ایسی بے توجہی

159

 بچے کسی بھی عمرکے ہوں‘ ان کی معصومیت انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کرہی لیتی ہے۔ اوراگر وہ والدین ہوں تو ان کی دیکھ بھال کو اپنی ترجیحات میں نمایاں جگہ دیتے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کو تو زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تو ماں باپ ہی نہیں‘ ہر سننے والا افسردگی کاشکار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ توہراعتبارسے ایک ہولناک واقعہ تھا۔ بلاشبہ ایسے اکادکا حادثات کی خبریں کبھی کبھار دنیا کے مختلف علاقوں سے سننے میں آجاتی ہیں لیکن بچی کی ہلاکت کے اس واقعے کو تو حادثہ بھی نہیں کہاجاسکتا تھا۔ درحقیقت یہ صریحاً لاپروائی کاکیس تھا جس میں ماں اپنی بچی کو جان بوجھ کر تنہا گھر چھوڑ گئی تھی۔
بچی کی عمر ابھی صرف تین ماہ تھی اور اس کے ماں باپ ایک ایسے پسماندہ علاقے میں رہائش پذیر تھے جہاں صفائی ستھرائی اور دیگر سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ایسے میں کسی تنہا بچی کو بیماریاں ہی نہیں بہت سے دوسرے خطرات بھی لاحق ہوسکتے تھے۔ بچی کی ماں کو کوئی اشدضروری کام بھی نہ تھا لیکن اس کی بدقسمتی کہ ماں نے اسے رات بھر کے لیے گھر پر اکیلا چھوڑ دیا۔
صبح اس ننھی بچی کی لاش اس حالت میں ملی کہ چوہوں نے اس کی زبان، انگلیوں اور آنکھوں سمیت اس کے بہت سے اعضاءکو کھاڈالا تھا۔ جسم کے جواعضاءسلامت بچے تھے‘ ان پر بھی جگہ جگہ چوہوں کے تیز د انتوں سے کاٹنے کے نشانات موجودتھے۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ بچی کے مسلسل رونے اور چیخنے کی آوازوں سے متوجہ ہوکر وہ اس کے پاس پہنچے‘تب ہی خون خون ہوئی بچی کے ساتھ یہ لرزا دینے والا واقعہ ان کے علم میں آیا۔بچی کا جڑواں بھائی خوش قسمت تھا جسے ماں اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ وہ بھی اگرگھر پرموجود ہوتاتو شایدیہی صورت اس کے ساتھ بھی پیش آجاتی۔
توکیاچوہوں کابچی کے پاس آجانا کوئی غیر متوقع بات تھی؟ ایسانہیں تھا۔ خبر کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی عام چوہے نہ تھے بلکہ اس علاقے میں ایسے خونخوار چوہے عام تھے جوبعض اوقات دواور تین فٹ تک کی جسامت کے حامل ہوتے ہیں ۔یہ بھی پتہ چلا کہ چندسال قبل 2011ءمیں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہواتھا جس میں ایسے ہی چوہوں نے والدین کے ساتھ فرش پر سوئی دوننھی بچیوں کوہلاک کر دیاتھا۔
فطری طورپر پڑوس کے تمام ہی لوگ غم وغصہ کی شدید کیفیت محسوس کررہے تھے۔ غصے میں بھری ایک پڑوسی خاتون نے بچی کی ماں کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عورت کو تو اپنے آپ کو ماں کہلوانے کا بھی حق نہیں۔ اس کی جگہ توجیل ہی بنتی ہے۔
پڑوسیوں نے بتایاکہ متاثرہ بچی کاخاندان اس علاقے میں کرایہ دارکے طورپر مقیم تھا۔ بظاہر بچی کے ماں باپ میں کوئی ابنارمل بات نہ تھی۔ گزشتہ ہفتہ وہ جڑواں بھائی بہن کو طبی معائنہ کے لیے ہسپتال بھی لے گئے تھے۔ یوں یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ بچوں کی صحت اور تحفظ کے بارے میں وہ لاتعلق تو نہ تھے۔
توبچی کو تنہا چھوڑ کر ماں آخر گئی کہا ںتھی؟
معلوم ہوا کہ26سالہ ماں مے نوشی کی ایک ایسی محفل میں شرکت کے لیے گئی تھی جہاں لوگ کھل کر شراب پیتے ہیں۔ اس محفل کی نوعیت ایسی (binge drinking) تھی کہ بے تحاشہ شراب پینے کے نتیجے میں اسے ہوش ہی نہ رہااور وہ گھر واپس آنے کی بجائے رات بھر گھر سے باہر رہی۔
نشہ کوئی بھی ہو ، انسانی ذہن اور اس کے افعال پر اثرانداز ہوتاہے۔ اسی لیے مذہبی بحث سے قطع نظر بھی دنیاکے مختلف ملکوں میں اس حوالے سے کچھ نہ کچھ قوانین موجود ہیں۔ ان قوانین کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ نشے میں مبتلا فرد کسی حادثہ کاشکار نہ ہوجائے یا اس کا سبب نہ بن جائے۔ بعض نشہ آور اشیاءپر تو قانوناً پابندی ہوتی ہے‘ اس لئے کہ وہ انسانی صحت پر براہ راست اثر انداز ہوکراسے اندر سے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ تاہم جو اشیاءبراہ راست انسانی صحت پراس حد تک اثرانداز نہ ہوں‘ ان کابھی حد سے زیادہ استعمال یقینی طور پر حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
نوٹ:بچی کی ہلاکت کا یہ واقعہ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کی ایک بستی میں دسمبر 2016میں پیش آیا۔