آنکھ کی کہانی ‘ آنکھ کی زبانی

    السلام علیکم دوستو! کیسے ہیں آپ؟
کیا آپ بوجھ سکتے ہیںکہ میں کون ہوں؟
نہیں‘ چلئے اتنا بتا دوں کہ میں آپ ہی کے جسم کا ایک ایساحصہ ہوں جس کے ساتھ رنگ،روشنی اورنظارے وابستہ ہیں۔میرے بغیر زندگی بے رنگ ہے۔
حیرت ہے کہ آپ اب بھی نہیں سمجھے ؟
چلئے! میں آپ کو اپنے بارے میں کچھ اور اشارے دیتی ہوں۔میں زبان نہیں ہوں لہٰذاالفاظ کا استعمال نہیں کرتی‘ تاہم اشاروں کی زبان میں باتیں کر سکتی ہوں۔ ہم دو ہیں اور میں اپنی جڑواں ساتھی کے ساتھ مل کر کام کرنا پسند کرتی ہوں۔
جی ہاں!آپ درست سمجھے۔ میں ”آنکھ“ ہوں اور نہ صرف دیکھتی ہوں بلکہ دیکھنے میں خوبصورت بھی لگتی ہوں اور چہرے کے حسن کو چارچاند لگادیتی ہوں۔ میں بظاہر بہت حساس اورنازک ہوں لیکن پورے جسم میں سب سے زیادہ مضبوط پٹھے میرے ہی ہوتے ہیں۔ میں 10ملین رنگوں میں تمیز کر سکتی ہوں اوراگر کیمرے سے مقابلہ کیا جائے تو میری بینائی 576میگا پکسل ہے۔ میں جسم کا اتنا اہم جزو ہوں کہ دماغ کا50فی صد حصہ میری مدد پر صرف ہوتا ہے۔
کیسا لگاآپ کو؟ کچھ اور بتاﺅں اپنے بارے میں؟ اچھا تو سنئے!
اگر سو نہ رہی ہوں تو مجھے ایک منٹ میں تقریباً 15 سے 20مرتبہ جھپکا جاتاہے۔یہ کام کرنے اور حفاظت کی خاطر قدرت نے مجھے پلکیں عطا کی ہیں۔یہ دراصل چھوٹے چھوٹے بال ہیں جومجھے آلودگی وغیرہ سے بچاتے ہیں۔ان بالوں کی عمرتینسے پانچ ماہ ہوتی ہے۔کچھ لوگ پلکیں لمبی کرنے کی خواہش میں کیسٹر آئل یا دیگر ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں ۔اگر پلکیں پیدائشی طور پر چھوٹی ہوں تو انہیں لمبا نہیں کیا جا سکتا ‘البتہ وہ کسی بیماری وغیرہ کی بنا پر گرنے لگیں تو انہیں کسی نہ کسی طرح گرنے سے بچایا جا سکتاہے۔اگر ایسا ہو تو مجھ پر خود تجربے کرنے کی بجائے ماہر امراض جلد سے رابطہ کریں۔
اچھا! اب میں آپ کو اپنی کچھ بیماریوں کے بارے میں بتانا چاہوں
گی۔ مجھ سے متعلق عام مسائل میں انفیکشن، سوزش (inflammation)،
نظر کی کمزوری،پردئہ چشم کے مسائل ، سفید موتیا، کالا موتیا،بھینگا پن اورنابیناپن شامل ہیں۔ان میں سے کچھ مسائل موروثی نوعیت کے ہوتے ہیں مگر کچھ خالصتاً آپ کی لاپروائی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ان سے بچ کر میری صحت کو بحال رکھا جا سکتا ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں لمبے عرصے تک آپ کو خوبصورت مناظر، خوشنما چیزیںاور آپ کے پیاروں کی شکلیں دکھاتی رہوں؟اگر ایسا ہے تو آپ کو میری پسند و ناپسند کاخیال رکھنا ہوگا۔ وہ کیا ہے؟ آئیے آپ کوبتاتی ہوں۔
میرے پسندیدہ کام وہ ہیں جن کی بدولت میری صحت بہتر رہتی ہے۔ مثلاً اگر آپ میری صفائی کا خیال رکھیں گے تومجھے اچھا لگے گا۔اس کے لئے آپ کو کچھ کام کرنا ہوں گے۔ مثلاً آپ دن میں کم از کم تین بارمجھ پر تازہ پانی کے چھینٹے ماریں۔ چونکہ 90فی صد جراثیم گندے ہاتھوں کے ذریعے مجھ میں منتقل ہوتے ہیں‘اس لیے مجھے چھونے سے پہلے ہاتھ لازماً دھوئیں۔دھوپ اور گردوغبار سے بچنے کے لئے جب آپ چشمہ لگاتے ہیں تو مجھے بہت اچھالگتا ہے۔
لڑکیاں چاہتی ہیں کہ میں ان کے کپڑوں کے رنگوںکے مطابق نیلگوں‘ ہری یا گرے لگوں۔ اس کے لئے وہ لینز استعمال کرتی ہیں جو مجھے بھی اچھا لگتا ہے۔ تاہم اس وقت مجھے بہت برا لگتا ہے جب وہ مجھے صاف نہیں رکھتیں۔انہیں چاہئے کہ ہر دو سے تین دن بعد لینز کا محلول تبدیل کریں اور انہیں لگانے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح سے دھوئیں۔زائدالمعیادلینز ہرگزاستعمال نہ کریں۔
وہ میرے اوپر خوبصورت رنگ برنگا میک اَپ بھی کرتی ہیں۔ یہ مجھے صرف اس صورت میں پسند ہے جب وہ معیاری ہو اوررات کو سونے سے پہلے وہ میک اَپ یالینز اتار دیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو مجھے انفیکشن یاالرجی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مجھے کم از کم آٹھ گھنٹے سونا بھی ہوتا ہے۔اگرمیں مناسب آرام کرلوں تو پورا جسم تازہ دم ہو جاتا ہے۔
اب میں آپ کو اپنی ناپسند کے بارے میں بتاتی ہوں۔
کچھ لوگ میرے اندر غیرمعیاری سرمہ ،عرقِ گلاب حتیٰ کہ شہدتک ڈالتے ہیں جو مجھے بالکل پسند نہیں۔وہ کسی اور عینک یا لینز لگا لیتے ہیں جس سے مجھے ٹھیک طرح سے نظر نہیں آتا اور مجھے انفیکشن یا الرجی کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔جب آپ دھوپ میں چشمہ لگائے بغیر باہر جاتے ہیں تو مجھے برا لگتا ہے‘ اس لئے کہ ایسے میں مضرصحت شعائیں مجھے اور میرے کام کو متاثر کرتی ہیں۔ موبائل کی روشنی‘ خصوصاً رات کے اندھیرے میں مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ میں اس کی وجہ سے سے شدید تھکاوٹ محسوس کرتی ہوں اور بوجھل ہوجاتی ہوں۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ نظر کی کمزوری کی صورت میں کچھ لوگ چشمہ لگوانے میں سستی برتتے ہیں۔ ایسا مت کریں اور چشمہ ہمیشہ معیاری خریدیں کیونکہ غیر معیاری چشمے اور لینز میری صحت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
اب میں آپ کو کچھ ایسی غذاﺅں کے بارے میں بتاﺅں گی جو مجھے صحت مند رکھتی ہیں۔اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ متوازن غذا کھائیں اور مناسب مقدار میں پانی ضرور پئیں۔لیوٹن (lutein)‘ بیٹاکیروٹین(beta carotene)‘ وٹامن ”اے“ اور ”سی“ کے علاوہ اینٹی آکسیڈنٹس‘میری خاص ضرورتیں ہیں۔مالٹے، گاجر، شکرقندی اورخوبانی وغیرہ میں ان کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔وٹامن ”اے“ حاصل کرنے کے اہم ذرائع گاجریں،انڈہ اور پالک ہیں۔ وٹامن ”سی“کا ذریعہ ہر ترش پھل مثلاً لیموں،مالٹا،ٹماٹر اور پائن ایپل وغیرہ ہیں۔ لوبیا، انگور، بینگن،لہسن وغیرہ میں اینٹی آکسیڈنٹس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ غیرمتوازن غذا ،کم پانی،کولا مشروبات،بیکری کی اشیاءخصوصاً میٹھی چیزیں اور زیادہ چاکلیٹ وغیرہ بھی میری صحت کونقصان پہنچا تے ہیں۔
میری اچھی صحت کے لیے ورزش کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ میں آپ کو ایک آسان سی ورزش بتاتی ہوں جو آپ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔ آپ اکیلے ‘خالی الذہن ہو کر ایک کمرے میں بیٹھ جائیں۔ مجھے بند کر کے یہ تصور کریں کہ آپ کا کمرہ سفید اور خوبصورت ہے‘ اس میں خوبصورت پودے رکھے ہیں اور سامنے ایک فریم میں دلکش قدرتی منظر کی تصویر ہے۔پانچ منٹ تک صرف اس تصور اور اپنی سانس پر توجہ دیں اور مجھے کھول دیں۔آپ خود کو بہت فریش محسوس کریں گے۔
توجہ مرکوز رکھنے والی ورزشیں میرے لئے بھی مفید ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ایک ہاتھ میںقلم پکڑیں اوراسے مجھ سے ذرا فاصلے پر لے جائیں۔ اب پوری توجہ اس پر مرکوز رکھتے ہوئے اسے آہستہ آہستہ میری جانب اتنا قریب لائیںکہ وہ ناک سے محض چھ انچ دور رہ جائے۔ پھر اسے آہستہ آہستہ پچھلی پوزیشن پر لے جائیں۔ یہ عمل 10مرتبہ کریں۔ کنپٹی پر انگوٹھے کی مدد سے دائرے کی صورت میںچند سیکنڈز تک مساج کرنے سے بھی میری تھکاوٹ میں کمی آتی ہے۔اس کے علاوہ پیشانی کے درمیان اور آنکھوں کے نیچے ناک کی جانب دائرے کی صورت میں مساج کرنا بھی مجھے سکون دیتا ہے۔ تھکاوٹ کی صورت میں مجھے صرف تین منٹ تک آرام پہنچانے سے بھی میری کارکرگی بحال ہوجاتی ہے۔
امید ہے کہ میرے بارے میںجان کر آپ کو نہ صرف خوشی ہوئی ہو گی بلکہ آپ کی معلومات میں بھی اضافہ ہوا ہو گا۔آخر میں ایک گزارش کرنا چاہوں گی۔ جب آپ ماہر امراض چشم کے مشورے کے بغیر مجھ میں کوئی چیز ڈالتے ہیں تو میں اندر سے کانپ جاتی ہوں اور کبھی کبھی رونے بھی لگتی ہوں۔لہٰذا ڈاکٹرسے پوچھے بغیر خود سے میرا علاج کرنے کی کوشش مت کریں اور نہ کوئی ٹوٹکا آزمائیں۔ آپ نے ”آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل“ والا محاورہ تو سنا ہوگا۔ بس! تھوڑے کہے کو زیادہ سمجھئے۔
آخر میں ایک بات، معلوم نہیں آپ کو کیسی لگے۔
آپ وصیت کر جائیے موت کے بعد میں کسی اور کو تحفتاً دے دی جاﺅں۔ اس طرح میں آپ کے بعد نہ صرف یہ کہ کسی کے کام آجاﺅں گی اور آپ کے لئے صدقہ جاریہ کا باعث بنوں گی بلکہ آپ ہی کے ایک جزو کو دگنی زندگی بھی مل جائے گی۔
اچھا! اب میں تھک گئی ہوں اور بند ہونے لگی ہوں۔ اللہ حافظ!

Vinkmag ad

Read Previous

ذہنی سکون، جسمانی صحت و تندرستی اور توجہ کا ارتکاز

Read Next

آلو پکوڑہ

Most Popular