آٹزم دماغی کیمسٹری میں خلل

199
ہم دنیا کے متعلق تمام معلومات اپنی پانچ حسوں( دیکھنا‘ سننا‘ چکھنا،سونگھنااورچھونا)سے حاصل کرتے ہیں۔ یہی ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم اس وقت کہاں ہیں اور اردگرد کا ماحول کیسا ہے۔اگر ہم بازار سے سامان خریدنے جائیں تو ہمارادھیان بیک وقت کئی چیزوں پر ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارے سامنے کون سی دکان ہے ،ہم کہاں کھڑے ہیں ،کیا ٹریفک سے محفوظ ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح ہم لونگ روم میں بیٹھے ہوئے اپنے بچوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں، ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور موبائل پر میسجز بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔ ہم یہ تمام کام ایک ہی وقت میں کر رہے ہوتے ہیں‘ اس لئے کہ انسان کوقدرت نے ایک ہی وقت میں بہت سے کام کرنے کی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ بعض بچے ایسا نہیں کرپاتے جس کی وجہ ذہنی نشوونماکی راہ میں رکاوٹ بننے والی ایک پیچیدگی آٹزم (autism)ہے۔
آٹزم کا شکار بچہ اپنے آپ میں گم رہتا ہے اورکسی ایک چیز پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کرپاتا۔ اس کی حرکات وسکنات ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔یہ بیماری بچے کی بول چال‘سماجی تعلقات اور ذہانت جیسے عوامل کو بھی متاثر کرتی ہے۔آٹزم کی مختلف کیفیات کا احاطہ کرنے کے لیے اے ایس ڈی (autism spectrum disorder)
کی اصطلا ح استعمال ہوتی ہے جس میں اسپرجرز سینڈروم (Asperger’s syndrome)
بھی شامل ہے۔اس سینڈروم میں بچے کسی ایک شعبے کی بجائے مختلف شعبوں میں تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔ مثلاً وہ جسمانی حرکات،ذہنی کار کردگی،بولنے کی صلاحیت اور سماجی تعلقات میں اپنے ہم عمروں سے پیچھے رہتے ہیں۔یہ علامات آٹزم کے شکار یعنی اپنی ذات میں گم رہنے والے بچوں میں بھی ملتی ہیں لیکن اسپرجرزسینڈروم کے حامل بچے ذہانت میں اُن بچوں سے قدرے بہتر ہوتے ہیں۔
2014ء میں امریکہ میں سی ڈی سی (Centers for Disease Control and Prevention) کے مطابق ہر 68میں سے ایک بچہ اے ایس ڈی میں مبتلا ہے۔یہ بیماری لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں زیادہ عام ہے یعنی ہر42میں سے ایک لڑکا جبکہ ہر 189میں سے ایک لڑکی اس مرض کی شکارہے۔
مرض کی علامات
اے ایس ڈی کی علامات عام طور پر بچوں میں18ماہ سے تین سال کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔اس میں مبتلا بچے عموماً اپنی نشوونما کے درمیان تین شعبہ جات میں مشکلات کاشکار ہوتے ہیں جو درج ذیل ہیں:
*آپس میں تعلقات یعنی سماجی میل جول میں واضح طور پر عام بچوں سے پیچھے ہونا۔
*زبان اور بول چال میں واضح طور پر اپنے ہم عمر بچوں سے کم ہونا ۔
*رویے اور تخیل(imagination) کو استعمال کرنے میں مشکلات ہونا۔
کم اور شدید علامات
علامات کے تناظر میں اسے دو حصوں یعنی معمولی اور شدید اے ایس ڈی میں تقسیم کیا گیاہے۔معمولی اے ایس ڈی میں اوپر ذکر کی گئی جبکہ شدیدنوعیت میں درج ذیل علامات ظاہر ہوسکتی ہیں:
*بچے کا دوسروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے اجتناب کرنا۔
*اپنا نام پکارے جانے پر متوجہ نہ ہونا۔
*اشارہ نہ کرسکنا اور دوسروں کو کھینچ کر اپنی پسند کی چیز کی طرف متوجہ کرنا
*پنجوں کے بل چلنا ۔
*عام بچوں کی طرح چیزوں کی نقل نہ اتارنا۔
*ماحول میں یا کمرے میں کسی بھی تبدیلی کو برداشت نہ کرنا۔
*ہاتھ میں پکڑی چیز کو گول گول گھماتے رہنا۔
*خطرے کا احساس نہ کرنا۔
*اپنے آپ کویا دوسروں کو مارنا۔
*ہمیشہ کھلونے کے کسی مخصوص حصے یا کسی مخصوص کھلونے سے کھیلنا۔
ان تمام چیزوں کے علاوہ ان میں روشنی‘آوازوں‘لمس یا دوسری حسوں سے حساسیت بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔ ضروری نہیں کہ آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا ہر بچے میں اوپر دی گئی تمام علامات ظاہر ہوں۔
سکول جانے سے پہلے کی عمرمیں علامات
*اتنی اچھی طرح سے الفاظ نہ بولتا ہو جتنا اس عمر کے بچے سے اُمید کی جاتی ہے یا پھربالکل ہی نہ بولے۔
*اپنے اردگرد کے ماحول یا لوگوں کی موجودگی پر توجہ نہ دینا۔
*دوسرے لوگوں کی باتوں یا احساسات کا جواب نہ دینا۔
* ہاتھوں اور انگلیوں کی غیر معمولی حرکات ۔
*کسی خاص آواز یا منظر پر بالکل بھی ردعمل ظاہر نہ کرنا یا بہت زیادہ ردعمل دینا۔
سکول جانے کی عمرمیں علامات
*بولتے وقت غیر معمولی آوازیں نکالنا۔
*بات کا جواب دینے کی بجائے دوسروں کی یا اپنی بات بار بار دہرانا۔
*صرف اُن چیزوں کے بارے میں کھل کر بات کرنا جن میں اُس کی دلچسپی ہویا بہت کم الفاظ استعمال کرنا۔
*دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل میں حصہ لینے میں مشکل محسوس کرنا۔
*دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں دلچسپی نہ لینا۔
*دوسرے بچوں کے کھیل میں غیر مناسب طریقے سے شامل ہونے کی کوشش کرنا۔
*لوگوں کا اپنے قریب آنا پسندنہ کرنا۔
نوجوانی میں علامات
نو عمری میں آٹزم کی علامات درج ذیل ہیں :
*اتنا خودمختار نہ ہو جتنا اس عمر کے نوجوان ہوتے ہیں۔
*زبان و بیاں سے واقف ہونے کے باوجود گفتگو میں حصہ نہ لینا۔
*مختلف سماجی حالات میں گفتگو کا انداز تبدیل نہ کرنا یاطنز نہ سمجھ پانا۔
*اپنے ہم عمروں کی طرح سرگرمیوں یا دلچسپیوں میں شریک نہ ہونا۔
*جدیدٹیکنالوجی سے دیگر ہم عمروں کے مقابلے میں کم واقفیت ہونا۔
*اپنے خیالات کو الفاظ میں ڈھالنے میں دشواری محسوس کرنا۔
اے ایس ڈی ،کیا کیا جائے؟
اے ایس ڈی میں مبتلا بچوں کی انفرادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تین طرح کا طریقہ علاج موثر سمجھا جاتاہے۔ان میں سپیچ تھیراپی (speech therapy)‘رویوں پر مبنی تھیراپی(behavioral therapy)اورآکوپیشنل تھیراپی(occupational therapy)
شامل ہیں۔
رویوں پر مبنی تھیراپی کی مخصوص قسم اے بی اے
(applied behavior analysis)بہتری لانے میں سب سے
زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔
ابھی تک اے ایس ڈی کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے تاہم تھیراپی کی مدد سے بچے کے رویے اور معیار زندگی میں بہتری لائی جاسکتی ہے اور اسے کسی حد تک خودمختارزندگی گزارنے کے قابل کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of