اندر کا مشکیزہ

156

    کھانے پینے کی چیزیں جتنی بھی مزیداراور خوشبودار ہوں‘ ان کا بنیادی کام ہضم ہو کر جزو بدن بننا اور جسم کو صحت اور توانائی فراہم کرناہے۔ ہاضمے کایہ عمل منہ میں ہی شروع ہوجاتا ہے ۔اس کے مختلف حصوں مثلاً دانت‘ زبان اور لعاب دہن کی مدد سے خوراک کو پیس کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوںمیں تبدیل کیا جاتا ہے ۔ لعاب دہن ایک پھسلانے والا مادہ (lubricant) ہے جو نوالے کو اپنے اندر لپیٹ کر غذا کی نالی میں دھکیل دیتا ہے ۔
خوراک منہ کے اندر چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد غذائی نالی کے ذریعے معدے میں پہنچتی ہے ۔ اسے ہضم کرنے میں معدے کا کردار انتہائی کلیدی ہے جو شکل وشباہت میں مشکیزے سے ملتاجلتاہوتا ہے ۔ایک بالغ انسان کے معدے میں اوسطاً ڈیڑھ لیٹر کھانا اورپانی باآسانی سماجاتا ہے۔معدہ جب خالی ہو تو اس میں ایک منٹ کے دوران متعدد بار حرکت کی لہریں پیدا ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ہمیں بھوک محسوس ہوتی ہے اور ایک محاورے کے مطابق ہمارے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگتے ہیں۔
کھانا یا مائع جات ایک ایک نوالے یا گھونٹ کی صورت میں ہمارے معدے میں پہنچتے ہےں ۔جب یہ بھر جاتا ہے تو دماغ کوپیغام بھیجتا ہے کہ اب مزید کھانے کی ضرورت نہیں لہٰذا فرد خود کوسیرشدہ محسوس کرتا ہے۔ اگر ہم کسی اہم بحث میںمصروف ہوں اورمنہ میں نوالہ موجود ہو تو ہمارا دماغ ہماری شعوری کوشش کے بغیر ہی اُس کے سائز کومحسوس کرتارہتا ہے اور صرف اسی سائز کے نوالے کو حلق سے نیچے جانے دیتا ہے جسے آسانی سے نگلا جاسکتا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تاتو لوگ سوچ سوچ کرنوالے نگلتے‘ وہ ان کے گلے میں پھنس جاتا یا غذائی نالی کی بجائے سانس کی نالی میں جا کر ”اچھو“ کا باعث بنتا،لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے۔
 معدے میں ہاضمے کا عمل
چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے باجود خوراک جب معدے میں پہنچتی ہے تو بھی اس قابل نہیں ہوتی کہ اسے ہضم کیا جا سکے ۔ ایسے میںٹھوس چیزوں خصوصاً گوشت ‘سبزیوں اور پھلوں وغیرہ کو مزید نرم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ معدہ یہ کام اپنے اندر عضلات کی حرکت اور خاص قسم کے رس کی مدد سے کرتا ہے ۔اس میں موجود ”ہائیڈروکلورک ایسڈ“ نامی تیزاب اور خامرے(enzymes) گوشت کو مزید نرم کرنے میںمدد دیتے ہیں۔
ہائیڈروکلورک ایسڈبہت تیز قسم کا تیزاب ہے جو معدے کی دیواروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔لہٰذا اس کے بداثرات سے بچنے کے لئے معدہ اپنی اندرونی دیواروں پرلیس دار پتلے مواد (mucus)کی ایک تہہ بنا دیتا ہے جو ڈھال کی طرح معدے کی جھلی کوبچاتی ہے۔یہ تہہ بلغم جیسی ہوتی ہے جسے ہردوہفتوں کے بعد غلاف کی طرح بدلاجاتا ہے۔ بعض ادویات یادیگر مضرصحت چیزوں کی وجہ سے اس تہہ کو نقصان پہنچتا ہے ۔ جب یہ حفاظتی دیوار ختم ہوجاتی ہے توتیزاب میں موجود خاص قسم کے جراثیم (H.Pylori) کی وجہ سے بعض اوقات معدے میں زخم (اَلسر) بن جاتے ہیں۔اس لئے تیزابیت کو ختم کرنے کے لئے جب دیگر دوائیں دی جاتی ہیں تو ان جراثیم کو ختم کرنے کے لئے اینٹی بائیوٹکس بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر یہ تیزاب انتڑیوں میں داخل ہوجائے تو لبلبے اور انتڑیوں کے رس اپنے اندر موجود الکلی (Alkali)کی مدد سے اسے ناکارہ بنادیتے ہیں۔
معدہ غذا کو عارضی طور پراپنے اندر رکھتا ہے جس کی معیاد کا انحصار غذا کی نوعیت پر ہوتاہے۔مثلاً مشروبات وغیرہ معدے سے انتڑیوں کی طرف جلدبڑھ جاتے ہےں جبکہ ٹھوس غذا دوسے چھ گھنٹوں تک اس میں موجود رہتی ہے۔ٹھوس غذاﺅں میں سے بھی نسبتاًنرم غذا جلد انتڑیوں میں داخل ہوجاتی ہے جبکہ سخت اور مُرغن غذاﺅں کو نرم کرنے میں زیادہ دیر لگتی ہے لہٰذا وہ زیادہ دیر تک اس میں رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی غذائیں کھانے کے بعد زیادہ دیر تک بھوک نہیں لگتی۔
دودھ کو ہضم کرنے کے لئے معدے میں رینین (Rennin)اور پروٹین کے ہاضمے کے لئے پروٹیز (Proteases) نامی خامرے پیدا ہوتے ہےں ۔معدے ہی میں ایک اور اہم عنصر آئی ایفIntrinsic Factor)) بنتاہے جو وٹامن بی 12کو ہضم کرنے میں مدددیتا ہے۔پیٹ کی بعض بیماریاں ایسی ہیںجن سے معدے میں ہاضمے کا عمل رُک جاتا ہے۔مثلاً”اپنڈی سائیٹس“ یا پِتے کا ورم ہو جائے تو کھانا معدے میں ویسے ہی پڑا رہتا ہے اور اکثر اوقات قے کی صورت میں نکل آتا ہے۔
اگر انسانی جسم میں پانی کی کمی (dehydration) ہو تو معدہ کسی حد تک پانی کو براہ راست جذب کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح الکوحل اور بعض ادویات مثلاً اسپرین اور کیفین بھی تھوڑی مقدار میں جذب ہوجاتی ہےں تاہم ہاضمے کا عمل زیادہ ترچھوٹی آنت میں ہی انجام پاتاہے۔
معدے میں غیرخوردنی اشیاء
بعض لوگوں کے معدے میں غیرخوردنی اشیاءبھی موجود ہوتی ہیںجنہیں سرجن آپریشن کے ذریعے باہر نکالتے ہیں ۔ماضی میں یہ کام معدے کو چاک کرکے کیاجاتا تھا لیکن اب ان ناپسندیدہ چیزوں کو ”گیسٹروسکوپ“ کی مدد سے بھی نکالاجاسکتا ہے، تاہم اکثر اوقات اس کے لئے آپریشن کی ہی ضرورت پڑتی ہے ۔میں نے بھی اپنے زمانے میں مریضوں کے معدوںسے بلیڈزاورمیخیںنکالی ہیں۔
بعض نفسیاتی امراض میں مبتلا خواتین اپنے سر کے بال اکھاڑ کر کھاتی رہتی ہیں جو معدے میں ایک گچھے کی صورت میں جمع ہوتے رہتے ہیں ۔ ایک خاتون کے معدے سے بالوں کا ایک فٹ لمبا اور چارانچ قطر کا گُچھا نکالا گیا۔بعض اوقات پھلوں اور سبزیوں کے ریشے بھی ہضم نہ ہونے کی وجہ سے معدے میں جم جاتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو بھوک نہیںلگتی جس کی وجہ سے ان کا وزن بہت کم ہوجاتا ہے۔ لوگوں کے معدوں سے چُھری کانٹے‘بیٹری کے سیلزاور سکے بھی نکالے گئے ہیں۔ بعض مریض تو اپنے مصنوعی دانت بھی نگل جاتے ہیں جنہیں معدے سے نکالناپڑتا ہے۔ان چیزوں میں سے تیز دھاروالے بلیڈز‘کیلیں اور بٹن نما گول بیٹریاںزیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ اکثر چھوٹے بچے بٹن اوربیٹری کے سیل منہ میں ڈال کر نگل جاتے ہیں۔ ان سے نکلنے والا زہریلا مواد معدے یا انتڑیوں کو شدیدنقصان پہنچاتا ہے اوربسااوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔لہٰذا انہیں بہت احتیاط سے پھینکیں تاکہ وہ کسی بچے کے ہاتھ نہ لگنے پائیں ۔یہ آج کل گھڑیوں‘کھلونوں اور مختلف آلات میں عام استعمال ہوتے ہیں لہٰذا احتیاط لازم ہے۔
ڈکار اور ریح
کھانا چباتے وقت نوالے میں کچھ نہ کچھ ہوا بھی شامل ہوجاتی ہے اور پانی کے ہر گھونٹ کے ساتھ بھی ہم کچھ نہ کچھ ہوانگلتے رہتے ہیں۔بعض مشروبات (مثلاً سوڈا اورکولا وغیرہ) میں گیس ملائی جاتی ہے جس سے ان کا ذائقہ مزید اچھا ہوجاتا ہے۔ چیونگم اور گنڈیریاں وغیرہ چوسنے کے دوران بھی ہوا معدے میں چلی جاتی ہے ۔ اسی طرح ہسٹیریا کے بعض مریض لاشعوری طور پر ہوا نگلتے رہتے ہیں جس سے انہیں بدہضمی کی شکایت ہوجاتی ہے۔اسے ایروفیجیا ((Aerophagia کہاجاتا ہے۔
یہ ہوا جب معدے میں پہنچتی ہے تو نوالوں اور مائع جات سے الگ ہو کر معدے کے اوپربائیں حصے میں جمع ہوجاتی ہے اور کھانے کے بعد ڈکار کی صورت میں خارج ہوجاتی ہے۔ ننھے بچے دودھ پینے کے دوران خاصی مقدار میں ہوانگل جاتے ہیں جو پیٹ میں مروڑ پیدا کرتی ہے۔بوتل سے دودھ پینے یا چُوسنی استعمال کرنے والے بچوں میں یہ کیفیت زیادہ ہوتی ہے ۔ایسے بچوں کو دودھ پلانے کے چند لمحوں بعد سیدھا کندھے پر ڈال کر تھپتھپایاجاتا ہے تاکہ گیس ڈکار کی صورت میں خارج ہوجائے۔
بعض اوقات بدہضمی کے ڈکار آنے لگتے ہیں جو بدذائقہ اور بدبودارہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانا معدے میں ہضم نہیں ہوتا اور اس کے اندر جراثیم کی نشوونما سے عمل خمیر ((fermentation شروع ہوجاتا ہے ۔جو گیس ڈکار کی شکل میں معدے سے خارج نہیں ہوتی‘ وہ آگے انتڑیوں کی طرف بڑھ کر بالآخر ’ریح‘ کی صورت میں مقعد سے خارج کردی جاتی ہے۔
معدے کو صحت مند رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم متوازن غذا ، متوازن مقدار میں کھائیں اور مرغن غذاﺅں کا استعمال کم سے کم کریں۔ اس طرح وہ اپناکام باآسانی کر پائے گا اور نتیجتاًہم بھی صحت مند رہیں گے ۔