آپ کیسا پانی پیتے ہیں؟

209

    فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کے لیکچرار محمد علی کا کہنا ہے :
” ےوں تو ہم پینے کےلئے پا نی قرےبی فلٹر ےشن پلانٹ سے لےتے ہےں لےکن احتےا طاً اسے اُبا ل بھی لےتے ہےں۔مےں اگر گھر سے با ہر ہو ں تو کوشش کرتا ہوں کہ منزل پر پہنچ کر ہی پا نی پےا جا ئے۔“
گلگت کی رہا ئشی عنبرین خالد نے اس مو ضوع پر روشنی کچھ اس طرح سے ڈا لی:
” سردےوں مےں بہت سی جگہوں پر برف کو پگھلا کر پےنے کا پا نی حا صل کےا جا تا ہے جو نسبتاً بہتر ہو تا ہے۔ ہم پہاڑوں سے آنے والے پانی کو اےک بڑے کنوئیں نماگڑھے میں ذخیرہ کر لےتے ہےں۔ آلودگےاں نےچے بےٹھ جاتی ہےں جبکہ اوپر کا پانی ہم استعمال کرتے رہتے ہےں۔ “
فیصل آباد سے منصورہ کہتی ہیں:
”ہم نے اپنے گھر مےں وا ٹر فلٹر لگا ےا ہو ا ہے جس کے ذرےعے صا ف پانی حاصل کرتے ہےں۔ جب ےہ فلٹر نہےںتھاتو ہم پا نی کو ابا ل کراستعمال کےا کرتے تھے۔ دوران سفرپےاس بجھانے کےلئے مےں منرل وا ٹر کی اےک بوتل خرےد لےتی ہوں۔ “
راولپنڈی کے رہائشی دانش اقبال نے کہا©:
”© ہما رے علاقے مےں پائپوں کے ذرےعے پانی سپلا ئی ہو تا ہے جو پےنے کے قابل نہےں ہو تا‘ لہٰذا ہم اسے اُبا ل کر بو تلوں مےں بھر کر اور ٹھنڈا کر کے اپنی ضرورت کے مطا بق استعما ل کرتے رہتے ہےں۔ اس علا قے مےں زےادہ تر لوگ سپلائی کے آلودہ پا نی کوپےنے کےلئے براہ راست استعما ل کر تے ہےں“۔
پشاور سے اریبہ منیب کہتی ہیں:
” ہمارے گھر میں پانی کی بورنگ ہوئی ہے۔ہم اسی کا پانی ابال کر پینے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔“
حسن ابدال سے آمنہ کا کہنا ہے:
”ہماری کالونی میں فلٹر پلانٹ لگا ہوا ہے۔ہم وہیں سے پانی بھرتے ہیں اور اسے پینے اور کھانے پکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔“
اٹک سے یاسر سعید اس بارے میں کہتے ہیں:
”ہم منرل واٹراستعمال کرتے ہیںلیکن اس کے باوجود میری امی اسے ابال کر ہی ہمیں پینے کے لئے دیتی ہیں تاکہ جس حد تک ہوسکے بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔“
سرگودھا سے راحت منیر کہتی ہیں:
” ہمارے گھر میں پینے کا پانی کبھی فلٹریشن پلانٹ سے اور کبھی سپلائی کا آتا ہے۔ہم اسے ابال کر کولر میں محفوظ کر لیتے ہیں اور ضرورت کے مطابق استعمال کرتے رہتے ہیں ۔“
علینا خان ‘ژوب(بلوچستان) سے تعلق رکھتی ہیں ۔اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے:
” ہم پینے اور کھانے پکانے کے لئے گھر میں بورنگ کا پانی استعمال کرتے ہیں۔وہ ذائقے میں اتنا میٹھا ہے کہ اسے ابالنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔“


پےنے کے پانی کو20 منٹ تک اُبالےں
سپلا ئی لا ئن کے ذرےعے پانی کی ترسےل مسلسل24گھنٹے نہےں ہو تی۔ جب اس میں وقفہ آتا ہے تو پائپ کسی حد تک خشک ہوجا تے ہےں اور ان مےں بےکٹےرےا پےدا ہو جا تے ہےں۔ ڈےم وغےرہ سے آنے والا پا نی بھلے کتنا ہی صا ف کےوں نہ ہو‘ جب وہ سپلا ئی لا ئن مےں سے گزرتا ہے تو اس مےں بےکٹیرےاکو شا مل ہونے سے روکنا مشکل ہوتاہے ۔انہیں ختم کرنے کا سب سے بہترےن طرےقہ پا نی کو20منٹ تک اُبالنا ہے ۔منرل واٹر ‘زےرزمین گہرا ئی سے حاصل کیا جاتا ہے جس مےں منرل مو جود ہو تے ہےں۔ کنوئےں بھی صحت بخش پا نی کے حصول کا اہم ذرےعہ ہےں‘ اس لئے کہ ان کا پانی بھی گہرائی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ پانی کو ڈھا نپ کر رکھنا ضروری ہے ۔جب تک آپ کو ےہ ےقےن نہ ہو کہ فلٹرےشن پلانٹ کا فلٹر مقررہ مدت کے بعد بدلا جا تا ہے اور پا نی کا معےا ر جانچنے کے لئے باقاعدہ ٹیسٹ کےا جا تا ہے‘ تب تک اس کے پانی کو پےنے سے پہلے ابال لینا چاہئے ۔
(ڈاکٹر ارم شاکر،میڈیکل سپیشلشٹ،شفا انٹر نیشنل ،اسلام آباد)

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

    اگست 2017ءکے آخری ہفتے میں عالمی ادارئہ صحت(ڈبلیو ایچ