے ۔ٹریفک پولیس اسلام آباد کے ’’روڈ سیفٹی ایجوکیشن ونگ‘‘ کے انچارچ اشتیاق احمدکہتے ہیں کہ ہم تقریبا ً ہر قسم کے سرکاری اور نجی اداروں‘ سکولوں اورکالجوں کا دورہ کرتے ہیں جس میں ہر عمر کے طلباء کو سڑک پر سفر کرنے کے حوالے سے معلومات دی جاتی ہیں‘ تاہم عید اور 14اگست جیسے تہواروں پرہمیں اپنی محنت اپنے سامنے ضائع ہوتی دکھائی دیتی ہے:
’’ اس دن نوجوان لڑکے نہایت ہی تیز رفتاری کے ساتھ ،ہیلمٹ کے بغیراور ’ون ویلنگ ‘کرتے ہوئے جاتے ہیں۔ان میں زیادہ تعداد نا بالغ بچوں کی ہوتی ہے جن کے والدین کو اکثر اوقات پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے ا س وقت کہا ں ہیں۔جب وہ پکڑے جاتے ہیں تو ان کے والدین کو دفتر بلایا جاتا ہے اوران سے دستخط لئے جاتے ہیں کہ اگر یہ بچہ دوبارہ بائیک چلاتے پکڑا گیا تو آپ کے خلاف کیس کیا جائے گاکیونکہ قانون کے مطابق بائیک چلانے کی عمر 18سال ہے‘ یعنی جب بچے کا شناختی کاڑد بن جاتا ہے۔اس کے باوجود اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
ڈاکٹراحمد فواد علی،شعبہ حادثات،شفا انٹر نیشنل اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یوم آزادی‘ چاند رات اور اس طرح کے مواقع پر بہت سے بچے بری طرح زخمی ہو کر یہاں آتے ہیں اور ان کے والدین کو پتابھی نہیں ہوتاکہ ان کاچہیتا کہاں اور کس حال میں ہے ۔ دیکھا گیا ہے کہ حادثے کے وقت ان کی اکثریت نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوتا، وہ بہت تیزرفتاری سے موٹر سائیکل چلا رہے ہوتے ہیں اور اکثر اوقات موقع پر ہی ان کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔زخمیوں کے ہاتھ پائوں ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیںا ورسر پر بھی چوٹیں آئی ہوتی ہیں۔یوم آزادی پر ایسے کیس رات 12بارہ بجے کے بعد زیادہ آتے ہیں جن میں مریض کی حالت اکثر صورتوں میں نازک ہوتی ہے۔ان حادثات کا سب سے زیادہ نقصان ریڑھ کی ہڈی کو ہوتا ہے جس کے باعث بہت سے نوجوان کم عمری میں ہی معذور ہوجاتے ہیں اورپھر عمر بھر معذوری کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔

بائیک سے متعلق احتیاطیں
ریسکیو پنجاب کے شعبے’’سیفٹی کمیونٹی اینڈانفارمیشن ‘‘کی سر براہ دیباشہناز کا کہنا ہے کہسڑک پر سفر کو محفوظ بنانے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں پر سختی سے عمل کریں:
٭اکثر حادثات تیز رفتاری سے ہوتے ہیں، اس سے اجتناب کریں۔
٭بائیک کی بریکوں ‘ شیشوں ‘لائٹس اور ٹائروں کا خیال رکھنا چاہئے۔ ٭بائیک چلاتے ہوئے موبائل فون پرہرگز بات نہ کریں۔
٭لمبے سفر پر بائیک کا استعمال کم سے کم کر یں۔ اگر راستے میں نیند یا تھکاوٹ کا احساس ہو تو محفوظ جگہ پررُک کر کچھ دیر آرام کریں اور گرم گرم چائے یا کافی پئیں۔
٭ٹریفک کے قوانین سیکھیں اور ان کا احترام کریں۔
٭ سفر پر جانے سے پہلے خواب آوریا غنودگی پید اکرنے والی دوائیں ہر گزاستعمال نہ کریں۔
٭نئے سیکھنے والے تربیت حاصل کرنے کے بعد ہی سڑک پر چلائیں۔

مہم جوئی کا شوق، جلدی پہنچنے کی خواہش اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ایسے عوامل ہیں جو حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف خود احتیاط سے بائیک چلانا چاہئے بلکہ دوسرے موٹر سائیکل سواروں پر بھی نظر رکھنی چاہئے‘ اس لئے کہ بعض اوقات کوئی دوسرا شخص آکر ہم سے ٹکرا جاتا ہے۔زندگی بہت قیمتی شے ہے‘ اس لئے اپنے اور اپنے پیاروں کی خاطر اسے عدم احتیاط اور لاپروائی کے ہاتھوںگنوانا نہیں چاہیے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of